• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(باون ویں قسط )۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(باون ویں قسط )۔۔گوتم حیات

SHOPPING

آج پانچ جون ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے میں کچھ بھی نہیں لکھ سکا۔ عید کے پہلے دن میری ڈائری کی قسط نمبر اکیاون شائع ہوئی تھی اور اب کئی دنوں کی غیر حاضری کے بعد میں پھر سے واپس آگیا ہوں۔ لکھنے کا سلسلہ جو رُک گیا تھا آج اسے دوبارہ سے بحال کر رہا ہوں۔
پچھلے کئی دن بہت ہی اداس گزرے، طیارے کے حادثے نے بہت سے دکھوں کو دل و دماغ سے مٹا کر ایک ہی حادثے کو اتنا گہرا کر دیا تھا کہ مجھے ایسا لگنے لگا کہ میری زندگی دو خانوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔

نمبر ایک طیارے کے حادثے سے پہلے والی زندگی اور نمبر دو طیارے کے حادثے کے بعد والی زندگی۔۔۔

طیارے کے حادثے کے بعد والی زندگی نے مجھے ایک نئے درد سے آشنا کیا، اس درد کی شدت نے مجھے کئی دنوں تک ذہنی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ میں جہاز کے ان بدقسمت مسافروں میں شامل نہیں تھا جو اس المناک حادثے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے کسی انجانے جہاں میں رخصت ہو گئے لیکن اس کے باوجود مجھے ایسا لگا کہ میں بھی کہیں اس جہاز میں سوار تھا اور ان مسافروں کے ساتھ میری زندگی کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ اسی لیے میرے دل و دماغ سے وہ تمام پرانے قصّے کہانیاں خودبخود مٹ گئے جن کو میں ہر روز ڈائری کی شکل میں رقم کر رہا تھا۔ جب دل و دماغ یوں کسی حادثے کی وجہ سے اچانک خالی ہو جائے تو پھر لکھنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔۔۔
ابھی تک ان بدقسمت مسافروں میں سے کئی کی شناخت نہیں ہو سکی، کچھ مسخ شدہ جسم ابھی بھی مردہ خانے میں موجود ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کچھ مسخ شدہ جسموں کے لوتھڑے یا ٹکڑے۔۔۔

جس رہائشی آبادی پر وہ طیارہ گرا تھا اس کی وجہ سے ایک بارہ سالہ مزدور بچی (گھریلو ملازمہ) برے طریقے سے جھلس گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے کے دوران وہ بچّی گھر کے باہر ہونے کی وجہ سے فوراً ہی آگ کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس کا جسم پچاس فیصد جل گیا تھا، کچھ دن ہسپتال میں زیرِ علاج رہ کر وہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ نجی ٹیلی ویژن چینلز کی خبروں کے مطابق بارہ سال کی وہ بچّی جس کا نام ناہیدہ تھا، اپنی تعلیم کا خرچ گھروں میں کام کر کے اٹھاتی تھی، اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا، غربت کی وجہ سے وہ اپنے خاندان کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اپنے والدین کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ اس بچّی کو دیکھ کر مجھے پڑوسی ملک بھارت کی گلابو یاد آتی ہے۔ میں نے اپنی ڈائری کی کسی قسط میں تفصیلی طور پر اس کا ذکر بھی کیا تھا۔ وہ بھی بارہ سال ہی کی تھی۔ جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے گھر پہنچنے کے لیے مستقل پیدل چلتی رہی اور آخرکار تھکاوٹ اور کمزوری کی وجہ سے چلتے چلتے گری اور پھر کبھی نہ اٹھ سکی۔۔۔

دو دشمن ملکوں کی یہ دونوں بچّیاں اپنے اپنے حکمرانوں کی طرف سے مسلط کردہ غربت کے گھنے سائے میں جدوجہد کرتی ہوئی ختم ہو چکی ہیں۔ ہم ان دونوں کی موت کو بالکل بھی ایک دوسرے سے نہیں ملا سکتے، دونوں کی موت دو مختلف حادثات کی وجہ سے رونما ہوئی لیکن بہت کچھ مختلف ہوتے ہوئے بھی یہ دونوں بچّیاں اپنی بارہ سال کی مختصر سی زندگی میں غربت اور محرومیوں کا شکار رہیں۔ زندگی کا تحفظ، بنیادی تعلیم، اور صحت و صفائی کی سہولیات سے دور ان دونوں بچّیوں کی شکلوں میں کروڑوں بچّے اسی کشمکش سے ابھی بھی گزر رہے ہیں۔ یہ دونوں تو المناک سانحات سے دوچار ہو کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے کروڑوں بچّے جانے کب تک مصائب کی بھٹیوں میں یوں ہی پستے رہیں گے یا پیسے جاتے رہیں گے۔؟

کراچی سمیت ملک بھر میں لاک ڈاؤن تقریباً ختم کر دیا گیا ہے مگر افسوس کہ کرونا کی وبا ابھی موجود ہے اور ہر گزرتا ہوا دن کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاک ڈاؤن ایک ایسے نازک وقت میں ختم کیا گیا جب یہ وبا اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔۔۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور پھر عدلیہ نے ان تاریک دنوں میں عوام کو بےیارمددگار چھوڑ دیا ہے۔ کیا یہ ریاست اتنی بھی سکت نہیں رکھتی کی مشکل کی اس گھڑی میں اپنی غریب عوام کو کوئی معاشی ریلیف مُہیّا کر سکے۔؟

ملک بھر کے ڈاکٹروں کی بار بار تنبیہ کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے سماجی فاصلوں اور احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کر کے آخر سب کچھ ہی کھول دیا ہے جو اس وبا کو بڑھا کر لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔۔۔ کیا طیارے کے حادثے کے بعد اب عوام کو کرونا وبا کے سیلابی ریلے میں بہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔؟؟

SHOPPING

کیا اس وبا کے آگے ہمارے وفاقی اور صوبائی حکمراں کوئی بند باندھیں گے یا وہ یوں ہی عوام کو ڈوبتا ہوا دیکھ کر ایک دوسرے پر الزامات کے تیر چلاتے رہیں گے؟۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *