وہی علیہ السلام ہو گا۔۔۔ اقتدار جاوید

SHOPPING
SHOPPING

اب کرونا اور اس سے بچاؤ کا کیا کوئی ممکن طریقہ ہے یہ ایک مشکل سوال ہے ،جب ہم اس سے بچ سکتے تھے وہ وقت گیا ،اب اس سے بچنا مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے مگر اس سے پیشتر مظہر امام کی نظموں کے مجموعے ”بند ہوتا ہوا بازار“ سے ایک نظم کی آخری اور اہم سطریں  پڑھنی  ضروری ہیں۔
مہیب طوفاں مہیب تر ہے
پہاڑ تک ریت کی طرح اڑ رہے ہیں
بس ایک آواز گونجتی ہے
مجھے بچاؤ ،مجھے بچاؤ
مگر کہیں بھی اماں نہیں ہے
جو اپنی کشتی پہ بچ رہے گا
وہی علیہ السلام ہو گا!

اب اس کا صاف مطلب یہ ہے جس کو خدا سلامت رکھے گا وہی سلامت رہے گا، وہی اس طوفان سے بچ پائے گا۔اس کا ایک اصطلاحی مفہوم بھی ہے کہ جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا اب جو اس وبا کا پھیلاؤ ہے اس کے آگے اس حکومت نے اور اس کے کارپردازان نے بند باندھنے کی بجائے سارا معاملہ ہم پر چھوڑ دیا ہے۔جب ہمارا معاملہ ہی ہم پر چھوڑ دیا ہے تو یہ لوگ جن کو ہم نے بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اقتدار میں لائے تھے وہ کس مرض کی دوا ہیں ؟کیاوہ صرف ڈرانے کے لیے منتخب کیے گئے تھے؟ اگر یہ ڈرانے والا ہی کام ان کو کرنا تھا تو یہ کام تو کوئی بھی کر سکتا تھا، چچا چھکن بھی کر سکتے تھے آپ کیا کرنے آئے ہیں، صرف سبسڈی دینے ،گندم چینی کا سیکنڈل بنانے یا اور کوئی ذمہ داری بھی  آپ کی   بنتی ہے۔؟

حکومت کی کامیابی کا دارومدار صرف ایک چیز پر ہوتا ہے اس کا نام ہے عوام کا اعتماد۔ اگر عوام کا آپ پر اعتماد نہیں ہے تو لاکھ ترلے کریں، روزانہ آ کر تقاریر کریں اور عوام کو کہیں کہ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ،تو کیا آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، اس کا مطلب ہے موت سے ڈرنا نہیں ہے ۔۔۔اب بتائیے دنیا میں  ایسا کون ہو گا جو اس طرح موت کو گلے لگائے گا۔ہم نے تو سمجھا تھا کہ صدیوں کے بگڑے ہوئے کام ٹھیک ہو جائیں گے اور معاملات ایک ٹریک پر آ جائیں گے مگر

کوئی امید بر نہیں آتی ،کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔

موت کے سوداگر نام کا ایک ناول ہے جسے 2002 میں ڈی جے میک ہیل نے تحریر کیا تھا، کہانی تو کچھ اور قسم کی ہے کہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں تین سورج نکلتے ہیں مگر اس ناول کا تھیم دس ریاستوں یا دس صوبوں کی سرحدیں ختم کرنا ہے مگر ہمارا خیال نہیں بلکہ یقین ہے کہ حکومتی بزرجمہروں نے اسی طرح اس وبا کے لیے اور اس کے پھیلاؤکے لیے پورے ملک اور شہروں کی سرحدوں کو ختم کیا ہے۔

اس مصنف کے دو قول مجھے نہیں بھولتے ایک یہ کہ کیا تمہیں علم ہے ستر ہزار لوگوں کو اکٹھا کرنا کتنا مشکل کام ہے، جب ان ستر ہزار لوگوں کو علم ہو کہ ڈائنوسارز ان کو کھا جائیں گے اور دوسرا
Where is here and when is now?
یہ دونوں اقوال ڈی جے میک ہیل کے ناول موت کے سوداگر کے ہیں اس میدان سیاست کی عمارت کا بنیادی پتھر اعتماد کا ہے جب تک حکمران کا یہ مسئلہ ہو کہ اسے عام آدمی ووٹر کا اعتماد چاہیے اس وقت معاملات کو ہینڈل کرتے ہوئے احتیاط کی جاتی ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے اور کوئی  ایسی بات نہ کی جائے جس پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکمران خود کو جوابدہ سمجھتا ہے جب یہ احساس ختم ہو جائے پھر اس میں اور اس سرپٹ دوڑتے گھوڑے میں فرق نہیں جس کی پشت پر کوئی  سوار نہ ہو۔

پروفیشنلز کی پوری دنیا میں بات سنی جاتی ہے ان کے کہے کو مانا جاتا ہے ان کی تحقیق کو سامنے رکھ کر حکومتی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کی آراء کا احترام کیا جاتا ہے، اگر کسی ملک میں کوئی سماوی یا زمینی آفت کا سامنا ہو تو ان پروفیشنلز کی مدد سے ہی ان کی صحت، زندگی اور خوراک کے بارے میں آگاہی کے بعد پالیسیاں بنائی جاتی ہیں مگر یہاں یہ کیسا مذاق ہے کہ صحت کے ماہرین کی آراء کو  ،ان   کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے، ہمیں علم ہے کہ ڈاکٹرز حضرات، ان کی تنظیمیں بڑے بڑے ہسپتالوں کے سربراہ جن میں جاوید اکرم چیئرمین  سی یو ایچ سی اور ڈاکٹر جلال اکبر کب سے کہہ رہے ہیں کہ مریضوں کی ظاہر کی گئی  تعداد  یا معلوم تعداد سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔کراچی کے ایک معروف ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب فٹ پاتھوں کے علاوہ مریضوں کو رکھنے کی کوئی جگہ نہیں بچی مگر حرام ہے کہ حکومت کو اس بات کا اندازہ ہو ،وہ اپنے  اسی بیانیہ پر قائم ہیں کہ ایک فیصد اشرافیہ لاک ڈاؤن چاہتی ہےاب ریستوران اور پارکوں کے کھولنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے اور خیبر پختون خوا  میں سیاحتی مقامات بھی کھولے  جا رہے ہیں۔یہ تو سیدھی موت کی سوداگری ہے موت کا کاروبار ہے اور از خود موت کو دی گئی دعوت ہے۔۔حضور کریم کا ارشاد ہے کہ وبا کے دنوں میں جہاں ہو وہیں قیام کرو تاوقتیکہ وبا ختم ہو جائے مگر اسی وبا کے دنوں میں ہم نے بند ٹرانسپورٹ کو کھلتے اور مسافروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی اجازت دی۔

لاہور میں بہت سارے قبرستان ہیں مگر ان میں سب سے بڑا میانی صاحب کا قبرستان ہے جہاں جگہ نہ ہونے کے باوجود قبریں کھودی جاتی ہیں اور مردے پر مردے کی تدفین کی جاتی ہے اگر آپ کسی عزیز کی قبر پر پہنچنا چاہتے ہیں تو جانے کتنی قبروں کی بیحرمتی کے ہم مرتکب ہوتے ہوں گے یہ قبرستان جین مندر سے لے کر بہاولپور جی او آر تک پھیلا ہے درمیان میں ایک چھوٹی سی سڑک ہے جو مزنگ اور چوبرجی کے درمیان دل کے چیر جتنی تنگ ہے اس طرح لاہور کا ایک سیاسی قبرستان بھی ہے جہاں بھٹو جیسے عوامی لیڈر کی قبر ہے اگرچہ وہ دفن لاڑکانے میں ہوا مگر اس کی قبر لاہوریوں نے ہی کھودی تھی یہ شہر لاہور اپنے بڑے دل کی طرح بڑا قبرستان بھی رکھتا ہے وہاں ہر وقت سیاسی قبریں کھدتی رہتی ہیں ،آپ کی قبر بھی کھودی جا چکی ہے چھوٹی سی خوبصورت سی آپ کی سیاسی قبر۔

اس وقت ہمارا ملک کرونا مریضوں کی تعداد کے حوالے  سے دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جولائی اگست کے مہینوں میں اس میں مزید تیزی کا امکان ہے۔اب ذرا ان ممالک پر بھی نظر ڈال لی جائے جہاں مریض یا تو نہ ہونے کے برابر ہیں یا اموات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ویتنام کل مریض۔359 اموات ۔زیرو
موزنبیق دو اموات
یوگنڈا اموات زیرو
اردن۔مریض 831 اموات نو
سری لنکا۔مریض۔1857۔اموات گیارہ
نیپال۔ مریض 3762 اموات چودہ
لبنان۔1350 مریض اموات تیس
بھوٹان۔مریض۔59۔اموات زیرو
کمبوڈیا ۔159 مریض اموات زیرو
ہانگ کانگ ۔1108 مریض چار اموات

اس مذکورہ تعداد سے زیادہ ہمارے ایک ایک ضلع میں زیادہ مریض ہیں اور ایک ایک ضلع میں ان ممالک سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں اسی سے ہماری حکومت کی کارکردگی بھی ظاہر ہوتی ہے۔دنیا میں تیس ایسے ممالک ہیں جہاں کرونا کی وجہ سے  ایک بھی وفات نہیں ہوئی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممالک ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک تھے؟۔نہیں!
کیاوہ بر اعظم یورپ میں واقع ہیں
نہیں قطعاً نہیں
کیا وہ افریقہ اور ایشیا کے ممالک ہیں
جواب ہے جی ہاں وہ اسی براعظم یا پسماندہ ترین براعظم افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں کیا وہ وہاں کے ڈاکٹر زیادہ تجربہ کار ہیں
جواب ہے نہیں

کیا وہاں میڈیکل کی سہولیات ہم سے زیادہ ہیں جواب ہے نہیں۔

بات بالکل سیدھی سی ہے اس میں کوئی نیوٹن کا فارمولا نہیں ہے کوئی سٹیفن ہاکنگ کی تھیوری نہیں ہے بات صرف کمٹمنٹ اور بہتر حکمت عملی کی ہے رمضان کریم کی آمد سے کچھ دن قبل یہ وبا تقریباً ختم ہونے والی تھی لاک ڈاؤن بھی جاری تھا اور عام آدمی اس سے بچنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔
اب اسے ذرا مذہبی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں جن دنوں یہاں یہ وبا تقریباً ناپید ہو چکی تھی یا بہت حد تک اسے کنٹرول کیا جا چکا تھا انہی دنوں میں حرمین شریفین احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر  دیا گیا،کئی ماہ سے لے کر اس وقت تک خانہ خدا اور روضہ رسول اس وبا کی وجہ سےاحیتاطاً بند ہیں یہ حدیث بھی ہے اور ہمارا ایمان بھی کہ شہر مدینہ میں قیامت تک کوئی وبا نہیں داخل ہو سکے گی اس کے باوجود حضور پاک کے حرم پاک کو حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت تک زائرین کے لیے محدود کر دیا گیا ہے جو تاحال جاری ہے۔حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ہے مگر اس بارحج مبارک کی بھی بہت محدود حد تک اجازت دی گئی ہے مگر یہاں پنجابی کہاوت کے مصداق لگی مسیت گالہڑ امام کے مصداق مسجدیں کھلیں ہیں اور عید پر وہ رش کہ الحفیظ و الامان یہ کس عالم نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ ان مسجدوں کی اہمیت ان حرمین شریفین سے زیادہ ہے جہاں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔حرمین شریفین کے علاوہ نجف اشرف بند روضہ امام حسین بند مگر یہاں کھلے عام موت کی سوداگری کی کھلی اجازت۔

حرمین شریفین میں تراویح کا صدیوں پرانا تسلسل بھی برقرار نہ رہا اور واضح ہدایت کی گئی کہ تراویح گھروں میں ادا کی جائے گی۔مگر یہاں ہمارے وطن عزیز میں معاملہ یکسر مختلف تھا صدر مملکت عارف علوی کے علما سے مذاکرات شروع کر دئیے گئے یہ اٹھارہ اپریل کی بات ہے معلوم ہوا کہ تراویح مساجد میں ہی ادا کی جائیں گی مگر خاص ایس او پیز کے ساتھ۔علما مذاکرات کے بعد اور تروایح کی مساجد میں اجازت کو اپنی فتح قرار دینے لگےان علما کے نام لینے کی ضرورت نہیں مگر یاددہانی کے لیے کچھ نام عرض کر دیتے ہیں۔
منیب الرحمان
تقی عثمانی
حنیف جالندھری
طاہر اشرفی اور بہت سارے دوسرے

اب جب سوسائٹی میں کرونا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے ہمیں یہ علما کہیں نظر نہیں آتے یہ کوئی عام عالم نہیں تھے یگانہ روزگار علما ہیں مگر ان سے ایسے سہو کی   توقع تھی نہ اب اس کی تلافی کی کوئی صورت ہے۔ان علما سے گذارش ہے وقت کی آواز پر لبیک کہیں اور سامنے آئیں اور معاشرے کی رہنمائی کریں۔

SHOPPING

معیشت جس کا رونا رویا جا رہا ہے اس پر  ایک اور زاویے سے نظر ڈالیں جب سرکاری ہسپتالوں میں مرض الموت میں مبتلا کرونا مریضوں کو داخل نہیں کیا جا رہا۔یہ مثال ہمیں ہمارے دوست علی ساحل نے کراچی سے ارسال کی ہے۔ ایک بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، میں اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے ساتھ گھر میں آئیسولیٹ ہوں، چونکہ میں سرمایہ دار نہیں ہوں اس لیے ضروریاتِ زندگی کے لیے کبھی مجھے اور کبھی میری بیوی کو گھر سے باہر نکلنا ہی پڑتا ہے اب ہم فرض کرتے ہیں مجھے بخار ہوجاتا ہے تو مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کورونا ٹیسٹ کروانا ہی پڑے گا اس وقت کراچی میں کورونا ٹیسٹ کی فیس 8000 روپے ہے، اب اگر میرا کورونا رزلٹ منفی آتا ہے تو ٹھیک لیکن اگر مثبت آتا ہے تو مجھے اپنے گھر کے باقی چھ افراد کے بھی ٹیسٹ لازمی کروانے پڑیں گے یعنی مجھے مزید 48000 ہسپتال والوں کو دینے پڑیں گے، اب فیملی میں سے اگر مزید دو افراد کا کورونا مثبت آجاتا ہے تو گھر کے تین افراد کو آئیسولیٹ ہونا پڑے گا، اب اگر سوچا جائے کہ کسی ہسپتال میں آئیسولیٹ ہوجائیں تو ایک فرد کے روزانہ چارجز 75000 ہیں اس لحاظ سے تین افراد کا ایک دن کا خرچہ دو لاکھ پچیس ہزار اور چودہ دن کا آئیسولیشن مطلب اکتیس لاکھ پچاس ہزار، تو یہ ناممکن ہے اس لیے گھر میں ہی آئیسولیٹ ہونا پڑے گا چودہ دن تک وٹامن فلاں فلاں فلاں کا فی فرد دس ہزار بھی خرچہ ہو تو تیس ہزار روپے  بنتے ہیں اور پھر چودہ دن بعد تینوں افراد کا دوبارہ ٹیسٹ یعنی 24000 ہزار مزید، اب اس مرحلے میں کُل خرچہ ہوا ایک لاکھ دس ہزار روپے یعنی ذرا سی بے احتیاطی کا خرچہ ایک لاکھ دس ہزار روپے ہے تو جناب اگر آپ کے پاس ایکسٹرا ایک لاکھ دس ہزار رکھے ہوئے ہیں اور جان پر عذاب بھگت سکتے ہیں تو شوق سے جائیے باہر گھومنے،لوگوں سے ملیے اور مزے کیجیے۔ یہ موت کا نیا کاروبار ہے یہ موت کی نئی سوداگری ہے کہ اس طوفان میں جو بچ جائے گا وہی مظہر امام کے بقول علیہ السلام ہو گا۔

SHOPPING

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *