حسن مثنی کون تھے؟ کیا وہ کربلا میں موجود تھے؟مہمان تحریر

حسن بن حسن، امام حسن مجتبی  ؑکے دوسرے فرزند تھے۔ ان کی ماں کا نام خولہ تھا، جو منطور فزاریہ کی بیٹی تھیں۔[1] حسن بن حسن ، المعروف حسن مثنی، ایک گراں قدر باتقوی اور با فضیلیت شخصیت تھے۔ وہ امیرالمومنینؑ کے صدقات کے مسؤل اور متولی تھے۔ حسن مثنی، عبدالملک بن مروان کی حکومت کے زمانہ میں بھی زندہ تھے اور صدقات کے سلسلہ میں حجاج سے اختلاف کیا۔[2] حسن مثنی، قیام کربلا میں اپنے چچا امام حسین ؑکے ہمراہ تھے۔ حسن بن حسن ؑ اسراء میں شامل تھے اور زخمی ہوئے تھے۔ اسماء بن خارجہ نے انھیں اسراء سے جدا کرکے ان کی رکھوالی کی۔ حسن مثنی کی ازدواج کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ امام حسین ؑ نے اپنی ایک بیٹی کے بارے میں ان سے خواستگاری کی۔ امامؑ نے ان سے فرمایا:“ میری بیٹیوں میں سے جسے پسند کرتے ہو، اس کو چن لو۔“ لیکن حسن مثنی نے شرم و حیا کی وجہ سے کوئی جواب نہیں دیا۔

امام حسینؑ  نے  ان کے لیے فاطمہ [3]کو منتخب کیا اور فرمایا:“ میری یہ بیٹی دوسری تمام بیٹیوں کی بہ نسبت میری ماں حضرت زہراءؑ سے شباہت رکھتی ہے ۔” حسن مثنی ۳۵ سال کی عمر میں رحلت کرگئے۔[4]ان کی رحلت کے بعد، ان کی شریک حیات فاطمہ نے ان کی قبر پر ایک خیمہ نصب کرکے ایک سال تک اس میں بیٹھ کرعبادت کی۔[5]
سید بن طاؤس حسن مثنی اور امام حسن ؑ کے بعض دوسرے فرزندان کی فضیلت اور شرافت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:“ یہ وہ افراد ہیں کہ تمام مسلمان ان کے بلند مقام کا اعتراف کرتے ہیں۔”[6]

امام حسنؑ اور امام حسینؑکی نسل کے بارے میں امام رضاؑ سے نقل کی گئی ایک روایت کے ایک حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن مثنی کے کئی فرزند تھے اور امام حسنؑ کی نسل ان سے اور زید نامی ان کے ایک دوسرے بھائی سے جاری رہی ہے۔ اس روایت میں آیا ہےکہ:“ حسن بن علی ؑکی نسل ان کے دو بیٹوں زید و حسن سے جاری رہی ہے۔ زید کا حسن نامی ایک بیٹا تھا اور حسن مثنی کے کئی بیٹے تھے جن کے نام عبداللہ، ابراھیم، داؤد، جعفر اور حسن تھے اور حسن مثلث کے نام سے مشہور تھے، امام حسن مجتبیؑ کی نسل ان ہی سے جاری رہی ہے۔[7]

حوالاجات!

[1][1] ۔ شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد، ج ۲،ص ۲۰، کنگرہ شیخ مفید، قم، طبع اول، ١۴١۳ق ۔۔
[2]۔ ایضا، ص ۲۳۔ ۲۴۔
[3] ۔ وہ امام حسین ﴿ع﴾ کی ایک بیٹی تھیں ، ان کی والدہ ام اسحاق بنت طلحہ بن عبداللہ تیمیہ تھیں۔ الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد، ج ۲، ص ١۳۵۔
[4] ۔ ایضا، ص ۲۵۔
[5] ۔ ایضا، ص ۲٦۔
[6] ۔ سید ابن طاووس ، الطرائف فی معرفة مذاھب الطوائف، ص ۵۲۰، الخیام، قم طبع اول، ١۴١۳ق۔
[7] ۔ ابن بابویہ ، محمد بن علی، الخصال، مھقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، ج ۲، ص ۴٦٦، دفتر انتشارات اسلامی، قم، طبع اول، ١۳٦۲ش۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *