کرونا،بل گیٹس اور پاکستانی عوام۔۔رحیم داد خان

جب کرونا وائرس سے چین کے شہر ووہان میں انسان مرنے لگے تو ہمارے ہاں لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ حرام جانوروں کے گوشت کھانے سے لگا ہے، لہذا یہ صرف چائنیز کو مار ڈالے گا ،پھر جب یہ وبا چین سے باہر یورپ پہنچی تو ہم نے طعنے دیے کہ یہ کفر اور ہم جنس پرستی کی سزا ہے۔

جب وبا نے مسلم ممالک کو اپنی  لیپٹ میں لینا شروع کردیا تو ہم نے کہا یہ بد کردار لوگوں کو بھی مارتا ہے، لہذا یہ پکے مسلمان نہیں ہیں ، بیماری جن کو لگے  گی، ان کا ایمان  آخری درجے سے بھی نیچے گرا ہوا   ہے ،جب سعودی عرب نے مکہ مکرمہ بند کردیا تو ہمارے ہاں لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ شاہ سلمان کا بیٹا محمد بن سلمان امریکہ کے ایماء پر یہ سب کچھ کررہا ہے۔
ساتھ ساتھ ہم نے اس وباء کو بل گیٹس کی سازش قرار دے دیا کہ دیکھو جی بل گیٹس چاہتا ہے کہ کرونا کی ویکسین بنا کر مسلمانوں سے اس کی مسلمانی طاقت بذریعہ ویکسین کھینچ لو ،کسی نے بتایا بل گیٹس چاہتا ہے کہ میں دنیا پر حکمرانی کروں۔

حالانکہ بل گیٹس نے ویکسین بنانے کے لئے کوششیں ضرور کی ہے اور کررہے ہیں،بل گیٹس کی ویکیسن کو پچھلے چند دنوں میں بہت boost ملا، اس کمپنی کا  سٹاک دو مہینے میں 7 ڈالر سے 55 ڈالر تک گیا اور پچھلے چند دنوں میں 17 سے 55 ڈالر تک گیا۔۔۔۔یاد رہے یہ کمپنی بل گیٹس کی نہیں  بلکہ اس نے اس کمپنی کو 350 ملین ڈالر donation دیا ہے تاکہ دنیا کو کرونا وائرس سے نجات ملنے میں مدد ملے،اس سے بل گیٹس کوئی  پیسہ نہیں کمائے گا۔

دیکھتے  ہی دیکھتے جب یہ وبا ہمارے ملک میں پہنچی تو ہم نے کہنا شروع کردیا کہ پاکستان میں وائرس کا کوئی امکان نہیں یہ سب پروپیگنڈا ہے ،یہ سب کچھ حکومت ڈالروں کے لئے کررہی ہے۔ چہ میگوئیاں شروع ہوئیں ، یہ کرونا شرونا کچھ نہیں ہے سب بکواس ہے،کہاں ہے کرونا، ہم نے تو کسی کو نہیں دیکھا کوئی کرونا کا مریض،دیکھیں بازار بھرا ہوا ہے، ماسک کیوں لگائیں کرونا ہے ہی نہیں،ہسپتال نہ جانا سب کو کرونا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں،ہمارے مریض کو تو دل کا،گردوں کا،شوگر کا مسئلہ تھا ہسپتال والوں نے کرونا بنا دیا۔

آہستہ آہستہ جب مریض  زیادہ ہوگئے تو حضرات نے کہنا شروع کیا کہ ہماری قوتِ مدافعت بہت بہتر ہے، ہزار مریض ہوئے تو ہم نے اذانیں دینا شروع کر دیں، دس ہزار ہوئے تو سرخ چائے اور لیمو سے علاج کا ڈھنڈورا پیٹا۔ جب مرض بڑھتا گیا تو ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے سائنسدانوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ وائرس بیس دن میں ختم ہو جائے گا،گرمی سے وائرس کا خاتمہ ہوجائے گا، کسی فلسفی نے کہا یہ زیادہ عمر کے لوگوں کو مارتا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے بیاسی ہزار سے زیادہ مریض ہو چکے ہیں اور پندرہ سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ہر روز بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں ،پنجاب میں سب زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں،نیک اور گناہ گار بندے یکساں وائرس کی لپیٹ میں ہیں  ،اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب مغربی ممالک کو دیے جانے والے طعنے کم ہو گئے ہیں ،حرام جانوروں کو بھی بھول گئے ہیں ، اور ہم جنس پرستوں کو بھی فی الحال معافی مل گئی ہے۔

پھونکوں والی  سرکاریں  چُپ سادھ کر بیٹھ گئی  ہیں اور سازشی تھیوریاں بھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں، فائیو جی کے نعرے بھی تقریباً ختم ہوگئے  ہیں ۔ گرمی اپنے جوبن پر ہے، اور وائرس ہے کہ پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

کفار اور حرام کا ورد کرنے والے اب سرگوشیوں میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ بھائی وہ ویکسین کا کیا بنا۔ بیماریوں کے سائے میں پل کر جوان ہونے والے، جنہیں اپنی امیونٹی پر بہت ناز تھا، اب دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔

بقول  کسی دوست کے”جو مرد مجہول اِس وبا کو میڈیا کی’ہائپ‘ قرار دیتے تھے انہیں چُپ سی لگ گئی ہے کیونکہ اُن کا کوئی نہ کوئی جاننے والا، عزیز، دوست یارشتہ دار اِس بیماری سے نبرد آزما ہے۔ ووہان سے پھیلنے والا وائرس امریکہ، یورپ سے ہوتا ہوا اب ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔ ’’میں خود بہت بڑا وائرس ہوں‘‘ جیسی شوخیاں اب ماند پڑ رہی ہیں۔”

ڈھیر سارے دانشور جو کرونا کو بل گیٹس اور مغربی دنیا کی  سازش سمجھتے ہوئے نہیں تھکتے تھے وہ بھی منظر عام سے غائب ہیں۔

اور اب لگتا ہے اگلا الزام ہوگا ہمارے مریض کو ہسپتال میں کوئی  داخل نہیں کرتا وہ اتنا سیرئیس تھا،ہمارے مریض کو وینٹی لیٹر نہیں ملا،ہمارے مریض کو بیڈ نہیں ملا اسی لیے وہ فوت ہوا، اگلے فیز میں لوگ بیڈ کے لیے، آ ئی سی یو   اور وینٹی لیٹر کے لئے لڑیں گے اور کی گئی غفلت سے اموات ہوں گی۔

اللہ ہمیں اس وبا سے اور عوام کی جاہلیت سے بچائے۔ آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *