بلی، عشق اور شادی۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

عورت ہو یا مرد بہت سے لوگ پالتو پرندوں ، جانوروں کا شوق رکھتے ہیں۔ اپنے پالتو پرندوں ، جانوروں سے محبت بھی کرتے ہیں اور ان کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ میرا بیٹا بچپن میں  سکول سے چھٹی ہوتی تو میرے ساتھ عدالتوں میں چلا جاتا۔ وہاں پر وکیل ، جج ، عملہ ،انکل یا آنٹی ہوتے۔ کینٹین والے کی اس دن موج ہوتی کہ بیٹے کا جو دل چاہتا خود بھی کھاتا باقی سب کو بھی کھلاتا ،بل تو بابا جانیں ان کا کام ۔۔

تو قصہ مختصر کہ ایک عدالت کا اہلکار اسے بسا اوقات گارڈین کورٹس لے جاتا ۔وہاں احاطے میں بیٹا جھولے لیتا اور ایک بلی وہاں اس کی دوست بن گئی، یا یوں کہہ لیجیے کہ بیٹے نے وہ بلی احاطہ عدالت میں پال لی۔ بیٹا خود آلو والا سموسہ کھاتا تو بلی کو قیمے والا سموسہ کھلاتا۔ اب اتنی گاڑھی دوستی کے باوجود ایک دن کہیں آپسی لاڈ پیار میں بلی نے جھپٹا مارا اور بیٹے صاحب کے ہاتھ سے پنجہ لگنے سے خون جاری ہو گیا۔

اس نے بڑی ہمت سے عدالتوں میں ہی موجود کسی اہلکار یا نائب کورٹ کو بتایا ،وہ اسے احاطہ عدالت میں موجود ڈسپنسری لے گئے اور ٹیکہ لگوا  کرپٹی کروا ئی اور میرے پاس چھوڑ گئے۔

بیٹا رویا نہیں پر کچھ افسردہ تھا۔ اگلے دن ماں سے کہہ کر بلی کے لئے خاص طور پر چپلی کباب بنوا کر پھر میرے ساتھ جانے کو تیار۔ میں نے کہا بیٹا آج آرام کرو۔ ابھی ہاتھ کا زخم بھی نہیں ٹھیک ہوا اور آپ پھر اسی بلی کے لئے کباب بنوا کر لے جا رہے ہیں ؟

تو بیٹے نے کہا تو کیا کروں وہ تو نا سمجھ ہے، بلی ہے ناں، سکول تھوڑی جاتی ہے، کوئی گندی مٹی والی بوٹی کھا رہی تھی ،میں نے قیمے والا سموسہ آگے کیا اور گندی بوٹی لینے کی کوشش کی کہ بلی بیمار نہ ہو جائے تو اس نے پنجہ مار دیا۔ اب اسے نہیں گندی اچھی چیز کا پتا تو میں اپنی دوست کو چھوڑ دوں؟ بابا آج اسے ماما کے ہاتھ کا چپلی کباب کھلاؤں گا تو اسے اچھی بری چیز کا پتا چلے گا ۔۔۔۔۔۔ اس دن میں نے اپنی ایک موکلہ کو یہ واقعہ سنا کر کہا تم میاں بیوی ایک دوسرے کو پالتو بلی جتنی بھی space دینے کو تیار نہیں؟

اللہ کریم کا شکر ان دونوں کی سمجھ میں میری بات آ گئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔ اور میری سابقہ موکلہ کبھی فون کرے تو کہتی  ہے،بابا شکریہ آپ نے میرا باگڑ بلا بچا لیا ۔۔۔ اس کا شوہر حیرت سے پوچھتا  ہے ،کیا تم نے کوئی بلا پالا ہوا تھا ۔۔ اور بابا مسکرا کر رہ جاتے ہیں ۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *