کُسک فورٹ، چکوال۔۔ظاہر محمود

پچھلے جمعے کی بات ہے، خواجہ عبداللہ نے چکوال کی ایک نواحی بستی بن امیر خاتون کے ایک قبرستان کی تصویر بھیجی کہ جس میں وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق پرانے وقتوں میں شادی کے لیے آنے والی ایک برات کو تہہ و تیغ کر کے وہیں دفنا دیا گیا تھا۔ نظر آنے والی تمام قبریں پتھروں کی تھیں اور آثارِ قدیمہ معلوم ہوتی تھیں۔ میں نے فوراً لقمہ دیا کہ میاں پہلی فرصت میں وہاں لیے چلو۔ خواجہ بھی شوقین مزاج آدمی ہے، بھری جوانی میں کاروبار کی ایسی لَت پڑی ہے کہ ہماری تو کُجا اسے اپنی خبر رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ میرے اکسانے پہ فوراً مان گیا اور ہم جمعہ پڑھتے ہی بن امیر خاتون کی طرف روانہ ہوگئے۔ بن امیر خاتون چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے مگر عالمی شہرت یافتہ ہے۔ بارش ہوتی ہے اور وہاں زمین میں کروڑوں سال پرانے فوسلز کی شکل میں چھپے نوادرات ابلنے لگتے ہیں۔ سنی سنائی بات ہے اور ایک دفعہ نہیں سنی کئی بار سنی ہے کہ بہت سوں نے وہاں بڑے ہاتھ مارے اور لاکھوں کروڑوں چھاپے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور ملک کی دیگر نامور جامعات نے کئی فوسلز اسی پٹی سے دریافت کئے۔ ڈائنوسارز کے ڈھانچے اور ہاتھیوں کے دانت بکثرت پائے گئے۔ خیر جب ہم وہاں پہنچے، آس پاس سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک آدھ گھنٹے کا کام نہیں، اس قبرستان تک پہنچنے کے لیے پورے دن کی ریاضت چاہیے اور ہمیں گاؤں پار کرنے کے بعد دو پہاڑیوں کے درمیان جا کر اسے تلاشنا ہو گا۔ خیر پھر ہم نے واپسی کا رستہ اختیار کیا لیکن چونکہ سورج ڈھلنے میں کافی وقت تھا سو خواجہ صاحب نے ہمیں سرپرائز دینے کا اعلان کیا۔
ہم بھی چل پڑے اُدھر کو، جدھر کو لیے جائے گئے۔

خواجہ صاحب نے چوآ سیدن شاہ کا مرکزی بازار پیچھے چھوڑا اور مغل چوک جا پہنچے، وہاں سے ایک تنگ گلی سے ہوتے ہوئے لہڑ سلطان پور پہنچے اور پھر وٹلی گاؤں سے ہوتے ہوئے سیدھے وادی جھنکار میں جا پہنچے۔ اس وادی میں موجود ہر طرح کی مصنوعیت سے پاک خوبصورت قدرتی گاؤں، کُسک کہلاتا ہے۔ جو کسی زمانے میں ریاستِ کُسک کہلاتی تھی۔ ہم نے ایک طرف گاڑی کھڑی کی اور کسی راہگیر سے اشیائے خوردونوش کی دکان کا پوچھا۔ اس نے جو رستہ بتایا وہ تنگ اور پتھریلی ڈھلوان نما گلیوں سے ہوتا ہوا ایک بند کوٹھڑی کے پاس جا تمام ہوا۔ ایک نحیف بزرگ نے ہمیں پانی پلایا اور ہم نے کھانے پینے کی کچھ اشیا لینے کے ساتھ ساتھ سامنے بلند و بالا چوٹی پہ نظر آنے والی عمارت کی طرف جانے والا مختصر اور آسان رستہ دریافت کیا۔ ہمیں اس منزل کی طرف لے جانے کا منصوبہ خواجہ عبداللہ کا تھا لہذا اس عمارت کی بابت تمام تر معلومات کا منبع بھی خواجہ صاحب بقلم خود تھے۔ چڑھائی شروع ہوئی اور خواجہ صاحب نے اپنے لبوں کو جنبش دی۔ بھائیو یہ کُسک فورٹ ہے۔ کوئی ہزار سال پرانا قلعہ جو یہاں کے مقامی حکمران نے گیارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا۔ چڑھائی اتنی دشوار گزار اور کٹھن ہے کہ پھیپھڑے منہ کو آتے ہیں۔ نہ کوئی پگڈنڈی تراشی ہوئی نہ ہی کوئی واضح رستہ۔ خیر ہم چڑھتے گئے جوں جوں دوا کی۔

جب ہم چوٹی پہ پہنچے تو ایک شاندار دیوہیکل دیوار نظر آئی جس کے آثار کچھ کچھ باقی تھے مگر دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہ کسی قلعے ہی کی دیوار ہے۔ دیوار کے قریب ہوئے تو معلوم ہوا کہ جس سمت سے ہم آئے، اس سمت میں قلعے میں داخل ہونے کا کوئی دروازہ ہی نہیں۔ قلعے کے دو ہی دروازے تھے اور دونوں شمال کی طرف تھے، ہم شاید مغرب کی جانب سے بغلیں جھانک رہے تھے۔ خیر جل تُو جلال تُو پڑھتے پڑھتے ایک طرف سے پھٹی دیوار کو بوسیدہ سی سیڑھی لگی دکھائی دی۔ بھاگم بھاگ اندر کودے۔ معلوم ہوا صدیاں بیتی یہاں کسی ذی روح نے قدم نہیں دھرا۔ جہاں کوئی اینٹ گری وہیں دھری رہی، جہاں کوئی پیڑ گِرا وہیں گِرا رہا۔ کوئی دیوانہ ہی ہو گا جو اتنی اونچی چوٹی سے لکڑیاں اور اینٹیں اٹھائے ڈھوتا پھرے گا۔ کچھ کچھ عمارت، کچھ کچھ دیواریں آخری سانسیں لیتی ہمیں دیکھتے ہی آہ و گریہ کرنے لگیں۔ مقامی سرخ پتھر اور گارے یا چونے سے جوڑی گئی یہ دیواریں دس صدیوں کی تمازت لیے نوحہ کناں تھیں۔ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ یہ قلعہ، ملوٹ قلعہ کے حکمران راجہ مِل خان جنجوعہ کے صاحبزادے راجہ جوہد نے علاقائی سالمیت کے پیشِ نظر تعمیر کروایا تھا۔ دراصل یہ سارا علاقہ جو خطہ پوٹھوہار اور کوہستانِ نمک پر مشتمل ہے، ایران، افغانستان اور وسط ایشیا سے آنے والے حملہ آوروں کے لیے اولین گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اس لیے یہاں کے مقامی راجے اور سلطان ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی ہنگامی آمد کے خدشات سے دوچار رہے۔

کہا جاتا ہے کہ 1290ء میں جلال الدین فیروز شاہ خلجی نے پہلی دفعہ اس قلعے پر حملہ کیا اور اس خطے کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا۔ خلجی کے جانے کے بعد جنجوعوں کو اس علاقے میں اپنی ساکھ بحال کرنے میں کافی وقت لگا۔ 1398ء میں ایک دفعہ پھر ایک نئی افتاد کا سامنا کرنا پڑا جب امیرِ تیمور آن وارد ہوا۔ خیر اس وقت کا راجہ بڑا سیانا نکلا، اس نے امیر تیمور کو دلی تک کا رستہ دکھانے کی شرط پہ جان بخشی پائی۔ چھوٹے موٹے حملہ آور بھی وقتا فوقتا نازل ہوتے رہے مگر یہ جنجوعہ راجے ان کا دلیری سے شکار کرتے رہے۔ 1810ء میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب میں پنجے گاڑ چکا تو یہاں کے جنجوعوں کی سرکوبی کو نکلا، کہتے ہیں کہ چھ ماہ اس نے اس قلعہ کُسک کا محاصرہ کیا مگر کسی طور یہاں کے سلطان فتح محمد خان کو شکست نہیں دے سکا۔ محصوری کے وہ چھ ماہ ریاستِ کُسک کے باسیوں کے لیے بہت خوفناک ثابت ہوئے اور خوراک اور پانی کی قلت کے باعث بالآخر سلطان فتح محمد خان کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اس سمجھوتے کے تحت سلطان اپنے اہل وعیال کے ہمراہ انڈیا کے ایک دوسرے علاقے ہارنپور منتقل ہو گیا اور بالآخر دو تین دہائیوں بعد سلطان کی موت کے بعد اس کے اہل و عیال دوبارہ اسی ریاستِ کُسک کے قرب و جوار میں آ بسے اور لہڑ سلطان پور گاؤں بسا لیا۔ اس وقت اس خاندان کی چشم و چراغ مہوش حیات خان سلطانہ ہیں جو کہ صوبائی اسمبلی میں اپنے علاقے کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں۔

قلعہ کُسک 13 ایکڑ کے رقبے پر محیط تھا اور یہ سارا رقبہ ایک پہاڑی چوٹی کے اوپر تھا۔ قلعے کے ارد گرد 370 فٹ کی حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی گئی تھی جس کی کچھ باقیات اب بھی وہاں موجود ہیں۔ قلعے کے اندر پانی کے دو بڑے بڑے تالاب بھی بنائے گئے تھے۔ قلعے کے عین وسط میں سلطان عظیم الشان کے لیے محل تھا لیکن یہ محل اتنا بھی عظیم الشان نہیں تھا جتنا عمومی طور پر بیرونی حملہ آوروں اور لٹیروں کے ہوا کرتے تھے کیونکہ یہاں کے مقامی راجے اور سلطان دیسی طبیعت کے مالک تھے۔ وہ زندگی کی پُرتعیش آسائشوں سے بنیادی طور پر نابلد تھے اور پہاڑی علاقوں سے ہونے کے باعث جفاکش اور جنگجو قسم کے تھے۔ فوجیوں کے لیے ستر کے قریب کمرے بنائے گئے تھے اور چونکہ فوجیوں میں اکثریت ہندؤوں کی تھی لہذا ان کی مذہبی رسومات و عبادات کی ادائیگی کے لیے دو مندر بھی تعمیر کیے گئے جن میں سے صرف ایک ہی مندر کے آثار باقی بچے ہیں اور وہ مندر قلعے کے سب سے بلند مقام پر موجود ہے۔ مندر اس قلعے میں ہزار سال کے تھپیڑے کھانے کے بعد بچ جانے والی واحد عمارت ہے جو ابھی بھی سایہ دانی کا کام کر سکتی ہے اور اس کی دیواریں خستہ حال سہی مگر قائم ہیں۔ اگر اب اس مندر کی عمارت کو محفوظ نہ کیا گیا تو قوی امکان ہے کہ عنقریب وہ بھی زمیں بوس ہو جائے۔ مندر سے اتر کر اس کے بالکل سامنے ایک ٹیلے پر بیٹھیں تو آپ کو تین اضلاع کی سرحدیں نظر آتی ہیں۔ پچھلی طرف چکوال، سامنے جہلم اور ترکونے میں خوشاب۔ یہیں سے دریائے جہلم اور وہ مشہور میدان بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں یونانی بادشاہ سکندراعظم اور پنجاب کے ہیرو راجہ پورس میں گھمسان کا رَن پڑا تھا۔ اسی چوٹی سے کوہِ نمک اور پنڈدادنخان کے علاقے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ آس پاس کی چوٹیوں پر بھی چھوٹے موٹے قلعے تعمیر کیے گئے تھے جن میں سے اکثر معدوم ہو چکے اور ایک دو کے فقط کچھ آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ قلعہ اب ایک بیابان جنگل کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں کچھ اینٹیں اور پتھر گِر چکے ہیں جبکہ کچھ اپنے اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

سورج ڈھلنے لگا تھا، میں نے کچھ ویڈیوز ریکارڈ کیں، تا کہ اکیسویں صدی کے اس بیسویں سال جب پاکستان کو پوری دنیا میں سیاحت کے لیے موزوں ترین ملک قرار دیا گیا ہے تو حکومتِ وقت کو اس تاریخی و تہذیبی ورثے کی لاوارثی اور غریبی کا قصہ سناؤں اور آٹھ آٹھ آنسو رُلاؤں۔ واپسی پر کچھ چھوٹے چھوٹے سرخ پتھر اس نیت سے اٹھا لیے کہ جب تک میں رہوں گا، ان کا نوحہ پڑھتا رہوں گا۔ کچھ پتھروں پر عجیب و غریب اور حیرت انگیز تصاویر کنندہ تھیں، انہیں بھی اپنی گیلری کی زینت بنایا اور وادی میں اترنے لگے۔ جب نیچے پہنچے تو دور ایک کنواں نظر آیا۔ کچھ دوشیزائیں چمڑے کی چھال سے پانی بھر رہی تھیں۔ ہمیں پیاس نے اسیر کر رکھا تھا۔ دوستوں نے روکا مگر میں نہ رُکا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم ان دوشیزاؤں کی جانب بڑھنے لگے۔ پاس پہنچا تو پانی پلانے کی فرمائش کی، ایک کُڑی نے شرماتے ہوئے اس چھالک سے مجھے پانی پلایا، ایسا ٹھنڈا اور میٹھا پانی کہ جہاں تک اُترا، جاتا ہوا محسوس ہوا۔ چھالک کے ساتھ ساتھ اس دوشیزہ کی چوڑیوں کی کھنک مجھے پانی پینے کے اس عمل سے دستبردار ہونے سے روکے ہوئی تھیں۔ میرا دل چاہا کہ کوئی اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیتا، مگر وہ حُسن ہی کیا جو مصنوعیت کے ہاتھوں قید ہو جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *