• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر ’ایکشن آج سے شروع ہوگا‘

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر ’ایکشن آج سے شروع ہوگا‘

پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ بنی گالہ میں ہونے والے اہم اجلاس میں چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے اور ان کا اعلان اتوار کو پریس کانفرنس میں ہوگا۔
ٹوئٹر پر وزیر اطلاعات نے لکھا کہ ’جن لوگوں نے شوگر مافیا کی سرپرستی کی اور عوام کو لوٹ کر فائدہ اٹھایا ان کے خلاف کارروائی کا عمران خان کا وعدہ جلد پورا کیا جائے گا۔‘
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے بھی اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شوگر کمیشن رپورٹ اور کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی کا طریقہ کار طے ہوچکا جس کو وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر کے مطابق فوجداری کارروائی، ریگولیٹری اقدامات اور وصولی کے طریقہ کار کی سفارشات کی گئی ہیں۔ اور ایکشن آج سے شروع ہوگا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں چینی اور آٹا بحران پیدا ہونے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انکوائری کی تھی جس کی رپورٹ وزیراعظم کو گزشتہ ماہ پیش کی گئی۔
انکوائری رپورٹ میں شوگر ملز مالکان کو مصنوعی بحران اور قیمتیں بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
انکوائری رپورٹ میں تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین پر کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
بعد ازاں حکومت کی ہدایت پر فرانزک آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ نے میں بھی ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کی تصدیق کئی گئی اور ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو ٹھہرایا گیا جس میں جہانگیر ترین سمیت حکومتی اور اپوزیشن کی سیاسی شخصیات کے نام شامل تھے۔

رپورٹ میں حکومتی اداروں جیسے ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کو بھی ذمہ دار گرادنتے ہوئے کہا گیا کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔
خیال رہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے چینی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو گروپ اور جے کے کالونی شوگر ملز کو ہوا۔
یہ دونوں شوگر ملز تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کی ملکیت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی شوگر ملز نے چینی بحران سے سبسڈی کی مد میں 56 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا جبکہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتے دار کی شوگر مل کو چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *