اگر اپالو چاند پر کریش ہو جاتا؟۔۔وہاراامباکر

چوبیس جولائی 1969 کو پہلا مون لینڈر چاند پر اترا۔ یہ ایک خطرناک مشن تھا۔ چاند کی کسی بھی لینڈنگ میں آخری وقت پر بھی ناکامی کا امکان کم نہیں تھا۔ اور اپالو 11 ناکامی سے صرف چند سیکنڈ کے فاصلے پر تھا۔ جس جگہ پر اس کی لینڈنگ کو پلان کیا گیا تھا، یہ اس سے آگے آ گیا تھا اور ایندھن کم ہو رہا تھا۔ اپالو مشنز کے ساتھ کئی طرح کے مسائل پیش آ سکتے تھے جن کی وجہ سے نہ صرف مشن کی ناکامی ممکن تھی بلکہ تمام عملہ بھی ختم ہو سکتا تھا۔ اپالو 13 ایسا مشن رہا جس کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ایک وقت میں یہ امکان بہت کم لگ رہا تھا کہ خلاباز واپس پہنچ سکیں گے۔ اپالو 1 میں لانچ کی ریہرسل کے حادثے میں عملے کے تینوں افراد چل بسے۔ اپالو 12 پر لانچ کے وقت دو بار بجلی گری تھی۔ اس سے الیکٹریکل سسٹمز کو نقصان پہنچا تھا لیکن مین نیوی گیشن سسٹم کام کرتے رہے اور مشن کامیاب رہا۔ اپالو 16 میں کمانڈ ماڈیول کا انجن بیک اپ اس وقت خراب ہو گیا جب یہ چاند کے گرد مدار میں تھا۔ مشن کنٹرول نے اندازہ لگایا کہ وہ اس خرابی کے باوجود جاری رکھ سکتے ہیں لیکن اس مشن کا دورانیہ ایک روز کم کر دیا گیا۔

اپالو 11 ایک طرح سے تجرباتی مشن تھا۔ پلان یہ تھا کہ لازمی نہیں کہ لینڈنگ کی جائے۔ پلان لینڈنگ کی کوشش کا تھا اور یہ اس وقت کی جانی تھی اگر سب ٹھیک ٹھیک ہو جائے۔ اس میں ناکامی ایک دھچکا ہوتا۔ ناسا نے لینڈ کرنے کے لئے وہ مقام چنا تھا جو چاند کی سطح پر سب سے بڑا فلیٹ علاقہ ہے۔ اس کو سائٹ 2 کہا جاتا ہے۔ یہ دس میل کا بیضوی علاقہ ہے۔

آئیڈیا یہ تھا کہ لینڈر پر موجود کمپیوٹر اس کو خودکار طریقے سے پچاس ہزار فٹ سے نیچے لا کر چاند سے پانچ سو فٹ کی بلندی تک لائے گا۔ یہاں سے کنٹرول آرمسٹرانگ سنبھالیں گے اور آخری لینڈنگ کریں گے۔ آرمسٹرانگ کو جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ پلان کے مطابق نہیں جا رہا اور وہ لینڈ کرنے کے مقام سے آگے آ گئے ہیں اور ایسے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں بڑے پتھر موجود تھے۔ اس کو مغربی کریٹر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کمپیوٹر کا کنٹرول خود سنبھال لیا اور اس گڑھے سے آگے لے گئے۔ ایک اور گڑھا پار کر کے اس لینڈر کو سائٹ ٹو کے کنارے پر اتارا گیا جو طے شدہ مقام سے تقریباً چار میل دور تھا۔ یہ وہ مقام تھا جس پر لینڈ کرنے کے بعد “شاہین اتر گیا ہے” کے الفاظ سنائی دئے۔

جب آرمسٹرانگ آخری لینڈنگ کر رہے تھے تو مشن کنٹرول نے اس وقت اندازہ لگایا تھا کہ لینڈر میں پچیس سیکنڈ کا ایندھن بچا تھا۔ ناسا کے رولز کے مطابق اگر یہ بیس سیکنڈ تک آ جاتا تو مشن کو ترک کر دیا جاناتھا۔ ترک کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ایمرجنسی طور پر بلند ہونے کی پروٹوکول شروع کر دی جاتی جو لینڈر کو الگ کر دیتی اور واپس آنے کا ماڈیول بلند ہونے لگتا اور واپس کمانڈ ماڈیول تک جا پہنچتا۔ بلندی کی طرف لے جانے والے انجن کو سٹارٹ کرنے میں دو سے چار سیکنڈ لگتے ہیں۔ اس دوران لینڈر نیچے آ رہا ہوتا ہے اور اگر اس کو ٹھیک طرح سے اور وقت پر نہ کیا جائے تو خطرہ یہ ہے کہ لینڈر الگ ہو کر سطح سے ٹکرا کر کریش ہو جائے اور اس کے ملبے کا کوئی حصہ بلند ہونے والے ماڈیول کو نقصان پہنچا دے۔

اپالو 11 کا ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بلند ہونے والا یہ انجن چاند جیسے کنڈیشن پر ٹیسٹ نہیں ہوا تھا۔ اس میں ناکامی کا مطلب یہ ہوتا کہ خلاباز چاند پر پھنس جاتے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ خلابازوں کے پاس خودکشی کرنے کے لئے کوئی زہر کے کیپسول تھے یا نہیں کیونکہ اگر وہ چاند پر پھنس جاتے تو ان کے ریسکیو کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ناسا کے پاس کوئی اضافی راکٹ یا لینڈر نہیں تھے۔ اور ان کی موت تکلیف دہ ہوتی۔

اس مشن کے تیس سال بعد پبلک ہونے والے ریکارڈ میں ایک خفیہ میمو ہے جو اب امریکن نیشنل آرکائیو میں ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ناسا نے ایسی صورت میں کیا پلان کیا تھا۔ اس صورت میں چاند پر پھنسے رہ جانے والے عملے سے رابطہ منقطع کر دئے جانا تھا اور بس۔ اس کے بعد ان کی موت آکیسجن ختم ہو جانے سے آتی یا خودکشی سے؟ بعد میں خلابازوں کا انٹرویو یہ بتاتا ہے کہ عملے کو اس صورت میں پروٹوکول کا معلوم نہیں تھا۔

اپالو 11 کے مشن سے صرف دو روز پہلے امریکی صدر نکسن کی تقریر لکھنے والے ولیم سیفائر کو ایک کام دیا تھا۔ یہ کام اس تقریر لکھنے کا تھا جو صدر نے اس طرح کی ٹریجڈی کی صورت میں کرنا تھی۔ (یہ تقریر بھی نیشنل آرکیائیو کا حصہ ہے)۔

اپالو ون کے برعکس ناسا کے پاس کریش سین کی تفتیش کا موقع نہ ہوتا۔ کیا ہوا؟ اس کا معلوم کیسے کیا جاتا؟ ناسا نے فلمبندی کے لئے چار میں سے ایک رینجر پروب کو استعمال کرنے کا سوچا تھا۔ اس پروب میں چھ ٹی وی چینل تھے۔ بعد میں اس خیال کو ترک کر کے کمانڈ ماڈیول پر ہیسل بلینڈ فلم کیمرہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ دس میل کی بلندی سے تصاویر لیتا اور ایک فٹ کی ریزولیوشن سے تصویر لے سکتا۔ اس سے معلوم ہو جاتا کہ لینڈر اور عملے کے ساتھ کیا ہوا اور کیا عملہ لینڈر سے نکل پایا یا نہیں۔ کمانڈ ماڈیول میں خلاباز کے پاس صرف دس سیکنڈ کا وقت ہوتا کہ وہ دس میل اوپر سے یہ فلم بنا سکیں کیونکہ وہ چاند کے مدار کے گرد گردش کر رہے ہوتے۔ اور بس یہی انفارمیشن ہم تک پہنچ پاتی۔

خوش قسمتی سے کسی بھی اپالو مشن میں اس قسم کی بڑی ٹریجڈی پیش نہیں آئی۔ نہ ہی ناسا کو اپنا آخری پلان استعمال کرنا پڑا اور نہ ہی صدر کو ٹریجڈی کی صورت میں لکھی ہوئی تقریر کرنی پڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر میں وہ مقام نظر آ رہا ہے جہاں اپالو 11 کا لینڈر اترا تھا۔ ویسٹ کریٹر اور اس سے آگے لٹل ویسٹ کا چھوٹا گڑھا عبور کر کے آرمسٹرانگ نے اس کو یہاں پر اتارا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *