حالیہ امریکی منظر نامہ ۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

نوآبادیاتی دور کے امریکہ میں نسل پرستی کی باقاعدہ ایک تاریخ موجود ہے جس میں گورے امریکیوں کو قانونی اور معاشرتی طور پر دیگر اقوام کی نسبت بہتر مراعات اور حقوق حاصل ہیں. یورپی نسل خاص طور پر امیر سفید اینگلو سیکسن پروٹسٹنٹ امریکی آغاز سے ہی تعلیم، امیگریشن، ووٹنگ کے حقوق، شہریت کے حقوق اور جائیداد کے حصول میں خصوصی مراعات حاصل کرتے ہیں. غیر پروٹسٹنٹ یورپی خاص طور پر آئرش، قطبی اور اطالوی بھی بیسوی صدی کے آخر تک امتیازی سلوک کا سامنا کرتے تھے مگر اب اُن کے لیے حالات بلکل بہتر ہیں. یہودیوں اور عربوں کو بھی امریکہ میں مسلسل امتیازی سلوک کا سامنا ہے. ہسپانوی اور ایشیائی نسل کے امریکیوں کو بھی نسلی امتیازی سلوک کا سامنا ہے. جبکہ افریقی امریکیوں یعنی کالے امریکیوں کو پوری امریکی تاریخ میں سیاسی، معاشرتی اور معاشی آزادی پر خصوصی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے.

انیسویں صدی کے اخیر تلک ڈھائی کروڑ افریقی ایسے ہیں جو کبھی افریقہ سے امریکہ تک پہنچ ہی نہ سکے. وہ سفر کی صعوبتوں میں مَر کھپ گئے. اُن کی چیخیں اور سسکیاں اب بھی افریقی امریکیوں کی کانوں میں سنائی دیتی ہیں. اور اِتنی ہی تعداد میں افریقی امریکہ پہنچتے ہی مَر گئے یا مار دئیے گئے. آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع شدہ ‘امریکی ہالوکاسٹ’ نامی کتاب کے مطابق سفر کے دوران، امریکہ پہنچتے ہی اور امریکہ میں مزدوری کے دوران کئی کروڑ افریقی جو غلام بنا کر امریکہ لائے گئے کی اموات ہو گئی تھیں جو آج تک ایک راز ہے. اِن اعداد و شمار میں وہ درد اور تکالیف شامل نہیں جو بےگھری، بھوک، بیماری اور معذوری کے سبب افریقیوں کا زاد راہ تھیں اور ہیں. مچل میریٹ کے نیویارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل بعنوان “سمندر برد ہونے والے غلاموں کے اجداد کی یاد میں” کے مطابق سفر کے دوران افریقی غلام اتنی تعداد میں سمندر برد ہوئے کہ اُن مردہ جسموں کو کھانے کے لیے آنے والی شارک مچھلیوں کے قدیمی قدرتی مسکن اور طےشدہ گزرگاہیں تک تبدیل ہو گئیں. مستند زرائع کے مطابق 2 کروڑ افریقی ایسے بھی تھے جو غلام بنا کر امریکہ لائے گئے.

اگر کالے رنگ کے امریکیوں کو دیکھا جائے تو وہ ہمہ قسمی بدقسمتی سے لیس بلندہمتی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں. 1763ء سے پونٹیاک میں پھیلی کالوں کی بغاوت سے لیکر 2016ء میں شارلٹ کے ہنگامہ جو کیتھ لیمونٹ اسکاٹ کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے جواب میں شروع ہوئے تھے تک کوئی سیکڑوں مرتبہ مسلح بغاوتوں اور جنگوں کی باقاعدہ تاریخ موجود ہے. جبکہ سنہ 2000ء سے لیکر اب سنہ 2020ء تک کے قلیل عرصے میں موجودہ ہونے والا مظاہرہ اپنی نوعیت کا دسواں واقعہ اور بغاوت ہے جو کالے امریکیوں نے برپا کی ہے. تصویر کا دوسرا رخ یہ بتاتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں اتنے امریکی افغان جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے جتنے امریکی پولیس کے ہاتھوں کالے امریکی ہلاک ہو چکے ہیں.

گذشتہ برس کے دوران آدھی دنیا کے قریب ممالک میں زبردست اور شدید عوامی مظاہروں کی لہر چلی تھی جس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سلسلہ کم ہونے کی بجائے مزید آگے بڑھے گا. ایڈیل مین ٹرسٹ بیرومیٹر کے دسیوں ممالک کے سروے کے مطابق دنیا کے 56 فیصد لوگ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ منظر نامہ سے تنگ ہیں اور اِس کو نقصان دہ سمجھتے ہیں، جبکہ 47 فیصد امریکیوں کا بھی یہی خیال ہے. لاطینی امریکہ، افریقہ، مشرق وسطی، ایشیاء اور یورپ میں انقلابی عوامی بغاوتوں کی لہروں کا اثر امریکہ پر ناگزیر تھا اور ہے. جارج فلائیڈ کے پولیس قتل نے 10 دنوں میں امریکہ کو بے مثال عوامی تحریک کے زریعے اوپر سے نیچے تک ہلا کر رکھ دیا ہے. یہ تحریک اصلی اور ابھی تک نامیاتی طور پہ عوامی رہی ہے، وحشیانہ جبر کے باوجود لچکدار انداز میں آگے بڑھ رہی ہے. 200 سے زیادہ شہروں میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے اور 28 ریاستوں میں بیس ہزاد سے زیادہ نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے. تحریک ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے. کیا بڑے بڑے شہری مراکز کیا قدیمی چھوٹے قصبے سب مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں. اس صورتحال نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو دفاعی رویہ اپنانے اور مظاہرین کو کچھ مراعات دینے پر مجبور کیا ہے. اس قتل میں ملوث دیگر تین افسران پر چارج لگانے پہ مجبور ہوئی ہے. اور حتی کہ انہوں نے سابق صدر بارک اوباما کو بھی صورتحال کو پرسکون بنانے کےلیے اپنی کوششیں کرنے کی درخواست کی ہے. صورتحال ایسی بےقابو ہے کہ نو ہزار لوگو‍ں کی بڑی گرفتاری کے باوجود مظاہرین مزید اشتعال پکڑ رہے ہیں.

دوسری طرف امریکی اقتدار پہ قابض مسخرہ دولت اور طاقت کے نشے میں اپنی نااہلیوں کو چھپانے کے لیے فوج کی تعیناتی کے ذریعے مظاہرین کو دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے جس پہ وال سٹریٹ جنرل نے بجا طور پر اداریہ لکھا ہے کہ “ہمارے خیال میں یہ ایک غلطی ہوگی، اگرچہ مسٹر ٹرمپ کو یہ اختیار بھی حاصل ہے… اس وقت امریکی سڑکوں پر فوجیوں کی تعیناتی حالات کو پرسکون بنانے کی بجائے حالات کو مزید خراب کر دے گی. امریکی فوجی غیر ملکی دشمن کے خلاف لڑنے کے لئے تربیت یافتہ ہیں، نہ کہ امریکی مظاہرین پر قابو پانے کے لئے. غلطیوں کا خطرہ بہرحال زیادہ ہوگا اور مسٹر ٹرمپ کو فوجیوں کے ساتھ شہری جھڑپوں میں ہونے والی کسی بھی خونریزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا”.

موجودہ تحریک کو صرف ایک کالے امریکی کے قتل کے تناظر میں پرکھنا غلطی ہو گا. حالیہ تحریک کئی عوامل کے جمع ہونے کا نتیجہ ہے. ‘بلیک لائفز میٹر موومنٹ’ کی اصل روح امریکی عوام کے اس تکلیف دہ تجربے اور احساس پر مبنی ہے کہ اُن کی زندگیوں میں کچھ بھی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے. راقم نے 2018ء کے شائع شدہ مضمون نے واضح کیا تھا کہ “ہر نظام کی متروکیت ترقی پسند افراد کی افزائش کرتی ہے- یہ ترقی پسند افراد ایک خودکار طریقے سے باہم ہو جاتے ہیں- ان افراد کی جتھہ بندی کی بنیاد انکے ترقی پسند خیالات ہوتے ہیں- یہی خیالات ان افراد میں اخلاص کو پروان چڑھاتے ہیں- عوام کی اکثریت کا ابھار کوئی عام چیز نہیں ہے- یہ عوامی مداخلت بغاوت کو رخ مہیا کرتی ہے- یہ ابھار بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا- سماجی بندشیں اتنی گہری اور ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں کہ سماج تڑپ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے- یہ ایک سنجیدہ اور حساس لمحہ ہوتا ہے- اگر قیادت کرنے والا ترقی پسند طبقہ عوامی بغاوت کو سنبھال نہ پائے تو ردانقلاب کا آغاز ہوتا ہے اور بغاوت ناکام ہو جاتی ہے- اور اگر قیادت بغاوت کو سنبھالتے ہوئے نیا نظام قائم کردے تو بغاوت کامیاب ٹہرتی ہے، انقلاب ظہور پذیر ہو جاتا ہے-” حالیہ امریکی عوامی بغاوت کو سمجھنے کے لیے 2011ء کی ‘آکوپائی وال سٹریٹ’ تحریک جو عرب بہار اور وسکونسن بغاوت سے متاثر تھی کے تجربے کو بھی شامل کرنا ہو گا. علاوہ ازیں 2016ء اور 2020ء میں برنی سینڈرز کی کمپین کو بھی تناظر کا حصہ بنانا ہو گا جس کی وجہ سے نوجوان تمام تقسیموں سے بالاتر ہوکر سوشلزم کو بطور ایجنڈہ سامنے لانے کی کوششوں نے عوام ایک پوری پرت کو اکسایا ہے. بہت سے متعصب سفید فام امریکی سینڈرز بارے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ عوام کو انتخابی میدان روکنے کے لیے اس طرح کی تحریکوں کے زریعے انہیں سڑکوں پر دھکیل رہا ہے.

موجودہ امریکی نوجوان نسل جو اس تحریک کی اصل محرک ہے 2008ء کے بحران اور بینکوں کو بیل آؤٹ پیکج کے بعد سے سیاسی طور پر کافی باشعور ہوگئی. ان کی پوری جوانی ناکام سیاسی قیادت کے تجربات، معاشی بحران، غیر یقینی صورتحال اور بہتر مستقبل کی کسی بھی امید کی عدم موجودگی کی وجہ سے اجیرن ہو چکی ہے. اب ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے. موجودہ وقت میں ان کے پاس حالیہ بغاوت کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں ہے. یہی بے لگام غصہ اور نفرت موجودہ تحریک کو وحشیانہ جبر کے مقابلہ میں اپنی لاتعداد توانائی بخش رہی ہے. جس وقت وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کے خوف نے دنیا کی طاقتور ترین ریاست کے صدر کو مجبور کیا کہ وہ ایک بینکر میں بند ہو جائیں اور سرمایہ دارانہ طاقت کی اس علامت کی تمام روشنیاں بند کردی گئیں تو ہماری یہ بات سچ ثابت ہو گئی کہ متحرک اور منظم محنت کش طبقہ پورے ملک کو مفلوج کرسکتا ہے اور پورے نظام کو بند کرسکتا ہے. ریاستی منظم تشدد اور طاقت کو ایک منظم مزدور تحریک کی طاقت سے ہی روکا جا سکتا ہے. بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ موجودہ تحریک کچھ دیر بعد ختم ہو جائے گی لیکن مستقبل قریب میں ایک بہت بڑی تحریک کی بنیاد بہرحال رکھ دی گئی ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *