• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پڑھے لکھے لوگ سارے بے غیرت ہوتے ہیں یا صرف تم ایسے ہو؟ ۔۔ شریف اللہ محمد

پڑھے لکھے لوگ سارے بے غیرت ہوتے ہیں یا صرف تم ایسے ہو؟ ۔۔ شریف اللہ محمد

پانچ لاکھ اسی ہزار کی رقم گڈیوں کی صورت میں چند سفید ریشوں کے سامنے رکھی ہوئی ہے۔ محفل میں ہلکی ہلکی کھسر پھسر جاری ہے۔ کچھ ایک دوسرے کی طرف متوجہ اور کچھ اپنی نظریں جھکاکر کچھ سوچ رہے ہیں۔

اس لڑکی نے ہمارا سر شرم سے جھکادیا ہے۔ مولوی وسیع اللہ کی روح قبر میں منہ چھپاتی ہوگی کہ اسکی پوتی گھر سے بھاگ گئی۔

تم لوگ سورہے تھے( لڑکی کے باپ کو گالی دے کر کہا)؟ سفید براق لباس میں ملبوس حاجی فضل محمود آنکھیں نکال کر دھاڑا۔ جب حاجی صاحب بولتے تو محفل کو سانپ سونگھ جاتا۔

اب اسکا ایک ہی حل ہے کہ فرحت (فرضی نام ) کو گولی ماردی جائے۔ اور لڑکے ( شاہد) کا گھر ( بٹگرام کے قریب گاؤں میں ہے) گرادیا جائے۔ اسکی پہلی بیوی کو وقت دیا جائے کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر چلی جائے۔ اگر وہ چھوڑ کر نہیں جاتی تو اسکی بھی پرواہ نہ کی جائے۔ یہ کام اس محفل میں موجود کوئی بھی کرلے یا کسی سے کروادے لڑکی کا باپ فرحت کا خون بخش چکا ہے۔

کیوں بھئی شفاعت اللہ (فرحت کے والد) کیا کہتے ہو تم؟؟
شفاعت نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا گال کجھاتے ہوئے “جی” کی آواز نکالی مگر اوپر نہ دیکھ سکے۔

شاہد ( لڑکے کا فرضی نام) کی طرف کوئی نہیں ایا، یہ انکی خباثت کی دلیل ہے۔ پیسے بھجوا کر (پانچ لاکھ اسی ہزار کی طرف اشارہ کرکے) سمجھتا ہے کہ ہم بیٹیاں بیچتے ہیں۔( پھر ایک اور موٹی گالی)
شاہد کی فیملی نے ایک مہینے میں بیس لاکھ (جرمانے کی رقم) پورے کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ کسی نے لقمہ دیا۔

انکی فیملی کی بات میرے سامنے مت کرو ( وہ بہن کی گالی دیکر ایک بار پھر دھاڑا)۔ سوائے شفاعت اللہ کے کسی کے چہرے پر پریشانی کے آثار نہیں تھے۔

چند دن پہلے شاہد کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے اتنی فائرنگ ہوچکی ہے کہ اسکی چھت اور سڑک کی جانب دیوار میں بے شمار سوراخ ہوچکے ہیں

کوئی بے غیرت مرا نہیں؟؟
شاہد کی پہلی بیوی گھر کی لائٹیں کھلی چھوڑ کر عشاء سے پہلے پہلے گھر سے نکل چکی تھی۔ شاید کسی نے بتادیا تھا اسے، اسی لئے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس جرگے تقریباً تمام لوگ حاجی صاحب کے ہمزبان دکھائی دے رہے تھے۔ شفاعت اللہ بے چین تھے مگر کچھ کہنے کی جرات نہیں تھی ان میں۔

اسی ہزار عبد البصیر کو دے دو ( جس کے گھر میں جرگہ ہورہا تھا) باقی پانچ لاکھ شفاعت اللہ کو دیدو۔

میں ان پیسوں کو ہاتھ نہیں لگاوں گا، شفاعت اللہ پہلی بار آنکھیں اٹھاکر غصے سے بولا۔ لڑکی کو قتل کرنے کا مشورہ آپ کیسے دے سکتے ہیں؟

حاجی صاحب کہنے لگے: تم جیسے ازلی بے غیرتوں کی وجہ وسیع اللہ کی قبر پر لوگ تھو تھو کریں گے۔ تمھاری جگہ میں ہوتا تو اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوتا۔ ایک جیتی جاگتی ماں کی موجودگی بیٹی گھر سے بھاگ گئی اور تم اور تمھاری بیوی ابھی تک شرم سے مرے نہیں۔بڑے سے بڑے بے غیرت بھی شرم سے خود کشیاں کرلیں مگر تم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بحث کررہے ہو۔

شفاعت اللہ کی رہی سہی امید بھی ختم ہوچکی تھی۔
اب محفل بلکل خاموش ہوچکی تھی۔

اسی بات پر سب کی آمین ہے؟ قاری صاحب دعا کرلیں؟؟ حاجی صاحب نے نرم آواز میں کہا۔

میں نے پیچھے دیوار سے ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ اور میرے اندر لاوا پک رہا تھا۔ میں نے ہاتھ اٹھایا۔

میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میں اجازت کا منتظر تھا۔

یہ صوفی صاحب کا بیٹا ہے نا؟ حاجی صاحب نے سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھ کر کہا۔
جی جی!! کئی سمتوں سے جواب آیا.

کیا آپ لوگوں کو احساس ہے کہ آپ اس محفل کے لوگوں کو ایک غیر قانونی کام پر ابھار رہے ہیں؟ میں نے کہنا شروع کیا۔

پڑھے لکھے لوگ سارے بے غیرت ہوتے ہیں یا صرف تم ایسے ہو؟؟ حاجی صاحب نے کرخت آواز میں مجھے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا!!

اب میرے پاس اپنی بات ہر صورت میں کہہ گزرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

تمام لوگ درود شریف پڑھ لیں!!
میری اس بات پر شور ذرا کم ہوا اور چھبتی ہوئی نظریں ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔

اس محفل میں بیٹھے لوگ اگر خود کو غیرت مند سمجھتے ہیں تو جم کر خاموشی سے بیٹھے رہیں۔ اور جب تک میں بات نہ کرلوں کوئی بیچ میں نہیں بولے گا۔ میرے والد صاحب جو اسی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ان کی طرف دیکھنے کی جرات میرے اندر نہیں تھی۔

جس مدینہ جانے کے لئے ہم سب پیسے جوڑ جوڑ کر ارمان پالتے رہتے ہیں اس مدینہ کی اکثریت کہہ رہی تھی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ “ایسی” ہیں یہاں تک کہ کچھ صحابہ بھی عبدللہ بن ابی کی اس سازش کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔

ہمیں پٹی نہ پڑھاو، وہ تہمت تھی ایک بول پڑا ( میں نے اسکی طرفہ توجہ ہی نہ دی)۔

میرے نبی مہرباں سے کوئی بڑا غیرت مند کائنات نے آج تک نہیں دیکھا۔ جب صفوان بن معطل اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ جوڑا جارہا تھا تو کائنات کے سب سے بڑے غیرت مند کے لئے کیا یہ مشکل تھا کہ وہ تلوار نکالتے اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر اڑا دیتے۔ احمد مجتبیٰ کے تربیت یافتہ اور جان نچھاور کرنے والے کسی صحابی نے ایک قدم آگے نہیں بڑھایا حالانکہ وہ تمام بس ایک اشارے کے منتظر تھے۔ الزام بھی کم نہیں!! بد کاری کا الزام۔ نعوذ باللہ۔ مدینہ کی کوئی ایسی زبان نہیں تھی جو اس واقعے کی کھل کر تردید کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ یہاں تک کہ میرے نبی جن پر میرے ماں باپ قربان ہوں وہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں

” اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اﷲ تعالیٰ تمھاری برات ظاہر کردے گا اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے تو اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر. بندہ جب گناہ کرکے اپنے اقرار گناہ کے ساتھ اﷲ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے”.

میرے نبی سے بڑا کوئی غیرت مند اگر ہے اس محفل میں تو سامنے ائے۔ اور میرے نبی نے اسوقت بھی تلوار نکال کر بدکاری کی تہمت پر ام المؤمنین کا قصہ تمام نہیں کیا تو تم سارے لوگ فرحت و شاہد کے نکاح پر موت کا حکمنامہ کیسے جاری کرسکتے ہو۔

(تمھیں حیا نہ آئی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرحت جیسی بے حیا سے ملارہے ہو؟ ایک طرف سے فتوا آیا)

اگر یہاں کسی کو یہ اعتراض ہے کہ میں فرحت جیسی “بے حیا” لڑکی کے لئے حضرت عائشہ صدیقہ کی مثال کیوں لایا ہوں تو میں آج یہ سب کے سامنے یہ واضح طور پر کہہ رہا ہو کہ اگر اس لڑکی کو کچھ ہوا تو میں اس جرگے کے خلاف گواہی بعد میں دوں گا اور حاجی صاحب کا نام پہلے لوں گا۔ لڑکے اور لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئیے تھا مگر اس کی سزا موت اور کسی کا کا گھر گرایا جانا ہرگز نہیں۔

کہیں سے آواز آئی ” ویسے بات تو ٹھیک کررہا ہے”۔ شور کچھ مزید بڑھا۔

الحمدللہ! اس دن اللہ نے وہ “جرگہ” اور قتل کی وہ پلاننگ تتر بتر کردی۔

آج اس جوڑے کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اور الحمدللہ خوش خرم ہیں۔ لڑکی کے ماں باپ مجھے دعائیں دیتے ہیں۔

میں بجا طور پر اسے اپنی سب بڑی نیکی سمجھتا ہوں۔ اور پٹھان سماج اور حرکیات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی کیا حیثیت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *