• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بجٹ 2020ء – کورونا کے ساتھ ساتھ قوم پر نازل ہونے والی ایک اور مصیبت کی آمد آمد(دوسرا ،آخری حصّہ)۔۔ غیور شاہ ترمذی

بجٹ 2020ء – کورونا کے ساتھ ساتھ قوم پر نازل ہونے والی ایک اور مصیبت کی آمد آمد(دوسرا ،آخری حصّہ)۔۔ غیور شاہ ترمذی

موبائل کسی دور میں پی ٹی سی ایل کی ذیلی کمپنی پاک ٹیل نے پاکستان میں متعارف کروایا اور رج کے منافع کمایا- پاک ٹیل کے منافع کو دیکھتے ہوئے موبی لنک نے بھی پاکستان میں موبائل سروسز شروع کرنے کی اجازت حاصل کی- اس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی سرمایہ کاروں کا بزنس وینچر تھا- یہ وہ دور تھا جب کال کرنے کے پیسے تو ظاہر ہے بھرنے ہی پڑتے تھے لیکن کال وصول کرنے کے بھی پیسے دینے پڑا کرتے تھے- پاک ٹیل اگرچہ بند ہو گئے لیکن موبی لنک کے ساتھ ساتھ دوسری سیلولر کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہاں یو فون، وارر، زونگ اور ٹیلی نار نے ڈیرے لگا لئے- کمیونیکیشن میں منافع کا مارجن اتنا بڑا تھا کہ وہ موبی لنک جو سم فروخت کرنے کے ہزاروں روپے لیا کرتا تھا وہی سم بعد ازاں دوسری کمپنیوں اور خود موبی لنک نے مفت بھی فروخت کیں اور آج بھی مفت ہی فروخت ہوتی ہیں- موبائل فون کالز، میسیجز، موبائل انٹرنیٹ، کیش اکاؤنٹ ٹرانزیکشن میں چارجز بھی کم ہوتے گئے- اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کمپنیوں کے مارجن میں اتنا بڑا منافع تھا کہ یہ آج اپنے صارفین کو مفت کال، میسیجز، انٹرنیٹ کے پیکیجز نہایت ارزاں نرخوں پر مہیا کر رہے ہیں- اس انڈسٹری میں بھی غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاروں نے خوب منافع کمایا اور آج بھی یہ منافع اس حد تک یقیناً موجود ہے کہ ہر کمپنی اس شعبہ میں مزید انویسٹمنٹ کرتی چلی جا رہی ہے-

ان تمام انڈسٹریز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوش رکھنے کے لئے منافع کی شرح بہت زیادہ رکھی گئی جبکہ مقامی معیشت کا گلہ اس حد تک گھونٹ دیا گیا ہے کہ وہ بستر مرگ پر پہنچی ہوئی ہیں- اپریل 2020ء میں آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ “آئی ایم ایف کنٹری رپورٹ نمبر 114/20” جاری کی جس میں اس نے پی ٹی آئی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ حکومت “مراعات اور چھوٹ کے خاتمے کے ذریعے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور بجٹ اصلاحات میں آگے بڑھی”۔ آئی ایم ایف کا ہدف ہے کہ پاکستان کی ترقی پذیر اور مشکلات کی شکار معیشت پر سرمایہ دارانہ ٹیکسوں کے حجم کو دوگنے سے بھی زیادہ کر دیا جائے۔ سنہ 20/2019 کے بجٹ میں آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان کو 4،600 ارب روپے تک کے ٹیکس جمع کرنے کا کہا تھا اور وہ اس میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے اس کو 2022/23ء تک 8,000 ارب روپے پر لے جانا چاہتی ہے۔ آئی ایم ایف بھاری بھرکم ٹیکس اس لئے لگواتی ہے تاکہ ڈیمانڈ کنٹریکشن (اشیاء کی طلب میں شدید کمی) پیدا ہو جائے جس سے مقامی معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ڈیمانڈ کنٹریکشن کے ذریعے آئی ایم ایف مقامی معیشت میں معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر کے درآمدات کو کم سے کم کر کے زرمبادلہ (غیر ملکی کرنسی یعنی ڈالر، یورو) کے استعمال میں کمی لاتی ہے اور اس طرح آئی ایم ایف شرح تبادلہ (exchange rate) کو سپورٹ کرتی ہے۔ اس کے بعد چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کے نام پر آئی ایم ایف “مالی نظم و ضبط” (Fiscal Discipline) مسلط کر کے عوام کے لئے ریاست کی جانب سے سبسڈی (subsidies) اور امداد (grants) کو کم کرواتا ہے اور شرح تبادلہ (exchange rate) پر دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شرح تبادلہ کو مستحکم کر کے آئی ایم ایف اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مغربی سرمایہ دار جنہوں نے پاکستان کو سود پر مبنی قرض دیے ہوئے ہیں، ان کے پیسے کی حفاظت کی جائے۔ آئی ایم ایف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ٹیکس بحثیت کُل ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح سے زیادہ ہونا معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے اور اس طرح پاکستان اپنے وسائل کے مطابق معیشت کو چلانے کی عادت کو اپنائے گا لیکن حقیقت میں اس طرح کی پالیسی مغربی سرمایہ داروں کے مفاد میں پاکستان کی معیشت کے استحصال کے علاوہ کچھ نہیں۔

julia rana solicitors

پاکستان جیسے ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کا ٹیکسوں کے متعلق نقطہ نظر، ایک انتہائی امیر چھوٹی سی اشرافیہ کا حکمرانی کے نظام پر زبردست اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے۔ یہ صورتحال سرمایہ دارانہ نظام میں دی جانے والی “ملکیت کی آزادی” کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جس نے چند ہاتھوں میں بے شمار دولت کو جمع کر دیا ہے۔ امیر افراد اور کمپنیاں جمہوری نظام میں پارلیمنٹ میں اپنے نمائندے بھجوانے کے لئے کثیر سرمایہ خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ ان نمائندوں کے ذریعے بجٹ میں رقم مختص کروائیں جو ان امیر افراد اور ان کمپینوں کے مفاد کے حصول کے لئے خرچ کی جا سکے۔ “وسائل کی تقسیم” اور ” پیداوار کے لئے وسائل مختص کرنے” اور “نجی شعبے کی حوصلہ افزائی” کے نام پر بڑے بڑے سرمایہ دار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ٹیکس کا بوجھ عوام پر بڑھتا رہے جبکہ وہ اپنے لئے دونوں ہاتھوں سے دولت جمع کرتے رہیں چاہے یہ کاروبار کے لئے ٹیکس مراعات کے نام پر ہو یا معاشی بحرانوں کے دوران ملنے والے بڑے بڑے حکومتی بیل آوٹ پیکجز کی شکل میں۔ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں مقامی سرمایہ دار اشرافیہ اس استعماری لوٹ مار کو قبول کرتی ہے اور استعمار کے ساتھ مل کر سرمایہ دارنہ نظام کے نفاذ کو طول بخشتی ہے تاکہ وہ اس لوٹ مار میں سے اپنا حصہ لے سکے۔

شنید ہے کہ کورونا سے شدید متاثرہ معیشت کے باوجود بھی آنے والے بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایماء پر 800 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی تیاری ہے- ایک طرف تو حکمران ہر بات میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرتے ہیں تو وہاں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ریاست مدینہ میں بیت المال (ریاست کے خزانہ) میں آنے والے محصول مختص ہوتے ہیں- بیت المال کے مستقل مختص محصولات کے ذرائع زکوۃ، خراج، عشر، جزیہ اور فئہ ہیں۔ زکوۃ مویشیوں، فصلوں، پھلوں اور ہر طرح کی تجارتی اشیاء پر وصول کی جاتی ہے۔ زرعی شعبے میں خراج زمین کے مالک سے اس زمین کی ممکنہ پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر وصول کی جاتی ہے۔ خراج اس کسان سے نہیں لیا جاتا جو زمین کا مالک نہ ہو بلکہ اس پر ایک ملازم کے طور پر کام کر رہا ہو۔ جزیہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم مرد شہری سے لیا جاتا ہے جو مالی لحاظ سے مستحکم ہو جبکہ فئے مالِ غنیمت ہے جو ریاست پاس اس وقت آتا ہے جب اسلامی ریاست کی افواج اسلام کے لئے کوئی نیا علاقہ فتح کریں۔ ان وسائل کے علاوہ اسلامی ریاست عوامی اثاثوں، جیسا کہ بجلی، گیس، تیل اور معدنیات، سے حاصل ہونے والی آمدنی وصول کرتی ہے کیونکہ اسلام ان اثاثوں کی نجکاری کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلامی ریاست پر ان کے امور کی نگرانی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ ریاست کے خزانے میں کمیونیکیشن سروسز جیسا کہ ڈاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور سٹلائیٹ کمیونیکیشن، سے آنے والے وسائل بھی جمع ہوتے ہیں۔ ریاست کے خزانے میں پبلک ٹرانسپورٹ جیسا کہ بسز، ٹرینوں، بحری جہاز اور ہوائی جہاز کی سروس سے آنے والے وسائل بھی جمع ہوتے ہیں۔ لوگوں کے امور پر خرچ کرنے کے لئے درکار وسائل ان کارخانوں سے بھی آتے ہیں جو عوامی اثاثوں سے منسلک ہوتے ہیں جیسا کہ آئل ریفائنری، اسٹیل مل وغیرہ۔ اس طرح ریاستی ملکیت میں موجود ان کارخانوں سے بھی وسائل بیت المال میں آتے ہیں جو ان شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ بھاری صنعتیں، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور ٹرینیں بنانے کے کارخانے وغیرہ۔ اور اسلامی ریاست شرعی قوانین کے مطابق ان اشیاء پر بھی کسٹم ٹیکس لگاتی ہے جو ریاست کی سرزمین میں باہر سے لائی جائیں۔

اگر ان ذرائع سے جمع ہونے والا مال بیت المال کی ضروریات کے لئے ناکافی ہو تو پھر ریاست کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی دولت پر ٹیکس لگائے وہ دولت جو ان کے معیار زندگی کے مطابق بنیادی ضروریات اور آسائشوں کو پورا کرنے کے بعد ان کے پاس بچتی ہو۔ جن مسلمانوں کے پاس زائد دولت نہیں ہوتی ان سے ٹیکس نہیں لیا جا سکتا جیسا کہ وہ لوگ جو خود ضرورت مند ہوں یا وہ جو قرض میں ڈوبا ہو۔ لیکن ریاست اس قسم کا ٹیکس صرف چھ اخراجات کے لئے لگا سکتی ہے اور یہ وہ اخراجات ہیں کہ جن پر خرچ کرنا مسلم معاشرے پر فرض ہے: 1۔ دفاع کے لئے، 2۔ فوجی صنعت اور اس سے منسلک صنعت کے لئے، 3۔ غریب، ضرورت مند اور مسافر پر خرچ کرنے کے لئے، 4۔ سپاہیوں، سرکاری ملازمین، ججز، اساتذہ، ڈاکٹرز اور وہ تمام لوگ جو عوام کے مفاد میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ان کی تنخواہوں پر خرچ کرنے کے لئے، 5۔ عوام کو ان سہولیات کی فراہمی کہ جن کے نہ ہونے سے نقصان پہنچے جیسا کہ سڑک، اسکول، یونیورسٹی، ہسپتال، پانی کی فراہمی وغیرہ پر خرچ کرنے کے لئے، 6۔ ہنگامی صورتحال جیسا کہ قحط، زلزلہ، سیلاب، وباء اور دشمن کےحملے کے حوالے سے اخراجات برداشت کرنے کے لئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اختتاما عرض ہے کہ بجٹ خسارہ کو کم کرنے کے لئے اور گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے اگر نئے ٹیکس لگانے ضروری ہی ہیں تو حکومت 25 ایکڑ سے زائد رقبے کے کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لازم قرار دے اور حکومتی اخراجات میں واضح کمی لائے- بجٹ میں چھوٹے تاجروں اور کاٹیج انڈسٹری کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں- ایس ایم ایز سیکٹر کو ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے ۔ ہمارے ملک کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات 400 ملین ڈالر کے قریب ہیں- بجٹ میں آئی ٹی ایکسپورٹ پر بھی مراعات دی جائیں تاکہ اسے ایک ارب ڈالر بلکہ اس سے بھی زیادہ تک لے جایا جا سکے- مگر بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کے پاس کوئی بھی ایسے طویل المیعاد اور قلیل المیعاد اقتصادی منصوبے نہیں ہیں جن کو دیکھ کر ملک کی عوام سکھ کا سانس لے سکے- چلو آج اگر کچھ دشواری ہے مگر کل کو اس منصوبے کے ثمرات جب سامنے آئیں گے تو ہمارے بچے سکھ اور چین کی زندگی جی سکیں گے- تحفیف زر کا عمل دنیا بھر میں ہوتا رہا ہے بلکہ جاپان میں سب سے زیادہ ہوتا ہے مگر جب کوئی حکومت تحفیف زر کرتی ہے اور جب ملک میں نقد پیسہ آتا ہے تو ملک کی حکومت عوام کے ساتھ مل کر پارٹنر شپ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کرتی ہے- ملک میں چھوٹی صنعتوں کو رواج دیتی ہے اور اس طرح اگر ایک طرف وہ پیسہ Regenerate ہوتا ہے تو دوسری طرف ملک میں قصاد بازاری کا رجحان ختم ہوجاتا ہے- اشیاء کی تعداد بڑھنے لگتی ہے تو پیدوار بڑھنے کی صورت میں ملک کی کرنسی خودبخود اُٹھنے لگتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی واقع ہوتی ہے تو ملک کا BOP بھی ملک کے حق میں ہو جاتا ہے اور افراط زرخود بخود قابو میں آجاتا ہے- دوسری صورت میں اگر ملک کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہ ہو تو دس سال بعد جب لئے گئے قرض کی قسط واپس کی جاتی ہے تو اس کا سارا بوجھ عوام کے اوپر آن پڑتا ہے- مگر جب اُن میں بوجھ اُٹھانے کی سکت نہ ہو، جب فی کس آمدن بڑھی نہ ہو، جب عوام اس قابل نہ ہو کہ وہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس ادا کرسکیں تو پھر فکر کا مقام یہ ہے کہ اس صورت میں ملک اور ملک کی معیشت کا کیا انجام ہوگا؟-

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply