ٹوسٹر پراجیکٹ (1)۔۔۔وہاراامبار

ٹوسٹر ایک معمولی سی شے لگتی ہے۔ یہ 1893 میں ایجاد ہوا تھا۔ روشنی کے بلب اور جہاز کی ایجاد کی درمیان۔ ایک صدی پرانی یہ ٹیکنالوجی اب عام گھروں میں پائی جاتی ہے۔ اچھا ٹوسٹر چند گھنٹوں کی کمائی سے خریدا جا سکتا ہے۔ اور اگر آپ اسے خود بنانا چاہیں؟ ایک ٹوسٹر بنانے پر آپ اپنی تمام زندگی صرف کر سکتے ہیں۔

لندن کے رائل کالج آف آرٹس کے پوسٹ گریجویٹ ڈیزائن کے سٹوڈنٹ کو اس کا ٹھیک سے اندازہ ہوا کہ ایک ٹوسٹر انسانیت کے لئے کس قدر بڑی اچیومنٹ ہے، جب انہوں نے ٹوسٹر پراجیکٹ شروع کیا۔ وہ خود سے ایک ٹوسٹر شروع سے بنانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے مارکیٹ سے سادہ ترین ٹوسٹر لیا اور اس کے الگ حصے کئے۔ اس میں چار سو سے زیادہ کمپوننٹ لگے ہوئے تھے۔ اس کو بنانے کے لئے تانبے کی ضرورت تھی تا کہ برقی پلگ کی پن، تاریں اور اندرونی وائرنگ بن سکے۔ لوہا درکار تھا تا کہ سٹیل سے گرِل کرنے والا اپریٹس بن سکے۔ سپرنگ بنایا جا سکے جو ٹوسٹ کو باہر نکال دے۔ نِکل کی ضرورت تھی تا کہ گرم ہونے والے حصے کو وائنڈ کیا جا سکے۔ پلاسٹک، تا کہ انسولیشن اور کیسنگ بنائی جا سکے۔

جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ ان کا یہ کام کس قدر دشوار ہے۔ خام لوہا حاصل کرنے کے لئے وہ ویلز کی کان میں گئے (جو اب میوزیم ہے)۔ اس کو پگھلانے کے لئے پندرہویں صدی کی ٹیکنالوجی استعمال کی لیکن ناکام رہے۔ اس کو ہئیر ڈرائر سے کرنی کی کوشش بھی کام نہ آئی۔ ان کا اگلا قدم ایک طرح کی چیٹنگ تھا۔ ایک نیا پیٹنٹ شدہ طریقہ اور دو مائیکروویو اوون لے کر اس کو پگھلایا۔ اس سے سکے کے سائز کا لوہا بنانے میں کامیابی ہو گئی۔

پلاسٹک اس سے آسان نہیں تھا۔ وہ اس کوشش میں تو ناکام رہے کہ برٹش پٹرولیم انہیں خام تیل لینے کے لئے تیل کے کنویں تک جانے دے۔ آلو کے نشاستے والی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ آخر میں انہیں کچرے کے ڈھیر سے کچھ پلاسٹک لینا پڑا جس کو پگھلا کر اور ڈھال کر انہوں نے ٹوسٹر کا کیس بنایا۔

اس کے بعد انہیں ایک کے بعد دوسرا شارٹ کٹ لینا پڑا۔ اینگلسے کی کان کے آلودہ پانی سے الیکٹرولوسس کر کے تانبا لیا۔ پرانے سکے پگھلا کر نِکل۔ اس سے تار بنانے کے لئے جیولری ڈیپارٹمنٹ سے مشین لی۔

تھامس کا کہنا تھا، “لئے جانے والے شارٹ کٹ ضروری تھے۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ اگر سب کچھ شروع سے کرنا پڑے تو آپ پوری زندگی بھی ایک ٹوسٹر بنانے میں لگا سکتے ہیں”۔ بہت محنت اور وقت لگانے کے بعد تھامس کا ٹوسٹر کسی سالگرہ کے کیک کی شکل کا تھا جس کی آئسنگ گرمی سے پگھل گئی ہو۔ “میں اس کے ساتھ بیٹری لگا ٹوسٹ گرم کر چکا تھا۔ مین سوئچ میں لگانے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی”۔ آخر انہوں نے اپنا حوصلہ مجتمع کیا۔ اس کو سوئچ میں لگا کر آن کیا۔

نو مہینے اور 1792 ڈالر خرچ کر کے بنایا جانے والا یہ شاہکار ٹوسٹر دو سیکنڈ بعد داغِ مفارقت دے گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *