کشف الذات۔۔صائمہ بخاری بانو

ہم انسان کسی مینا بازار میں سجے مٹی کے بے جان رنگین کھلونے نہیں، نہ ہی بازیچوں اور میلوں میں چند ٹکوں کے عوض رنگ برنگی تصاویر دکھانے والا ٹیلی سکوپ، نہ ہی کٹھ پتلی کا تماشہ جو پس پردہ چھپے اپنے خالق کی مشاق انگلیوں کہ حکم پر سر عام پردے پر نمودار ہو کر اپنے تماش بینوں کے روبرو آ کر رقص کیا کرتی ہیں، ہم کسی گرینڈ فیسٹ کے کورس اپاون کورس کی طرح خوشبو دیتے، گرما گرم، اشتہا انگیز پکوان بھی نہیں کہ جسے رئیسِ محفل شاہی سینیوں اور طباق میں سجی شے جان کر تفریح طبع کے لئے چکھنے اور جھوٹی کر دینے کے بعد اپنی چاندی کی رکابی اور سونا کے چمچے سمیت ایک طرف کو نخوت سے سرکا دیں۔اچانک ملنے والی بے پناہ تعظیم و تکریم کے بعد یکایک رد کئے جانے کا عمل کسی بھی انسان کو اس کی اپنی ہی ذات میں منتقم یا منقسم کر جاتا ہے۔

انسانوں میں بعضوں کی شخصیت میں اسرار اور بھید ہوتا ہے یا کچھ عجب سی کشش کہہ لیجے جو ان کی طرف بہت سے لوگوں کو کھینچ لاتی ہے، پھر جستجو اور جان لینے کی خواہش ہمیں ان کی ہستی سے بھید و کشش کے پرت در پرت اتارنے پر اکساتی ہے، اسرار کا بھید اور رمز کا مصدر پانے کی سعی کرنا ایک بہت ہی فطری سا عمل ہے، لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ہم خود کو کھوجی نہیں بلکہ محرمِ راز بنا پائیں، یوں دوجے کی ذات مشقِ ستم نہ بنے گی بلکہ کشفِ ذات کا یہ سفر قدرے سہل ہو رہے گا۔ تسلیم و تسکین کے خول میں معتکف و مقید کسی انسان کے وجود کو آپ کی اس کھوج کے صلے میں وحشتوں اور بے چینیوں کی چٹخا دینے والی یلغار سے معاملہ بھی نہ کرنا پڑے گا، ان کی ہستی بے نقاب ہو گی اور نہ ہی کسی سفید پوش کی پر تواضع باکر انا کے آبگینے کرچیوں کی صورت بکھریں گے۔ گر ہمارے اپنے ہی اندر، ہماری ذات کے ہر ایک گوشے میں سکون کے چراغ اور امن کی شمعیں روشن ہوں تو ہم دوجوں کو بھی وہی کچھ بانٹتے ہیں جبکہ اپنا آپ اور اپنی ہی ہستی بے چینیوں اور بے تابیوں کا گھر ہو تو سامنے والے کو بھی وہی ترسیل کیا کرتے ہیں، اللہ سبحان و تعالی ہم سبھی کو متکبر فاجر انا کے جال سے بچائے رکھے، آمین!

ممکن ہے رب کریم نے آپ کو فہم و فراست کے خزانوں سے نواز رکھا ہو، اس نعمت کے استعمال کے لئے جہت اور راہ آپ خود ہی چنیں گے آیا کہ بھلائی یا پھر برائی، نیکی یا بدی تو بہت بعد کی باتیں ہیں ہم اگر خود اپنے آپ اور ہماری کھوج سے جڑے افراد کی ہستی کو اسی فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے بھلائی سے نواز سکیں تو اس سے بہتر عمل کیا ہو گیا؟
یہ فراست صریحا روشنی ہے اور سکون ہے۔ بھلائی سے مزین فراست کا نور حدس کی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزر کر ہی میسر آتا ہے۔ حدس، علم کی جستجو میں وہ مقام ہے جہاں عقل و دانش، غور و فکر میں مگن اور معتکف رہتے ہیں اور اک روز اسی مجاہدے کے سبب فراست کی روشن روح پا لیتے ہیں۔

حدس سے پار اتریں تو اب کشف کا درجہ آتا ہے، فراست کی روشنی اور حدس کا تدبر مل کر ہمیں شر سے بچاتا ہے اور خیر کی طرف لیجانے والے کشف کی راہ سجھاتا ہے۔ میرا دل مانتا ہے کہ کشف کی سب سے بہترین حالت کشف الصدور کی حالت ہے، مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ یہ محض خیر ہی خیر ہے۔ کشف کے در سے نکلیں تو الہام کی وادی ہے جو نہ صرف انبیاء اور اولیاء کی میراث رہی بلکہ راشدین اور ہدایت یافتہ مومنین کا بھی بخت ہوئی، یہ کیفیت اپنی نیند اور اپنے جگراتوں، دونوں حالتوں میں قلوب کی صفائی، تزکیہ نفس اور اعمال کی درستی کے لئے بہترین ساتھی ہے۔ علم کے درجوں میں آخری اور سب سے بڑا درجہ وحی ہے اور یہ انبیاء کرام کی جاگیرِ احتشام ہے، گو اس کا سلسلہ تھم چکا ہے لیکن یہ آج بھی قرآن کریم اور حدیث رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔اب آپ اور ہم ان نعمتوں سے جس قدر اور جتنا چاہیں فیض اٹھا سکتے ہیں۔

گر رب رحیم نے ہمیں اپنی جناب سے مال و زر، نعمت و رحمت، علم و حکمت، حسن و جوانی، طاقت و قوت، مرتبہ و حشمت، راحت و خوشی، اقتدار و اختیار اور دیگر دنیاوی آسائشوں سے نواز رکھا ہو تو رب عظیم کی اس عطا کے بل پر کسی کمزور یا محروم انسان کی عزت نفس کو محض اپنی ذاتی تمنا کی تسکین کی خاطر ہرگز نہ آزمائیے گا بلکہ اک دوجے سے احسان کا معاملہ کیجئے، اپنا احساس بیدار رکھیے اور ضمیر منور، دل کی زمین پر درد کا ہل چلاتے رہئے. خود سے کمزور اور کم حیثیت لوگوں کے ساتھ نرمی برتئے، گر آپ پر آسمانوں سے نعمتوں و رحمتوں کا ہن برسایا گیا ہے تو اہل زمین کے ان محروم اور معصوم انسانوں کے دل اپنی متکبرانہ انا سے ہرگز چھلنی نہ کیجئے، دوجے انسانوں کو برابری نہ سہی کم از کم تکریم و تعظیم تو ضرور بخشئے کہ آپ کے رب نے انہیں بھی اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہو سکے تو حضرت سلیمان ع کی سلطنت کی اس بیباک چیونٹی جتنی ہی قدر کر لیجئے جو رسول اللہ اور بادشاہ وقت کے روبرو اپنے حق اور ہست کی حفاظت کا عزم لئے سینہ سپر ہو رہی تھی، نرمی کیجے، احسان کیجے، اپنے اور دوجوں کے لئے سکون و سکینت کا اہتمام کیجئے، خود سے کمزور افراد کی تالیف قلب کیجیے، جس قدر ہو سکے ان کی ڈھارس باندھئے، ان سے دعائیں سمیٹئے، ان کے درد کو محسوس ہی نہیں بلکہ مندمل بھی کیجئے۔ بے شک آپ کا رب بے نیاز اور سخی ہے، وہ آپ کو اس سے کہیں بڑھ کے نوازے گا۔ انشااللہ!

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *