امام زین العابدین کا خطبہ۔استاد انصاریان

 لوگ ابھی  گريہ و بکا کر رہے تھے کہ امام زين العابدين(ع) نے انہيں خاموش ہونے کا حکم ديا-چنانچہ جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو امام سجاد عليہ السلام نے خدا کی  حمد و ثنا اور پيغمبر اسلام (ص) پر درود و سلام بھيجنے کے بعد فرمايا:

اے لوگو ! جو شخص مجھے پہچانتا ہے، وہ تو پہچانتا ہی  ہے اور جو شخص نہيں پہچانتا ميں اسے اپنا تعارف کرائے ديتا ہوں ميں علی  ابن الحسين ہوں- وہ حسين جو بلا جرم و قصور نہر فرات کے کنارے ذبح کیے گئے،- ميں ان  کا بيٹا ہوں جن  کی  ہتک عزت  کی گئی  ، جن  کا مال و منال لوٹا گيااور جن کے اہل و عيال کو قيد کيا گيا- ميںان  کا پسر ہوں جسے ظلم و جور سے درماندہ کر کے شہيد کيا گيا اور يہ بات ہمارے فخر کے لیے کافي ہے-

اے لوگو ! ميں  تمھیں  خدا کی  قسم دے کر پوچھتا ہوں،کيا تم نے ميرے پدرِ عالی  قدر کو دعوتی  خطوط لکھ کر نہيں بلايا تھا ؟ اور ان کی  نصرت و امداد کے عہد و پيمان نہيں کیے تھے ؟ اور جب وہ تمہاري دعوت پر لبيک کہتے ہوئے تشريف لائے تو تم نے مکر و فريب کا مظاہرہ کيا اور ان  کی  نصرت و ياري سے دست برداري اختيار کرلی – اسی پر اکتفا نہ کيا بلکہ ان کے ساتھ قتال کر کے ان کو قتل کر ديا- ہلاکت ہو تمہارے لیے کہ تم نے اپنے لیے بہت برا ذخيرہ جمع کيااور برائی  ہو تمہاری  رائے اور تدبير کے لیے! بھلا تم کن آنکھوں سے جناب رسول اکرم (ص) کی  طرف ديکھو گے، جب وہ تم سے فرمائيں گے کہ تم نے ميری  عترت اہل بيت کو قتل کيا اور ميری ہتک حرمت کی اس لیے تم ميری  امت سے نہيں ہو-

راويان اخبار کا بيان ہے کہ جب امام کا کلامِ غم التيام يہاں تک پہنچا تو ہر طرف سے لوگوں کے رونے اور چيخ و پکارکی  آوازيں بلند ہونے لگيں اور ہر ايک نے دوسرے کو کہنا شروع کيا: ھلکتم وما تعلمون يعنی تم بے علمی ميں ہلاک و برباد ہو گئے ہو- حضرت زین العابدین  نے پھر سے سلسلہ کلام شروع کرتے ہوئے فرمايا:

خدا اس بندے پر رحم کرے جو ميری  نصيحت کو قبول کرے اور ميری وصيت کو خدا و رسول (ص) اور اہل بيت رسول (ص) کے بارے ميں ياد رکھے کيونکہ تمہارے لیے رسول خدا (ص)  کی زندگی ميں اعلی ترين نمونہ موجود ہے-

سب نے يک زبان ہو کر کہا :

يابن رسول اللہ (ص)  سب آپ کے مطيع و فرمانبردار ہيں- آپ جو حکم ديں گے ضرور اس کی تعميل کی جائے گي- ہم آپ کے دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن ہيں-

امام سجاد نے ان کا يہ کلامِ فريب انضمام سن کر فرمايا:

اے گروہِ مکاراں و عياراں! اب تمہاری  يہ خواہش پوری نہيں ہو سکتی – اب تم چاہتے ہو کہ ميرے ساتھ بھی وہی  سلوک کرو جو ميرے اباؤوا جداد  کے ساتھ کر چکے ہو ؟ حا شا و کلا – ايسا اب ہرگز نہيں ہو سکتا- بخدا ! ابھی تک تو سابقہ زخم بھی مندمل نہيں ہوئے- کل تو ميرے پدر عالی قدر کو ان کے اہل بيت کے ساتھ شہيد کيا گيا، ابھی تک تو مجھے اپنے اب و جد اور بھائيوں کی شہادت کا صدمہ فراموش نہيں ہوا- بلکہ ان مصائب کے غم و الم کی تلخی ميرے حلق ميں ابھی موجود ہے اور غم و غصہ کے گھونٹ ابھی تک ميرے سينہ کی ہڈيوں ميں گردش کر رہے ہيں- ہاں تم سے صرف اس قدر خواہش ہے کہ نہ ہميں فائدہ پہنچاؤ اور نہ ہی نقصان-

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *