آئیے قرآن پڑھیں(قسط ہفتم)۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے مضامین کا جائزہ لیں تو ہم نے اب تین اہم نکات کا احاطہ کیا ہے
پہلا:قرآن کے غیر ذاتی (Impersonal)بیانیہ ہونے کانہ آپ ﷺ کے کسی قریبی عزیز کے نام سے کوئی ذکر ہے نہ ہی نبی کریمﷺ نے  کہیں کسی آیت میں اپنی تعریف کی ہے۔ سورۃ توبہ اور سورہ الاحزاب میں آپ ﷺ کو رؤف اور رحیم پکارا گیا ہے مگر یہ اعزاز اللہ کی جانب سے ہے۔یہ دو اسماالحسنی ایسے ہیں جو یوں تو اللہ کے ننانوے ناموں میں شامل ہیں مگر یہاں آپ کے اوصاف عالیہ بھی انہی  الفاظ میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایسالمحہء وصال بھی مذکور ہے جس میں سید الانبیا محمد مصطفے پر دورود بھیجتے وقت کائنات ایک ایسے Unison(یکسوئی و یک جہتی) کے مرحلے میں ہوتی ہے۔ اس عمل کی ادائیگی میں اللہ، فرشتے اور ایمان والے سب اس ایک ہی فعل کو سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔سورہ الاحزاب میں ہی آپ کو تین اور القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔یہ القاب آپ کی Functional Responsibilities (عملی ذمہ داریوں) سے متعلق ہیں۔ آپ کو شاہد (گواہ)نذیر(خبر دار) کرنے والا  اور روشنی کرنے والا یعنی سراج المنیر سے متعلق ہیں
دوسرا:جب انذار (لوگوں کو قیامت سے ڈرانے کا عمل) اور اعمال کی درستی  کی بات ہو تو اللہ کے ہاں انبیا کو بھی کوئی امتیازی سہولت نہیں۔ ہمارے اپنے نبی محترم ﷺکی ذات اقدس کا بیان ہو تو دین کے ہر احکام پر آپ نے خود ہر عمل کرکے دکھایا تاکہ امتی کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ایک عمل ا لبتہ ایسا تھا جس کو اجازت کے باوجود نبی کریم ﷺ نے کبھی اختیار نہیں کیا۔وہ تھا ازدواج کی طلاق کا۔سو اس بات کو وضاحت سے بیان کرنے کے لیے اللہ نے سورہ طلاق جملہ احکامات کے ساتھ ناز ل کی تاکہ امتی کسی ابہام کا شکار نہ رہے۔

الاحزاب


تیسرا: قرآن کا بیان کردہ تصور الہی۔جس کو جامع ترین انداز میں سورہ اخلاص میں بیان کردیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے ایک بہت اہم نکتہ سمجھنے اور سمجھانے کے لیے بالخصوص غیر مسلم افراد کے لیے یہ ہے کہ سورہ اخلاص کے بتائے گئے وجود باری تعالی کے لیے اپنی طرف سے interpretation کی کوئی انسانی گنجائش باقی نہیں رہتی۔یہ Take it or leave it والا معاملہ ہے۔اس ایک اہم نکتے کی وجہ سے الوہیت یعنی اللہ کی ذات کے بارے میں جو تصور قرآن نے بیان کیا ہے اس میں تخیل انسانی کی موشگافیوں کی گنجائش ہمیشہ کے لیے ختم کردی گئی ہے۔ٹھنڈے دل
سے غور کریں اور تاریخ کو عقیدے کی عینک لگا کر نہ پڑھیں تو بعد کے سارے جھگڑے وراثت رسالت سے جڑے ہیں یا خلافت کے اولین حق سے۔ خلافت ظاہر ہے ایک Temporal دنیاوی ادارہ ہے۔جس کا دین سے تعلق براہ راست کم اور انسانی فیصلوں سے زیادہ ہے۔

fleet street london- پہلا بینک
پوپ اور ان کے ٹمپلر بینکرز

 

بدھا اور ٹیکسلا سے ملنے والے اوراق
قاری نظر آتا ہے

اب جائزہ لیں کے قرآن الکریم کے برعکس دیگر مذاہب کی جو کتابیں ہیں مثلاً رامائن اور عیسائی بائبل ،ان میں کہیں خدا کا تصور بیان نہیں ہوا۔نہ عیسیٰ  علیہ سلام (جیزز کرائسٹ)،نہ رام نے ان صحیفوں میں جو ان کے پیروکاروں نے حالات اور سہولت کو سامنے رکھ کر ترتیب دیے ان میں بھی اپنے خدا ہونے کا دعویٰ  کیا۔ ان محترم ہستیوں کو اس منصب  الوہیت پر فائز    بعد میں مرتب کردہ صحیفوں میں ان کے پیروکاروں نے کیا ہے۔یوں ایک Cult کے اردگرد پیروکار بنا کر ایک مذہبی گروہ بندی کی گئی اور بعد میں اس سے سیاسی اور مالی مفادات جوڑ کر چرچ اور دیگر مقدس ادارے بنالیے۔

بینک کی تو ابتدا ہی پوپ کے ادارے نے سن 1128 عیسوی میں کی جو یورپ سے فلسطین جانے والے مختلف زائرین کو بینک ڈرافٹ جاری کرتا تھا جو فلسطین میں نقد زر میں تبدیل ہوجاتے تھے۔آپ کا یہ اعتراض بجا ہوسکتا ہے کہ اس سے کئی صدیاں پہلے چین کی تانگ خاندان کی حکومت “feiquan” – نامی دستاویز جاری کرتی تھی جس کے معنیflying money کے ہیں اور جو بینک ڈرافٹ کی سب سے پہلی صورت تھی۔یہ مگر سرکاری انتظام تھا جب کہ ٹمپلر نائٹ والا انتظام نجی بینکنگ سسٹم کی ابتدا تھا۔
اب دیکھیں ایشیا میں کیا ہورہا ہے۔بدھ مت میں بھی جو مقدس تحاریر موجود ہیں۔ وہ بدھا نے نہیں لکھیں۔ان کی سب سے قدیم تحریر ٹیکسلا سے ملی ہے جو سیدنا عیسی علیہ سلام سے سو سال پرانی ہے
بدھ مت کو چین کی قربت میسر ہونے کی وجہ سے کاغذ تک رسائی تھی۔ یہ سہولت عربوں کو نہ تھی۔ فراعنہ مصر کے زمانے کی تحریر یں بھی  پے پی س پر تھیں۔ کاغذ پر نہیں۔عربی ادب اورل ادب تھا۔
یوں بھی بدھ مت میں personal god.کا اور قیامت کا کوئی تصور نہیں۔ بدھا کی طرح نیک راستے پر دنیا سے دوری اختیار کرکے گامزن رہیں گے تو ایک دن پیروکار کو بھی نروان مل جائے گا
آئندہ مضامین میں ہم دو اور اہم نکات کی طرف بڑھیں گے جن سے ٹھیک سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر قارئین کو دشواری ہوتی ہے۔

ہم چونکہ اہل ایمان و امت محمدیﷺ ہیں لہذا ہمارا ان کو سمجھنا ایک عام غیر مسلم قاری کی نسبتاًزیادہ ضروری ہے۔ہم اگر خود کو ایک باشعور امتی اور دین دار انسان مانتے ہیں تو ان کی مزید فہم و تحقیق ہمیں ایک ایسی رپورٹ مرتب کرکے علاج کرنے میں مدد کرے گی جو اپنوں اور غیروں کی جانب سے ہمارے عقیدے کے  خلاف بطور ہتھیار استعمال کی جاتی رہی ہے۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ کیا قرآن ایک کتاب ہے؟۔
دوسرا نکتہ یہ کہ قرآن عربی زبان میں کیوں نازل ہوا؟۔

سورہ علق
سورہ علق
زخرف

گزشتہ مضامین میں بتائے گئے تین اور ان مضامین میں بتائے گئے دو یعنی کل پانچ نکات سے فہم اور آشنائی ہوگئی تو آپ کو قرآن پڑھنے میں وہ الجھن اور رکاوٹ محسوس نہیں ہوگی جس کا سامناایک عام مسلمان قاری کو کرنا پڑتا ہے۔اس کی وجہ سے وہ قرآن العظیم کو پیغام نور و ہدایت کی بجائے اپنے رابطے کو ثواب اور بے فہم اُمیدِ نجات تک محدود کردیتا ہے۔

قرآن بطور پیغام اور موجودہ صورت میں ایک کتاب ہدایت کے طور پر اپنے بارے میں شک کرنے والوں کو عجب انداز سے گھیرتا  ہے۔ا س بارے میں ہم دو افراد کا ذکر کریں گے ایک گیری ملر اور دوسری لیزلی ہیزلٹن۔پہلے صاحب سکہ بند عیسائی پادری اور دوسری عقیدے کے کئی حوالوں سے بڑی ڈراؤنی مگر بلا کی ذہین، روشن دماغ نسلاً یہودی عقیدتاً دہریہ خاتون ہیں۔
ان کا تذکرہ ذرا طول پکڑے تو دل چھوٹا مت کیجئے گا۔ اس میں تبلیغ اور وضاحت کے بہت سے پہلو ہیں۔ہمارا ارادہ ہے کہ ہم آپ کو دین سے ناواقف بے زار و بے لطف مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں اور ہر طرح کے غیر مسلم دوستوں سے دین پر بات کرنے کے لیے ایسے ہینڈلز فراہم کردیں ،جن کی وجہ سے ان کا دھیان اسلام کی طرف سنجیدگی سے ہو اور اللہ آپ کو اس محنت کا صلہ دے۔دربار نبوی میں آپ کے مراتب میں اضافہ ہو۔

لیونٹ

آپ تو جانتے ہی ہیں قرآن العظیم نے ا ٓغاز ِ  نزول سے ہی لوگوں میں بے چینی کا ایک تلاطم اٹھادیا۔سورہ علق کی جو پہلی پانچ آیات بطور پہلی وحی کے نازل ہوئی ہیں۔
ان میں پہلی آیت ایک حکم ہے اور دوسری میں جینیاتی سائنس کی ایک بہت بڑی حقیقت بتائی گئی ہے۔جلدی سے ہم ان کا احاطہ کرلیں۔ان آیات مبارکہ کا لب لباب، تعلم،تخلیق،تعلم سے جڑے کرم،اور تعلم کے مددگار آلہء قلم سے ہے۔ان میں کسی عبادت کا تذکرہ نہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حصول تعلیم خود ایک بڑی عبادت کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔

جو لوگ اس وحدانیت اور برسوں سے جاری رسومات اور توہمات پر کاری ضرب لگانے والے پیغام سے بہت زچ ہوئے وہ تین مختلف بڑے گروہوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں
پہلا گروپ تو ولید ابوجہل اور ابوسفیان جیسے اہم مقامی سرداروں کا ایک طاقتور قبائلی سرداروں پر مشتمل گروہ تھا بااثر اور متکبر۔ہمارے رسول محترم کا گھرانہ کعبۃاللہ کے انتظام و انصرام کے حوالے سے معتبر تو تھا مگر مکمل بااختیار نہ تھا۔ دنیاوی مال و  جلال میں بھی یہ دیگر سرداروں کے مقابل نہ تھے۔ سن 600 عیسوی میں جب ہمارے نبی محترم کی عمر پینتیس برس تھی۔بیت اللہ کی دیواریں ایک آتش زدگی کی وجہ سے بہت مخدوش ہوگئی تھیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ آپ کے صادق اور امین ہونے کی وجہ سے اس تعمیر کے دوران حجر اسود کو اپنے مقام موجود پر جمانے کا فریضہ آپ کو سونپا گیا تھا۔
کعبہ کا کسوہ یا غلاف ایک سال پورا اہل عرب اپنے چندے سے لگاتے تھے۔ اگلے برس ولید بن مغیرہ جو سیدنا خالد کا باپ تھا۔ابوجہل کا سگا چچا تھا۔ وہ یہ غلاف نذر کرتا تھا۔ اسے آپ مکہ اور مدینہ کا بل گیٹس سمجھ لیں۔اس بدبخت کو سورہ القلم میں بہت ناپسندیدہ الفاظ میں اشاروں کنایوں میں مخاطب کیا گیا ۔سورہ الزخرف کی آیت نمبر اکتیس میں ان کے اس اعتراض کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے پر کیوں نازل نہ ہوا؟

مغربی دیوار یا دیوار گریہ
مسجد ابراہیم،اور مسجد ابراہیم میں رکھا قدیم منبر
سیدنا ابراہیم کا مزار
الخلیل،ہیرون اسرائیل کے دکھ

دوسرا گروپ یہودی اور عیسائی مذہب والوں کا تھا۔عیسائیت کا مرکز مغرب نہ تھا بلکہ الشرق کا علاقہ تھا۔ اسے انگریزی میں The Levant کہتے ہیں
یہودی اور عیسائیوں کو اس بات کا شدید قلق ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ سلام کے زمانے سے جو علاقے نبی محترم کی بعثت کے پچاس برس تک  ان کے پاس تھے۔ وہ انہیں قرآن کے ماننے والوں کی وجہ سے چھوڑنے پڑے۔اس کا غصہ انہیں آج بھی ہے۔

ہم تھوڑی سی ٹائم لائن ان کی مخالفت کو سمجھنے کے لیے بنالیں۔سیدنا ابراہیم علیہ سلام،سیدنا عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے2166 سال پہلے پیدا ہوئے۔آپ کے اور سیدنا موسی علیہ سلام کے درمیان چھ سو سال کا وقفہ ہے۔ وہ 1566 قبل از مسیح پیدا ہوئے تھے۔ان کے اور سیدنا عیسی علیہ السلام کے درمیان  ڈیرھ ہزار سال کی دوری ہے۔اس دوران یہودی مصر سے نکل کر فلسطین میں قابض ہوچکے تھے۔ہمارے نبی محمد ﷺ البتہ سیدنا عیسی علیہ سلام کے دنیا سے پردہ فرمانے کے 571 سال بعد پیدا ہوئے تھے۔ جب ہمیں برا ثابت کرنا ہو تو یہودی اور عیسائی ایک پیج پر ہوتے ہیں۔ ان کے کلچر اور رہن سہن بھی ایک ہیں ۔یہودی چونکہ نسلی دین ہے اس لیے انہیں عیسائیوں سے خطرہ نہیں۔اپنی نسل پرستی میں وہ اتنے مستحکم ہیں کہ تل ابیب میں امراض قلب کی مشہور یہودی ڈاکٹر آنجہانی کلو ر لی کا میاں ربائی بننا چاہتا تھا۔بہت علم بھی رکھتا تھا مگر چونکہ والدہ یہودی نہ تھی لہذا ان کا بورڈ آف ڈپٹیز اسے امتحان میں فیل کردیتا تھا۔زچ ہوکر اس نے کاریں بیچنا شروع کردیں۔خوب دولت کمائی۔

ان ادیان سے وابستہ اہم افراد کو لگا کہ قرآن کا نزول ان کے لیے دینی اور دنیاوی ہر دو لحاظ سے نقصان دہ ہے۔وہ دیکھ چکے تھے فراعنہ مصر کی ڈھائی ہزار سال کی بادشاہت کو موسی علیہ سلام کے نئے دین نے ملیا میٹ کیا۔یہودیوں کی ایک ہزار سال پرانی سلطنت کو فلسطین میں سیدنا عیسی علیہ سلام کے رخصت ہوجانے کے بعد ستر عیسوی میں رومیوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے برباد کردیا تھا۔ اس کے فوراً بعد یہاں عیسائی رومی قابض ہوگئے۔انہیں فلسطین سے نکال باہر کیا۔ اس دور کی ایک نشانی جس میں ہیکل سلیمانی دوبارہ برباد ہوا ایک مغربی دیوار ہے۔یہ یہودیوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ فلسطین کی فتح سیدنا عمر ؓ کے دور میں ہوئی۔مسلمانوں نے فلسطین یہودیوں سے نہیں عیسائیوں سے لیا تھا۔
چالاک یہودی یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ جیسے ہندوستان بابر نے ابراہیم لودھی سے چھینا تھا اور یہ کوئی ہندو مملکت نہ تھی۔
رومیوں نے جب ہیکل سلیمانی برباد کیا تو اس کی نشانی ایک مغربی دیوار باقی چھوڑ دی۔ یہودی اس سے لپٹ کہ روتے اور دعائیں مانگتے ہیں اس لیے اس کو دیوار گریہ بھی پکارتے ہیں۔ بیت المقدس کے پینتیس ایکڑ کے احاطے میں مسجد اقصی ہے۔ایک ہی احاطے میں موجودہونے کے باوجود مسلمانوں کو اس طرف اور یہودیوں کو مسجد اقصی کی طرف جانے کی اجازت نہیں۔
کم و بیش یہی انتظام سیدنا ابراہیم علیہ سلام کے مزار کا بھی ہے جس میں دونوں مذاہب کے پیروکار جاسکتے ہیں مگر مسجد اور معبد کے راستے علیحدہ ہیں۔ہیبرون شہر میں جس کو فلسطینی الخلیل کہتے ہیں وہاں درمیاں میں ایک بلٹ پروف شیشہ ہوتا ہے۔یہ مسلمانوں کا بدنصیب ترین شہر ہے۔ یہاں مسلمان سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔دروازے کی بجائے بے چارے کھڑکیوں سے گھروں میں جاتے ہیں۔ہر گھر میں کوئی نہ کوئی شہید میز پر رکھی تصویر سے اپنے گھرانے کو اپنی یاد دلاتا ہے۔ مسلمان دکان داروں کے بازار میں ہمہ وقت دنیا کے سب سے مالدار، باعلم اور باشعور کہلانے والے دینی گروپ کے پیروکار گزرنے والوں پر اپنی کھڑکیوں اور بالکونی سے گندگی پھینکتے ہیں۔

نزول قرآن سے یہودی اور عیسائیوں کو یوں لگا کہ یہ نیا پیغام وحدانیت و ہدایات جس کا نام قرآن ہے وہ انہیں دیس نکالا دینے آگیا ہے۔اگلے مضمون میں ہم تیسرے گروپ جسے قرآن کے نزول سے بہت خوف محسوس ہوا اور قرآن ایک کتاب کی صورت میں موجود ہوتے ہوئے بھی اس انداز کی کتاب کیوں نہیں کہی جاسکتی جیسی ایک عام کتاب ہوتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *