مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔۔برکت حسین شاد

سید تقی مترجم داس کیپیٹل کی جلد اوّل کے دیباچے میں لکھتے ہیں ” میں مصر کے مشہور مارکسٹ ڈاکٹر طہٰ حسین سے ملا تو باتوں باتوں میں ہم دونوں کے مابین تلخ کلامی سی ہوگئی۔ معاملے نے سیریس رخ تو اختیار نہیں کیا تاہم ملاقات خوشگوار نہ رہی۔ وجہ یہ تھی کہ میرے منہ سے یہ جملے نکل گئے کہ داس کیپیٹل جیسی کتاب کا اب تک عربی اور فارسی زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا سکا، جو مسلمانوں کی دو بڑی اور ضخیم زبانیں ہیں ۔ اس میں دوش ان ممالک کے ترقی پسند ادیبوں کا ہے جو فیشن میں کیمنسٹ تو بنتے ہیں لیکن درپردہ وہ کیپٹلسٹ رحجان رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس عمومی بات کو خود پر منطبق کر لیا اور جوابی حملہ کرتے ہوئے اردو ادیبوں کو بھی وہی الزام دیا اور کہا کہ آپ نے کون سا ترجمہ کر لیا ہے جو ہمیں طعنہ دیا جا رہا ہے”۔

یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے ہاں صحیح بات پر بھی عموماً لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ بات صرف عام آدمی کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ معاشرے کے نباض بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں۔ علامہ ضمیر اختر نقوی، مفتی حنیف قریشی اور قاری خلیل الرحمٰن کو ہی دیکھ لیجیے ،وہ پورے رمضان میں انہی باتوں پر لڑتے رہے جو تینوں مکتبہ فکر میں کامن باتیں ہیں اور جن کے احکامات واضح ہیں۔ تینوں ایک ہی حدیث پڑھ پڑھ کر اختلافات کو ہوا دیتے رہے۔ کوئی پوچھے بھئ جب بنیادی باتیں ایک جیسی ہیں تو فروعی معاملات میں کیوں پڑتے ہو۔۔ یہی حال ہمارے ادیبوں اور شعراء کا ہے۔ یہی معاملہ بائیں بازو کے کارکنوں رہنماؤں اور نظریاتی لوگوں کا ہے۔

مسلم سماج کا المیہ یہ ہے کہ انتہائی پڑھے لکھے لوگوں میں بھی اختلاف یا تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں۔ حکمران، ادیب، فوجی جنیل، بیوروکریٹ، جاگیردار، مولوی غرض زندگی کے کسی بھی شعبے کو لے لیں، تنقید برداشت کرنے پر کوئی تیار نہیں بلکہ مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔۔عمران شاہد بھنڈر نے وزیر آغا کی مابعد جدیدیت پر امتزاجی تنقید لکھی اور انہیں غلط ثابت کیا تو بجائے اس کے کہ موصوف علمی و ادبی جواب دیتے، اپنے بیٹے اور انور سدید سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دلوائیں۔

عمران خان آئے روز میڈیا پر پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں۔ فوج تو خیر خود کو مقدس سمجھتی ہی تھی اب سول بیوروکریسی بھی اسی راہ پر گامزن نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر پولیس یا دوسرے محکموں کے اشخاص پر جائز تنقید بھی گویا ناقابلِ معافی جرم بنتا جا رہا ہے۔ کسی مولوی یا مذہبی شخصیت کے کسی بیان یا فتویٰ پر تنقید گویا اسلام پر تنقید متصور کی جاتی ہے۔

مولویوں میں فرق دیکھیں داس کیپیٹل کی تین جلدوں کا اردو ترجمہ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے اپنی نگرانی میں کروایا تھا۔ جبکہ آج کے مولوی جو ضیائی فیکٹری کی پروڈکشن ہیں ،مارکسٹوں کو مسلمان ہی نہ ہونے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ طبقہ کبھی داس کیپیٹل کو پڑھ ہی لے تو مجھے یقین ہے ہزاروں عبیداللہ سندھی اور مولوی بھاشانی پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ داس کیپیٹل اور سکھ ازم نام لئے بغیر اسلامی سماج کی ذیلی سائنسی تشریحات و مفسرات ہیں۔ ستم یہ ہے کہ ان کی ایک بہت بڑی تعداد مغربی جمہوریت اور لبرل کیپیٹل ازم کو نہ صرف مانتی ہے بلکہ استعمال بھی کرتی ہے جو اپنے عناصر میں اسلام مخالف نظریات ہیں۔ کیپٹلزم سود پر چلتا ہے جو اسلام میں حرام ہے۔ اس کی بنیاد ارتکاز زر پر ہے جسے اسلام نے منع کیا ہے۔ یہ نظام طبقات پیدا کرتے ہیں جس کی اسلام میں سخت مناعی ہے۔ یہ نظام انسانوں میں فکری آزادی کے بجائے جسمانی آزادی کی ترویج کرتے ہیں جو اسلامی اخلاقیات سے متصادم ہے۔ یہ انسانوں کی محنت نہیں قوت محنت کو خرید کر اس کا استحصال کرتا ہے جبکہ اسلام قوت محنت کی بہترین ادائیگی یعنی فراخدلی سے فوراً  سے پیشتر ادائیگی کا درس دیتا ہے۔

اسلامی معاشیات سے کیپٹلزم اور مغربی جمہوریت کا گند نکال کر مارکسزم کو شامل کر دیا جائے تو مسلم معاشرہ مثالی معاشرے میں ڈھل کر ایک عظیم انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ مغربی جمہوریت اور لبرل معاشی نظام تو اسلام کی ضدیں  ہیں، جنہیں زبردستی فٹ ان کیا جاتاہے۔

مارکسزم وقت، قوت محنت اور منافع پر مزدور کو مساوی حقوق دینے کی بات کرتا ہے تاکہ مجبور طبقے کی معاشی غلامی کا تدارک کیا جاسکے جسے سرمایہ دار نے نہایت چابک دستی سے استحصال کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔پاکستان میں قومیائے گئے چند ہی ادارے باقی تھے جن میں تعلیم، صحت، سٹیل مل ، پی آئی اے اور ریلوے وغیرہ شامل ہیں۔ موجودہ سرمایہ دار سامراج کے ایجنٹ ان اداروں کی پرائیویٹائزیشن پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ صحت اور تعلیم تو تقریباً پرائیویٹائز کی جا چکی ہیں۔ ان دنوں پاکستان سٹیل مل کی بھی زور و شور سے پرائیوٹائزیشن کی جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ستم یہ ہے کہ ٹریڈ یونین اور بائیں بازو کے سو کالڈ لیڈرز منہ میں جانے کیسے کیسے لولی پاپ لئے بیٹھے ہیں کہ بات بھی نہیں کر رہے۔ مزدور کسان پارٹی کے عابد حسین منٹو اور ڈاکٹر تیمور بھی چپ ہیں۔ اے این پی، پی پی پی، اور اچکزئی بھی خاموش ہیں۔ گویائی اداروں کی پرائیویٹائزیشن کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

لوٹ جاتی ہے اُدھر کو بھی نظر کیا کیجیے
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *