محبت کے نام ایک خط۔۔صدیق انجم

سلام اے حسیں مطربہ!

خبر ملی کہ آج تمہارا جنم دن ہے۔ یوں تو مجھے دنوں کے ہیر پھیر میں کوئی خاصی دلچسپی نہیں رہی مگر نہ جانے کیوں آج کا دن مجھے سال کا خوبصورت ترین دن معلوم ہوتا ہے، شاید اس لیے کہ اس کی تمہارے ساتھ نسبت ہے۔تم رنگوں کی حسین دیوی ہو جسے پھیکے موسموں کی ہزار سالہ دعاؤں کو شرفِ باریابی بخشنے کیلئے دھرتی پر بھیجا گیا۔ میرا گمان یہ کہتا ہے کہ خدا نے تمہیں بنانے کے بعد ہی انسان کو اپنی بہترین تخلیق ہونے کے اعزاز سے نوازا ہوگا۔ تم ایک عرصے تک عالمِ ارواح میں روحوں کے لیے سامانِ جلوہ بنی رہی ہوگی۔

خدا نے تمہیں بنا لینے کے بعد تمہاری درماندہ مٹی سے میرا دل تخلیق کیا ہوگا۔یہی سبب ہے کہ میں زمین پر آنے کے بیس برس بعد تک صنفِ بے مایہ کی طرح شہر شہر، گاؤں گاؤں، کوچہ کوچہ سانس کی سبیل کرنے کی خاطر بھٹکتا رہا ہوں۔ طویل مدت تک میں اپنی ذات کے خود ساختہ دائروں میں قید رہا کہ کوئی خارجی قوت آ کر مجھے وہاں سے آزادی کی منادی دے، مگر سب بے سود۔ پھر وہ دن آ گیا کہ قدرت کو میرے سینے میں موجود خلا پر رحم آگیا۔ وہ خزاں کا ایک بے نور دن جب بے خیالی میں ٹہلتے ٹہلتے میں اپنے مرکزے کی طرف چلا آیا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر تم مجھے خزاں میں خوبرو پھولوں کا رنگ اوڑھے، بہاروں کے نغمے گاتی ہوئی دکھائی دی تھیں۔ مجھ پر کوئی سکتہ سا طاری ہو گیا تھا۔ تم کچھ دیر بعد وہاں سے چل دی تھیں ،مگر میرا ذہن تمہارے خواب یا حقیقت ہونے کے معمہ کو سلجھانے میں خاطر خواہ دیر تک جٹا رہا تھا۔ میں نے اپنے سینے کے خلا میں ایک بوجھ محسوس کیا تھا جسے لوگ دل کہہ رہے تھے۔

اےحسیں مطربہ میں ایک مصور تھا جس کے بنائے ہوئے آنکھوں کے خاکے ہند سندھ مرغوب تھے مگر میں تمہاری بھوری آنکھوں کی گہرائی دکھانے میں پیہم ناکام رہا تھا۔ مجھے اپنے زمانے کے سب سے اچھے شاعر ہونے کا زعم تھا مگر میں تمہارے شایان ِ شان ایک شعر بھی نہیں کہہ سکا۔یہ تمھیں دیکھنے کا اعجاز تھا کہ مجھے رومانوی کہانیاں اور شاعری اچھی لگنے لگی تھی۔مجھ میں ایک عرصہ تک تمہیں پانے کا جنون سر چڑھ کر بولتا رہا مگر میں تمہیں روبرو دیکھ کر ہمیشہ خاموش رہا کیونکہ میں جان چکا تھا کہ مجھے تمہارے درد کی تشہیر کے لیے بنایا گیا ہے۔ میں سر بہ سر آسیب تھا جسے تمہارا ہجر جھیلنا تھا۔مجھے خدا نے تمہارے درد کے اعزاز سے نوازنا تھا۔

اے حسیں مطربہ تم خوش نصیب ہو کہ تمہاری چاہے جانے کی فطری خواہش کی تکمیل میری ذات کے توسط سے ہوگی۔اس جہان میں یہ  ہجر جھیلنے کے بدلے میں خدا نے اگلے جہان میں ہمارے نصیبوں میں وصالِ دوام لکھ رکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر مرتبہ تم مجھے اپنی راہ میں حائل دیکھ کر بے رخی سے راستہ بدل لو تاکہ  ایک خلش دل میں سدا سر اٹھائے رکھے اور ایک الاؤ دائم جلتا رہے۔

والسلام

تمہارے درد کا داعی

صدیق انجم!

صدیق انجم
صدیق انجم
شاعر، نثر نگار اور حقیقی ادب کا داعی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *