ماں جی۔۔۔(خاکہ)اقتدار جاوید

ماں ٹوپی برقع پہنتیں اور پردہ کرتیں ،بعد میں ہمیں پتہ چلا اس کو شٹل کاک برقع بھی کہتے ہیں، مگر ہم اسے ٹوپی برقع ہی کہتے تھے۔چہرے والی جگہ پر باریک جالی لگی ہوتی تھی جس سے ان کا چہرہ نہیں دکھتا تھا، وہی برقع میری بڑی بہن بھی پہنتیں۔والد قمیض پر اچکن پہنتے اور بڑے بارعب لگتے ۔ماں برقع میں بہت باوقار لگتیں اور ہم ان کو اس لباس میں دیکھ کر پھولے نہ سماتے۔ جو برقع کے اوپر ٹوپی بنی ہوتی تھی اس پر کڑھائی بھی کروائی ہوئی تھی اور کچھ سلمیٰ  ستارے کا کام بھی نفاست سے کیا ہوا تھا۔گاؤں سے باہر جانا ہوتا تو وہ برقع ان کے لباس کا لازمی حصہ ہوتا۔ماں یہ برقع جب گاؤں سے باہر جاتیں تب پہنتیں ۔واپسی پر گاؤں داخل ہوتے وقت یہ برقع بھی اتر جاتا۔کیسی روایت اور کیا کلچر تھا کہ پردہ اپنوں سے نہیں انجان لوگوں سے تھا ،ایک دفعہ وہ بڑی بہن کے سسرال گئیں بہن کے گھر میں ان کے عزیز گھر آئے تو ماں فوراً اسی ٹوپی برقع میں سمٹ گئیں۔اب وہ برقع اگر کہیں مجھے نظر آ جائے تو میری آنکھیں جیسے چمک  اٹھتی ہیں، مگر اب یہ منظر بہت مدت ہوئی نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے اب یہ کہیں نہیں  نظر آئ ےگا ، یا شاید بس  یاداشتوں میں ملے گا یا کچھ سالوں بعد عجائب گھروں میں۔

جس گھر میں ہم نے آنکھ کھولی وہ ایک  کچا پکا گھر تھا یعنی سامنے سے اس کی دیواریں اینٹوں کی تھیں مگر کمروں کی دیواریں مٹی کی تھیں، جن کو ہر سال گرمیوں میں چونا پھیرا جاتا تھا، یہ سارا چونا پھرائی کا کام ماں کی نگرانی میں ہوتا وہ خود چونے ملے پانی کو چیک کرتیں شام کو کسی برتن میں بھگو دیا جاتا اور اگلے دن دیواریں  لش پش کر رہی ہوتیں، وہ کیسا چونا ہوتا تھا اس میں کوئی سادگی کا کمال تھا یا ماں اس میں کوئی طریقہ استعمال کرتیں یہ علم نہیں، چھ چھ مہینے ایک خاص خوشبو اٹھتی ،ہمارے دو گھر تھے ایک وہ جس میں ہم نے ہوش سنبھالا اسے ہم پرانا اور موجودہ کو نیا گھر کہتے تھے ،پرانا گھر گڑیا کے گھر سا تھا چھوٹا سا دو کمروں والا بارش ہوتی تو ماں اس کچے صحن میں اینٹیں رکھ دیتیں، اور ہم سب ان اینٹوں پر سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھتے، مبادا گر نہ جائیں۔بارش میں بار کی زرخیز سرخ مٹی اور سرخ ہو جاتی اور ایسی پھسلن ہوتی کہ پاؤں کہیں ٹکتا ہی نہیں تھا۔ایک طرف سیڑھیاں تھیں۔ انہی سیڑھیوں کے خم کے نیچے رسوئی تھی، دو قدم کے فاصلے پر گھڑونچی تھی، جس پر تازہ پانی کے دو گھڑے رکھے ہوتے تھے، جن کے چوگرد ماں کپڑا لپیٹ دیتیں اور اس کپڑے کو گیلا رکھتیں تا کہ پانی ٹھنڈا رہے۔سیڑھیوں کے نیچے سارا کچن تھا جو ایک عدد چولہے، ایک عدد بھاری توے، اور ایک ہانڈی پر مشتمل تھا یہی کل اثاثہ تھا، اس بخت بلند عورت کے پاس ،جس سے اس گھر کے تمام لوگوں  لو اپنے اپنے وقت پر کھانا ملتا۔سب سے پہلے ملازم کی روٹی پکتی بعد میں ہم بہن بھائیوں کی، پھر والد کی اور آخر میں ماں اپنی روٹی پکاتیں جب تک ملازم ہم بہن بھائیوں اور والد کی روٹیاں توے سے اترتیں ماں کا ہاتھ تیزی سے چلتا مگر جب اپنی روٹی توے پر ڈالتیں تو آنکھیں چھلک چھلک جاتیں میرا لقمہ حلق سے نیچے نہ اترتا، ایک پھانس بن جاتی۔ماں لقمہ اٹھاتیں نیچے رکھتیں اٹھاتیں رکھتیں اور آہستہ آہستہ سسکیاں لینے لگتیں ،پھر دھیمی زبان میں بین کرتیں آواز اس قدر آہستہ ہوتی کہ پتہ نہ چلتا کیا کہہ رہی ہیں اور یہ بھی معلوم نہ ہوتا کس وجہ سے رو رہی ہیں۔ہم بھی ساتھ رونا شروع کر دیتے، تب ایک دن ماں نے بتایا کہ طاعون کی وبا میں ہمارے تین ماموں یکے بعد دیگرے انتقال کر گئے تھے۔وہ کہتیں اس دن میلہ تھا سعی محمد کا میلہ ،تمہارے ماموں نے نیلے رنگ کی واسکٹ پہنی تھی ریشمی کپڑے کی واسکٹ چمکتی ہوئی نیلے رنگ کی۔میلے میں ہی اس کی وفات ہو گئی تمہارے نانا چھوٹی سی میت ہاتھوں میں اٹھا کر لائے تھے تمہارے ماموں کی عمر چار سال تھی اس وقت۔اتنے میں والد گھر میں داخل ہوتے ماں جیسے اپنی خوابوں، سسکیوں اور یادوں کی دنیا سے باہر آ جاتیں۔یہ میری زندگی کا پہلا امیج ہے جسے میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔پتھر پر نقش ہے یہ امیج ،یہ یاد۔

والد کے گھر میں داخل ہوتے ہر چیز نارمل ہونے لگتی چارپائی بچھ جاتیں ۔ اس کے اوپر کھیس بچھایا جاتا پیچھے گاؤ  تکیہ رکھا جاتا، والد کے ساتھ ہی ملازم ان کا فرشی حقہ لیے نمودار ہوتا ،ماں چھوٹی سی لکڑی کے ٹرے میں کھانا پروستیں بڑے اہتمام سے ایک طرف دو چپاتیاں اور پلیٹ میں سالن یا جو دال ساگ پکا ہوتا سجاتیں اور رومال سے ڈھک کر خود والد کے سامنے رکھتیں اور بھول جاتیں کہ وہ کھانا پکاتے وقت روئی بھی تھیں۔ہمیں بھی سب کچھ بھول جاتا۔ والد ایک سفید پوش انسان تھے والد کی سفید پوشی کا بھرم جس طرح ماں نے رکھا وہ بھی ایک مثال ہے بڑی مدت تک لوگوں کو گمان رہا کہ کوئی خفیہ خزانہ والد کے ہاتھ لگا ہے مگر ان کی اس سفید پوشی کا بھرم ماں نے خوب رکھا کہ انہیں نواب ہی بنائے رکھا۔

ملک ایک پر آشوب دور میں داخل ہو چکا تھا۔مشرقی پاکستان میں ایک شورش جاری تھی اور ہمارا گھر دوسرے پاکستانیوں کی طرح ایک تشویش اور ایک انجانے خوف میں مبتلا تھا کہ کیا ہونے والا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ ملک اور ملک کے دوسرے حصے میں کیا ہو رہا ہے کیا بھارت مشرقی پاکستان پر قبضہ کر لے گا کیا پاکستان جنگ ہار جائے گا ،کیا ملک کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے ،اس تمام بحث کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ماں کا بڑا بیٹا ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔وہ رات مجھے نہیں بھولتی شاید صبح کاذب تھی یا فجر کا وقت تھا۔ہمارا گھر لوگوں سے بھرا پڑا تھا اس میں بوڑھے بچے نوجوان سبھی شامل تھے۔رات کو گاؤں والوں کو پتہ چل گیا تھا کہ ڈھاکہ پر بھارتی فوجوں نے قبضہ کر لیا ہے اور ماں جی کا بڑا بیٹا جو وہاں پڑھتا تھا اس کی کوئی خبر نہیں ایک چھوٹا سا ٹرانسسٹر والد کی چارپائی پر پڑا تھا اور ریڈیو پاکستان سے کوئی خوفناک اور پُراسرار دھن جاری تھی ،ایسے لگتا تھا اناونسر میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی بات کرے، شاید باتوں کا وقت گزر چکا تھا شاید بات کرنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ میں جاگنے اور نیند کی کیفیت میں تھا۔ میری عمر بارہ سال تھی اس خوفناک اور پُراسرار دھن نے مجھے جگا دیا ،تمام لوگ خاموش تھے جیسے کسی معجزے کے منتظر ہوں شاید ایسے نہ ہو، شاید ایسے ہی ہو کہ قومی ترانے کے بعد یحییٰ خان کی بھاری بھر کم آواز گونجی کہ دشمن نے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا ہے اس کے بعد اس نے کیا کہا ،مجھے یاد نہیں، البتہ یہ یاد ہے کہ گاؤں کی عورتوں کے درمیان ماں بے جان بت کی طرح بیٹھی تھیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اگلے تین سال ماں کا بلا ناغہ یہ معمول رہا کہ ساتھ والے گھر میں رات کو ریڈیو پر خبریں سنتیں اور چپ چاپ سنتی رہتیں، صرف ایک آس پر کہ کسی دن جنگی قیدیوں کی واپسی کی کوئی خبر ملے۔ماں بوجھل قدموں سے گھر داخل ہوتیں جیسے وہ خود کو کھینچ کر لا رہی ہوں وہ روزانہ ریڈیو پر ہمسائی کے گھر خبریں سنتیں اور ایک اور ہمسائی سے واپسی پر بلاناغہ ایک ہی قسم کا مکالمہ ہوتا۔

پھوپھی جی ریڈیو کیہ دسدا اے؟ بھابھی شفعیہ پوچھتی تو روزانہ ایک ہی جواب ہوتا۔۔۔کہندا اے قیدی جلدی چھٹ جان گے۔۔قید جلد مک جائے گی۔۔پتہ نہیں اللہ ای جان دا اے۔پتہ نہیں ایہہ قید مکنی وی اے کہ نہیں۔کوئی وڈا دہاڑا ہونا اے جدوں قیدیاں واپس اوناں اے۔
پھر اسی گھر میں بہار آئی بھارت کی قید سے ماں کا بیٹا واپس آیا۔چار بیٹوں اور ایک بیٹی کی شادی ہوئی بہوؤں اور پوتوں پوتیوں سے گھر بھر گیا نوکروں کی ایک فوج ان کے ایک اشارے کی منتظر ہوتی ماں پورے گاؤں کی حاکم بن چکی تھیں۔بیٹوں کو پھلتا پھولتی دیکھتیں تو ماں کی سج دھج ہی اور ہوتی۔ دنیاوی شان، عزت اور آبرو کیا چیز تھی جو ماں نے خواہش کی ہو اور وہ حاضر نہ ہوئی ہو کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی جو پوری نہ ہوئی ہو۔دیواروں پر پوچا کروانے والی ماں مگر تبدیل نہیں ہوئی وہی وقار وہی متانت وہی بھرم شرم والی عادات۔والد کی وفات کے بعد وہ اکیلے تو ہوگئے مگر جس شان سے انہوں نے وقت گزارا وہ بھی ایک مثال ہے۔

ماں پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھیں مگر والد کی بہت ساری کتب شائع ہوئی تھیں ماں ان کتب کو سنبھالتیں ،جھاڑ پونچھ کرتی اور کرواتیں جب کوئی پیر بھائی یا پیر بہن کتاب مانگتی تو پوچھتیں کون سی والی کتاب ۔ وہ کتابوں کو رنگوں سے پہچانتی تھیں۔سبز رنگ والی نیلے رنگ والی۔ یہ غزلوں کی نہیں یہ مرزا صاحباں کا قصہ ہے۔۔یہ چھوٹی کتاب بلال نامہ ہے یہ گلشن قادری ہے کوئی کہتا جس میں ہرنی کا معجزہ ہے وہ کتاب سے دیں فوراً  نکال لیتی اور کہتی اسی میں شیخ صنعان والا قصہ بھی ہے۔ گیارہویں والی سرکار کی مدح والی اور ہے جو والد نے عبدالقادر جیلانی کی کتاب قصیدہ غوثیہ کا ترجمہ کیا تھا وہ نکی کتاب تھی جس الماری میں یہ کتب تھیں اس الماری کو تالا لگا کر رکھتیں۔کوئی ان کی اجازت کے بغیر نہ اس الماری کے تالے کو کوئی کھول سکتا تھا نہ وہاں سے کسی کو بلا اجازت کوئی کتاب اٹھانے کی اجازت تھی۔وہ الماری اب بھی ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔

زندگی کے آخری دو سالوں میں ماں کمزور ہو گئیں تھیں مگر مگر وقار بڑھتا گیا خود دواوں کے نام یاد رکھتیں خود دوا لیتں فلاں دوا ہے دکھاؤ مجھے فلاں دوا لاو۔ صبح شام اپنی بیماری کی اپ ڈیٹ دینا نہ بھولتیں۔فون سرہانے رکھتی تھیں اور ایک ایک پوتے دوہتوں نواسوں کا پوچھتیں۔ انہوں نے پڑپوتے بھی دیکھے ان کی بلائیں لیں ان کا منہ ماتھا چوما اپنے باغ کو کھلتا مسکراتا دیکھا۔ آخری دنوں میں مامووں کو یاد کرتیں تو بوڑھی آنکھیں آنسووں سے بھر جاتیں جیسے کہہ رہی ہوں جس دن تمہارے چھوٹے ماموں کا انتقال ہوا تھا وہ سعی محمد کے میلے پر گیا تھا تمہارے نانا کی باہوں میں چھوٹی سی میت تھی۔اس وقت اس کی عمر چار سال تھی اس دن اس نے نیلے رنگ کی واسکٹ پہنی ہوئی تھی ریشمی نیلے رنگ کی واسکٹ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *