خوشی آسودگی،سکون اور خودکشی۔۔بلال شوکت آزاد

خبر ہے کہ بھارتی ابھنیتر سوشانت سنگھ راجپوت کی لاش چھت سے جھولتی پائی گئی جسے اولین تفتیشی نتیجے میں خودکشی کہا گیا ہے۔

خودکشی کی بابت تمام مذاہب, دنیاوی قوانین اور اخلاقی اصول بالکل واضح ہیں کہ یہ ایک قبیح اور غلط فعل ہے پر پھر بھی انسان اس کو سرزد کرنے سے باز نہیں آتے۔

کیوں؟

اگر غریب خودکشی کرتا ہے تو وجہ غربت بتائی جاتی ہے۔

مفلس خودکشی کرتا ہے تو وجہ مفلسی بتائی جاتی ہے۔

عاشق خودکشی کرتا ہے تو وجہ عاشقی بتائی جاتی ہے۔

مقروض خودکشی کرتا ہے تو وجہ قرض بتائی جاتی ہے۔

مجرم خودکشی کرتا ہے تو وجہ جرم بتائی جاتی ہے۔

بھوکا خودکشی کرتا ہے تو وجہ بھوک بتائی جاتی ہے۔

طالبعلم خودکشی کرتا ہے تو وجہ تعلیمی بتائی جاتی ہے۔

بے عزت خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے عزتی بتائی جاتی ہے۔

پشیمان خودکشی کرتا ہے تو وجہ پچھتاوہ بتائی جاتی ہے۔

امیر خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے سکونی وغیرہ بتائی جاتی ہے۔

الغرض خودکشی کے جتنے کیس اٹھالیں کوئی بھی کسی وجہ کے بغیر نہیں ملے گا لیکن کیا بتائی گئی وجوہات اتنی اہم اور خودکشی کے قابل ہوتی ہیں کہ انسان اللہ کی دی گئی تمام نعمتوں اور رحمتوں بشمول زندگی کو خود سے اللہ کی مرضی کے بغیر جدا کردے؟

اگر آسودگی اور آسائش, دولت, شہرت اور عزت خوشی اور سکون کے لیے جزو لاینفک ہے تو سوشانت اور اس جیسے دیگر خودکشی کرنے والے افراد کو کیا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ خودکشی کرگزرتے ہیں؟

ویسے سکون اور آسودگی کیا ہے؟

میرے خیال میں غریب کے لیے آسودگی اور سکون غربت سے چھٹکارہ ہے,

مفلس کے لیے آسودگی اور سکون مفلسی سے چھٹکارہ ہے,

عاشق کے لیے آسودگی اور سکون عشق کی تکمیل ہے,

مقروض کے لیے آسودگی اور سکون قرض سے چھٹکارہ ہے,

مجرم کے لیے آسودگی اور سکون جرم کی سزا سے چھٹکارہ ہے,

بھوکے کے لیے آسودگی اور سکون بھوک سے چھٹکارہ ہے,

طالبعلم کے لیے آسودگی اور سکون تعلیمی تکمیل ہے,

بے عزت کے لیے آسودگی اور سکون بے عزتی سے چھٹکارہ ہے,

پشیمان کے لیے آسودگی اور سکون پچھتاوے سے چھٹکارہ ہے,

اور۔۔

امیر کے لیے آسودگی اور سکون نا آسودگی اور بے سکونی سے چھٹکارہ ہے۔

لیکن کیا یہ سب وجوہات اور ان کے ممکنہ حل خودکشی کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟

نہیں, کیوں کہ میرے خیال میں ہماری آسودگی, سکون, دولت یا قیمتی متاع کی تعریفات سراسر غیر معنوی اور وجود حقیقی اور عارضی ہیں اس لیے لیکن انسان خودکشی پر آمادہ ان مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے جن کی تعریفات معنوی اور وجود غیر حقیقی ہے۔

کیسے؟۔۔

وہ ایسے کہ آپ مثال کے طور پر سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو ہی لے لیں۔

کیا وہ غریب, مفلس, عاشق, مقروض, مجرم, بھوکا, طالبعلم, بے عزت, پشیمان یا بے سکون تھا؟

ہوسکتا ہے وہ ان میں سے کچھ بھی نہ ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ ان مذکورہ عنوانات میں سے ایک یا ایک سے زائد عنوانات کا حامل ہو پر اس کی خبر خود سوشانت اور سوائے اللہ کے کسی کو نہ ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کا راز کھل نہ جائے یا پھر اس کے نزدیک سکون اور آسودگی کی تعریف وہ نہ ہو جو عمومی طور پر دنیا میں رائج ہے جیسے کہ دولت, شہرت, عزت اور آزادی و خودمختاری۔ ۔ ۔

پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

پھر یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ جنت کے تمام مزے بھی کسی انسان کو اللہ اس فانی زندگی میں اسی دنیا میں مہیا کردے تب بھی اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی تشنگی, ہوس اور حرص کو ایک وجہ بنادیا ہے کہ انسان کو جنت بھی فانی زندگی کے ساتھ زیادہ دن خوش اور مائل بہ زندگی اور آسودہ و پُرسکون نہیں رکھ سکتی لہذا قیمتی اور اہم کسی انسان کے سکون اور آسودگی کے لیے دولت, شہرت اور عزت نہیں بلکہ وہ شہ, انسان یا عقیدہ و تظریہ ہے جس کی کسی انسان کو سب کچھ ہوکر بھی چاہ ہو لیکن وہ حاصل نہ کرپائے اپنی تمام تر کوششوں اور طاقت کے باوجود۔

مجھے سوشانت سمیت کسی امیر غریب کی خودکشی پر رتی برابر افسوس نہیں ہوتا کہ میرے نزدیک خودکشی ویسے تو مذہبی و قانونی جواز کے ساتھ بھی قابل نفرت ہے پر ذاتی وجوہات میں مجھے خودکشی ایک چڑانے والا اور مایوسی والا فعل لگتا ہے۔

چڑانے والا فعل اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی طرف سے آئی مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی جان لیکر اپنی جان چھڑاتا ہے اور اللہ و اللہ والوں کو چڑاتا ہے کہ لو مجھ سے نہیں ہوتا صبر اور شکر تو میں چلا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو مجھے کیا؟

اور مایوسی والا اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے خود تو مایوس ہوکر چلتا بنتا ہے پر ساتھ ہی معاشرے کو بھی مایوس, بے چین اور بے سکون کرجاتا ہےکہ کوئی اللہ نہیں اور انسان کبھی صبر اور شکر کی منزل نہیں طے کرسکتا۔

بہرحال خودکشی بھی ریپ اور دیگر مذہبی, قانونی اور اخلاقی جرائم کی طرح ایک گناہ کبیرہ اور جرم عظیم ہے جس کی تشہیر اور اس پر افسوس اور رنجیدگی قطعی ہمیں زیب نہیں دیتی بلکہ اس کو بھی تمام گناہوں اور جرائم کی طرح ڈیل کرنا چاہیے پر اب رواج اُلٹے پڑگئے ہیں کہ ہم مثبت باتوں پر پردہ ڈالتے اور شرمندہ ہوتے ہیں جبکہ منفی باتوں کی تشہیر اور ان پر من پسند ردعمل دینے میں سخی ہوگئے ہیں۔

جو بھی ہو خواہ عین وقت قیامت ہو تب بھی خودکشی کا کوئی بھی مذہبی, قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں لہذا جو ایسا کرتا ہے وہ جس طرح اللہ کا مجرم ہے بالکل اسی طرح ہمارا بھی مجرم ہے اس لیے مجرموں سے ہمدردی جتا کر خود بھی ایک جرم کا ارتکاب مت کریں کیونکہ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ جو اسے ناپسند ہے وہ ہمیں پسند ہو۔

خوشی, آسودگی اور سکون چاہتے ہو تو امیر ہو یا غریب بس اللہ کے صابر اور شاکربندے بن جاؤ تو سب مل جائے گا ورنہ خودکشی ہی تمہارا مقدر ٹھہرے گی۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *