ایک ناکام کوشش ۔۔۔ سید کامل عباس

انتباہ: بھئی کرونا ہوا ہے وقت گزاری کے لئے لکھ رہے ہیں کوئی پرسنل ایکسپیرینس نہ سمجھ بیٹھنا۔

تو بات ہے یونیورسٹی کی جہاں ایک محترمہ آگئیں پسند مطلب کے ٹو مچ انٹرسٹڈ ہو گئے ہم۔ دن میں نوکری اور شام کو یونیورسٹی کےباوجود اتنا وقت نکال لیتے کے انہیں سوچتے سوچتے پوتا پوتی تک نظر آنے لگے۔

دوستوں کو معلوم ہوا تو لعنتیں بھیجنے کے بعد ہمت دلائی کے بھائی بول دے جا کر تو کونسا تھتا ہے! سو اس دن تو ہم نے بھی کر لیاارادہ کے جو بھی ہے فٹ کر کے بولیں گے منہ پر۔

اگلے دن شام کو پریزنٹیشن بھی تھی تو کافی تیار ہو کر پہنچے پر معلوم پڑا محترمہ آج غیرحاضر ہیں یعنی دل ایک دم ٹوٹس۔

خیر دو دن بعد جاتے ہوۓ نظر پڑی تو محترمہ اکیلی آرہی تھیں ہم نے غنیمت جانا کہ چلو اکیلی ہیں بیعزتی بھی ہوئی تو کسی کو کیا پتاچلنا۔

جا کر سامنے کھڑے ہو گئے۔ بھیا نظر جو پڑی آنکھوں میں تو جو کہانیاں سوچی تھیں سب ٹھا ٹھن ٹھش۔

مسکرائیے مت، پہلی بار کسی لڑکی سے اس طرح بات کرنے کی کوشش تھی۔

اچھا اب وہ ہماری لثکی شکل دیکھے ہم اس کا حسین رخ۔ ایک منٹ بعد ہم منہ سے یہ جملہ نکال پائے۔

کیا آپ مجھے جانتی ہیں؟” (جیسے میں شاہد آفریدی ہوں)

فورا بولیں نہیں! ہم نے جھٹ سے دوسرا بال پھینکا کیا آپ مجھ سے دوستی کریں گی؟

اب مجھے توناںکا اتنا یقین تھا جتنا اپنا کرونا پوزیٹو آنے کا۔

مگر پھر بھی سن کر بہت گہرا صدمہ پہنچا اور چالیس روپے کی کولڈ ڈرنک پی کر غم غلط کیا۔

اس دن کے بعد سے سیلف ریسپکٹ اتنی ڈیمج ہوئی کہ کبھی کسیکرشکو دوستی کی درخواست نہیں کی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *