اتحاد بین المسلمین۔رانا اورنگزیب

میں عالم نہیں ہوں کسی مدرسے کا پڑھا ہوا بھی نہیں۔بلکہ میں تو سرے سے پڑھا لکھا ہی نہیں ہوں۔میں مسائلِ فقہ سے ناواقف ،اجتہاد وانسباط سے نا بلد منطق وفلسفہ کا نا شناس ایک ان پڑھ ناخواندگی کا مارا ہوا بلکہ زبان علماء کے مطابق جاہل مطلق ہوں۔میں نہیں جانتا جب میں پیدا ہوا میرے کان میں اذان کسی شیعہ نے دی یا سنی نے۔بریلوی دیوبندی وہابی نے اذان سنائی  یا کسی مقلد و غیر مقلد نے۔ہاں اتنا یاد ہے جب مجھے کچھ لفظ بولنے اور سمجھنے آۓ چیزوں کے بارے علم ہونا شروع ہوا تو اپنے پانچ شہتیروں کے کچے مکان میں ایک طاقچہ بنا ہوا دیکھا جس میں ایک مٹی کا چراغ ہوتا تھا جو سرسوں کے تیل سے بھرا ہوتا۔گھر میں عام طور پر لالٹین کی روشنی بکھری ہوتی ۔مگر جمعرات کی شام کو مولوی کی اللہ اکبر کے ساتھ ہی جلا دیا جاتا۔کب بجھتا علم نہیں جمعرات کے علاوہ عام دنوں میں چراغ نہیں جلایا جاتا  تھا،وجہ کا علم نہیں تھا تجسس تھا جس کی وضاحت میرے سفید بالوں والے دادا جی نے یوں کی کہ پتر اے پیراں دا چراغ اے ایس لئی جمعرات نو بالی دا۔

شب برات پر خوب پٹاخے چلاۓ جاتے اور سارا ہی گاؤں اس کام میں مگن ہوتا اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کوئی ریہگلا بنواتا تو کوئی  بازاری پٹاخے پھوڑتا۔اس وقت دیسی تالے ہوتے جس کی چابی کو تالی کہا جاتا یار لوگ اس چابی کے کی رنگ key ring ڈالنے والے سوراخ میں ایک مضبوط لکڑی لگالیتے اور تالے کے اندر جانے والے حصے میں ماچس کی تیلیوں کے سرے سے مصالحہ ڈال کے ایک کیل اس میں پھنساتے اور ٹھاہ ٹھاہ کرتے پھرتے۔کچھ شرارتی قسم کے لڑکے بالے چارپائی کے پاۓ میں کیل سے سوراخ کرتے اس میں ماچس کا مصالحہ بھر کے اوپر سے کیل کو کسی اینٹ یا لکڑی سے چوٹ لگاتے اور پٹاخے پھوڑتے ہوۓ چارپائی کا پایا پھاڑ کے خود باپ کے چھتر کھاتے اور ماں کی جھڑکیاں۔شب برات کے پکوان ہر گھر میں پکتے جن میں حلوہ پوری گلگلے میٹھے سموسے اور بہت سوں کے تو اب نام بھی یاد نہیں نہ ذائقہ!

محرم آتا تو تقریباً سارے گاؤں میں سیانی عورتيں گاؤں کی تمام عورتوں اور بچیوں کو جمع کر کے کچھ پڑھاتی تھیں ،نویں اور دسویں محرم مولوی صاحب تقریر کرتے جس میں خانوادہء حسین پر ہونے والے مظالم کے بارے میں بتاتے لوگ قبرستان جاتے اور وہاں قرآ ن پاک کی سورتیں دو حافظ آمنے سامنے کھڑے ہوکے پڑھتے پھر سب مل کے سب کےلیے دعا کرتے اور قبروں پر مٹی وغیرہ ڈال کے واپس آجاتے۔ہمارے گاؤں میں بلکہ علاقے کے پانچ سات گاؤں میں نہ کوئی شیعہ ہے نہ تھا۔نہ کہیں ماتم ہوتا نہ تعزیہ نکلتا۔مگر ہر آنکھ سوگوار ہوتی ایک محترم سی خاموشی اور اداسی چھائی  رہتی لوگ امام حسین کا ذکر کرتے پھرتے پانی کی سبیلیں دودھ میں لال رنگ کا روح افزا یا انرجائل ڈال کے آتے جاتے لوگوں کو پلاتے تقریباً سبھی دستیاب اناج ڈال کے کھچڑی یا حلیم دلیم جو بھی کہہ لیں بنایا جاتا اس کا ذائقہ مگر آج کے کوزی حلیم کے پاس ہے نہ کسی اور جگہ وہ ذائقہ اور خوشبو دستیاب۔یہاں سے میں آپ کو ایک شیعہ سنی سانجھی بستی میں لیے چلتا ہوں وہاں سے واپس پھر آج کا اپنا گاؤں دکھاؤں گا۔

یہ پنڈی بھٹیاں سے چنیوٹ کی طرف جانے والی سڑک پر پنڈی بھٹیاں سے چار یا پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں ہے گاؤں میں مقامی اور مہاجر مل کے بیٹھے ہیں۔مہاجر تو صاف ظاہر ہے پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہی اس علاقے میں آۓ مگر مقامی لوگ نسلوں سے یہاں آباد ہیں اور شیعہ اثناعشری ہیں۔مقامی لوگوں میں تین حصے شیعہ اور چوتھائی حصہ سنی مسلمان ہیں۔مہاجر تقریباً سو فیصد ہی سنی ہیں گاؤں میں شیعہ سنی کا تناسب تقریباً تھوڑے سے فرق سے برابر ہے۔یہ میرا ننھیالی گاؤں ہے میری پیدائش اسی گاؤں کی ہے۔بچپن اور لڑکپن کی بہت ہی حسین اور من موہنی یادیں اس گاؤں سے جڑی ہیں اسی گاؤں میں مجھے دوستی کے مفہوم کاعلم ہوا یہیں سے دل میں اک میٹھی کسک لگی۔اسی گاؤں نے مجھے اتحاد بین المسلمین کا سبق دیا یہیں پر میں نے فرقہ بندی اور مسلک پرستی کا درس  حاصل کیا۔اسی گاؤں کی امام بارگاہ میں کھیلتے ہوئے میں نے مولا علی کہنا سیکھا یہیں پنجاں تے بارہ دا صدقہ میرا تکیہ کلام بنا۔یہیں رہتے مجھے قیصر زوار ،امجد اور جگنو جیسے بے مثل شیعہ دوست ملے اور یہیں میں علم سوار ہونے کی تقریبوں میں حصہ لیا۔یہیں میں نے سینے پر ہلکے ہلکے ہاتھ رکھتے یا حسین کہتے تعزیہ کے ساتھ چلنا سیکھا اور یہیں پر میں نے شیعہ کو کافر بنتے اور کافر کافر کے نعرے لگتے دیکھے۔

وہ لوگ جو ایک دوسرے کی شادی غمی اور مرنے جینے میں ہر طرح حصے دار تھے اب ایک دوسرے سے بات کرنے کے روادار نہ رہے۔جس گاؤں کی شادی میں گھڑولی بھری جاتی تو سنی کی گھڑولی میں جب تک امام بارگاہ اور اُگو پیر کے نلکے کا پانی شامل نہ ہوتا تو گھڑولی نامکمل رہتی اور شیعہ کی گھڑولی میں گاؤں کی دونوں مساجد کا پانی لازم تھا وہاں اب شاید جنازہ پڑھنے کے لیے بھی سنی امام بارگاہ سے پانی نہیں لیتے اور شیعہ مساجد سے نہیں لیتے۔1988سے پہلے کبھی یہاں تعزیہ دیکھنے کی سنی پر پابندی نہیں تھی سب شیعہ سنی ایک دوسرے کے بھائی چاچے تاۓ اور گاؤں کے نواسوں کے مامے نانے ہوتے تھے۔مگر برا ہو ان ذاکروں کا جنہوں نے مجلسوں کے لیے ایک اسپیشلسٹ ہارٹ سرجن سے زیادہ فیس لی اور ذہنوں کا آپریشن کرکے شیعہ کے ذہن میں حضرت علی ؓ کے مقابلے پر تمام صحابہ کرام کے بارے میں زہر بھرا۔ ملک و قوم کے دشمنوں نے ایسی آگ بھڑکائی  کہ جس میں اندھی عقیدت کے علاوہ تمام بھائی چارہ فہم وفراست جل کے خاکستر ہوئی وہیں سنی علماء نے ایک شر پسند ذاکر اور ایک عام ان پڑھ شیعہ کو برابر باندھ کے ایک ہی ترازو میں تولا اور کفر کا فتویٰ داغ دیا۔

اللہ کے بندو! کباڑی کے پاس دھات کی بنی ہوئی  کوئی  چیز بیچنے جاؤ تو وہ بھی اچھی طرح چھان پھٹک کرتا ہے کہتا ہے یہ دیگی ہے میں نہیں لیتا اس میں اتنا لوہا ہے اتنا تانبا ہے ان سب کا وزن الگ الگ ہوگا اور قیمت بھی الگ الگ۔نبی کا ہر صحابی حق پر ہے اور ہمارے آقا محمدﷺ کا حکم بھی ہے کہ میرے تمام اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاؤ گے۔جن کو نبی اپنی زبان مبارک سے ہدایت یافتہ کہے ان کو کوئی کتنا ہی محترم کیوں نہ ہو کیسے اور کس اصول کے تحت گمراہ قرار دے سکتا ہے ؟

دوسری طرف  یہ بھی ہوا کہ انہی  ہستیوں کے بارےمیں نفرت پھیلائی گئی ،یہ کوئی ازراہ تفنن بات نہیں کہہ رہا نہ یہ کوئی غیر حقیقی بات ہے بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے ،ان کی قربانیوں کو بھلا دیانا  ہمیں کسی طور زیب نہیں دیتا ۔دونوں طرف کے سمجھدار لوگوں کو اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا۔امن وامان اور محبت کے زبانی دعوؤں سے آگے بڑھنا ہوگا۔یہ ملک پاکستانیوں کا تھا ہے اور رہے گا۔یہاں کبھی بھی کسی ایک فقہ کا نفاذ نہ ہوگا۔۔یہاں سب کی ڈیڑھ اینٹ کی اپنی اپنی مساجد ہیں جس ملک کا مسلمان حنفی جعفری سلفی بریلوی دیوبندی کے لاحقے کے بغیر خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا جہاں ہزاروں مساجد مدارس میں مسلمان مسجد نہ ہو وہاں اپنی فقہ لے کے اقتدار کی جنگ تو لڑی جاسکتی ہے مگر امن کا خواب ناممکنات میں سے ہے۔؎

امن کی ایک ہی صورت ہے کہ جتنی بھی قابل احترام شخصیات ہیں وہ اصحاب رسول ہوں یا اہل بیت سب کا احترام کیا جاۓ اور توہین رسالت پر کڑی سزا ہو تو توہین صحابہ پر بھی سخت قوانین بناۓ جائیں ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاۓ۔اگر تعزیہ حسین کا احترام لازم ہے اگر علم عباس محترم ہے تو اصحاب رسول اور امہات المومنین بدرجہ اولیٰ محترم ہیں ۔ہم حسنین کریمین کے غلاموں کے بھی غلام ہمارے جان مال اہل وعیال اہل بیت پر قربان مگر صاحب انصاف چاہیے، امن چاہیے، احترام چاہیے۔حسین وعباس فاطمہ و زینب صرف شیعہ کے ہی محبوب کیوں؟ ہمارے بھی ہیں شیعہ سے زیادہ ہمارے ہیں مگر حب علی میں بغض معاویہ نہیں چلے گا۔گالی اور گولی کی زبان کو تالے لگایے۔سب وشتم اور تبرا بازی کے شعار کو دفن کیجیے آئیے ہمارے ساتھ چلیے تعزیہ نکالیے علم اٹھائیے مدح اہل بیت میں جھومیے گایے مگر حضور جو پہلوۓ نبی میں سوۓ ہیں ان کو احترام دیجیے کسی دین فروش مداری کی باتوں میں آکے اپنا اور ہمارا صبر نہ آزمائیے۔

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *