دنیا کے چکر (2)۔۔وہاراامباکر

جدید دنیا بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہے۔ بڑی سادہ اشیاء کو بنانے کے لئے عالمی سپلائی چین کام کرتی ہے۔ دنیا میں بکھرے ہزاروں لوگوں کی محنت اور کوآرڈینیشن درکار ہوتی ہے۔ ان میں سے اکثر کو یہ کوئی اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کی محنت کی آخری صورت کیا ہو گی۔ جنگل میں درخت گرانے والے کو معلوم نہیں کہ اس سے میز بنی گی یا پنسل۔ چلی کی کان میں ایک دیوہیکل زرد ٹرک کو ڈھلوان پر چڑھانے میں مصروف ڈرائیور نے کبھی سوچنے کی کوشش بھی نہ کی ہو گی کہ یہ خام تانبا کسی بجلی کی تار میں استعمال ہو گا یا کسی پستول کی گولی کے کیس کے طور پر۔

اور بننے والی اشیاء کا تنوع بھی حیران کر دینے والا ہے۔ ایک بڑے سپرسٹور پر موجود پراڈکٹ کی فہرست میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ پیچیدگی پر تحقیق کرنے والے ایرک بائن ہاکر نے اندازہ لگایا کہ اگر آپ مختلف سائز اور رنگ کے جوتے، قمیضیں، جرابیں، کئی برانڈز اور ذائقوں کے جیم اور چٹنیاں، کتابوں کے لاکھوں دستیاب ٹائٹل، موسیقی اور فلمیں اور بکنے والی دوسری دستیاب اشیاء کو جمع کریں تو بڑے شہروں، جیسا کہ نیویارک اور لندن، میں دس ارب الگ طرح کی اشیاء برائے فروخت ہوتی ہیں۔ اور جب ان میں سے اکثریت آج سے ایک سو سال پہلے کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی۔ لاکھوں نئی اشیاء ہر مہینے منظرِ عام پر آتی ہیں۔ یہ دماغ کو چکرا دینے والی وہ پیچیدگی ہے جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے جبکہ ہم اسے روزمرہ کا معمول سمجھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا یہ پیچیدگی اچھی شے ہے یا بُری؟ اس پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں (اور ہیں) لیکن یہ ہماری دنیا کی حقیقت ہے اور اس نے بے انتہا دولت کو جنم دیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کسی کو اس دولت میں سے حصہ نہیں ملا لیکن آج کے اوسط شخص کا معیارِ زندگی تاریخ میں کسی بھی وقت سے بہت زیادہ بلند ہے۔ یہ پہیہ بس چل رہا ہے اور ہمیں اس کے ہونے کے کسی بھی پہلو کا احساس صرف اس وقت ہوتا ہے جب اس میں کسی بھی جگہ پر تھوڑا سا بھی خلل آ جائے۔ یہ پراسس معجزاتی سا لگتا ہے اور اس کو سمجھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جتنا عام خیال ہے۔ اس کو ترتیب دینے اور کنٹرول کرنے کے لئے متبادل نظام، جیسا کہ فیوڈل ازم یا مرکزی منصوبہ بندی ۔۔ اپنی کوشش کر گئے اور ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔

ٹوسٹر پراجیکٹ ہمیں رک کر غور کرنے کا ایک موقع دیتا ہے۔ (تفصیل کے لئے پہلی قسط)۔ ایک طرف یہ اس دنیا کی sophistication کی علامت ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کے لئے رکاوٹوں کی بھی ایک علامت ہے جو یہ تصور کرتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں کہیں پر بھی کوئی آسان حل موجود ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے دہشت گردی تک، بینکاری کا نظام بہتر کرنے سے عالمی غربت کم کرنے تک، پالیسی کے بڑے مسائل کی کمی نہیں۔ ان پر بحث ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی جن میں کبھی کسی حل تک پہنچنے کے قریب جاتے نظر نہیں آیا جاتا۔ روزمرہ زندگی اور عام بزنس کے مسائل بھی دراصل ویسی ہی پیچیدگی چھپائے ہوئے ہیں جو یہ پراجیکٹ عیاں کرتا ہے۔

ٹوسٹر کا مسئلہ زیادہ مشکل نہیں۔ ٹوسٹ نہ جلے، آگ نہ لگے، استعمال کرنے والے کو بجلی کا جھٹکا نہ دے۔ اور ٹوسٹ خود ایک بے ضرر سی شے ہے۔ یہ آپ کو چکر دینے کی کوشش نہیں کر رہا۔ یہ آپ کو قتل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ۔ یہ آپ کے طرزِ زندگی سے نالاں ہو کر فیصلہ نہیں لے رہا۔ یہ مسئلہ مقابلے میں مضحکہ خیز طور پر آسان ہے جب ہم اس کا موازنہ اس سے کریں کہ “کسی غریب ملک میں کیا ایسا کیا جائے کہ ہر گھر میں ٹوسٹر اور اس کے اندر ٹوسٹ موجود ہوں”۔ یہ موسمیاتی مسائل کی طرح کا مسئلہ نہیں جہاں کچھ سوچ و بچار کے ساتھ حل تک پہنچا جا سکے۔ یہ پیچیدہ اور تیزی سی بدلتی دنیا میں پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے مسائل ہیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *