صاحبان ،قدردان ۔۔سلیم مرزا

سنتھیا رچی اور زرداری کے گارڈز والے معاملے پہ مجھے بھی ایک واقعہ یاد آگیا،یہ ان دنوں کی بات ہے جب ضیاءالحق کو امریکہ کی “چارلی ولسن  سٹوری “کی تکمیل کے بعد محض تین چار مزائلوں کا حساب نہ دینے پہ ہوا میں اّڑا دیا گیا تھا ۔ان کے ساتھ اکاؤنٹ کے وہ ماہرین بھی تھے جنہوں نےاوجڑی کیمپ میں شب برات منا کر کھاتہ برابر کرنے کی کوشش کی تھی ۔
بیچارے بھول گئے کہ امریکہ کرسمس مناتا ہے دیوالی نہیں ۔

اس جنگ میں فائدہ صرف افغانوں کو ہوا وہ پہاڑوں سے نکل کر پورے پاکستان میں اس طرح پھیلے کہ “کہیں جگہ نہ بچی میرے آشیانے کو “۔آج تک ہماری اکانومی کا 35 فی صد انہی کے قبضے میں ہے،باقی کا 65  فیصد کس کے قبضے میں ہے ؟
“مجھ سے کوئی نہ پوچھے “۔

یہ غالباً 1995کی بات ہے بے نظیر کی حکومت کے دوسرے دور کی سردیاں تھیں ۔ان دنوں اسلام آباد میں افغان ثقافت عروج پہ تھی۔اُڑتی اُڑتی خبرہمارے گاؤں بھی آن پہنچی کہ افغانیوں نے اسلام آباد میں چارلی ولسن کے جواب میں “چارلی اینجلز “کی پوری فلم چلا رکھی ہے ۔ میں نے اقبال عرف بالے سے کہا”یار ۔میں نے اسلام آباد نہیں دیکھا ”
بالے نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا”میں کون سا فیڈرل منسٹر ہوں ،دیکھا تو میں نے بھی نہیں “۔

طے پایا کہ اب پہلی فرصت میں اسلام آباد پہنچ کر اطلاع کی جائے کہ “ہم نے سارا لاہور دیکھ لیا ہے “۔ہم دونوں سنی سنائی روائتوں اور حکائتوں کے سہارے ایف سکس میں” سکاسا گیسٹ ہاؤس ون ” میں جا پہنچے ۔گیسٹ ہاؤس انتظامیہ کے تعاون سے چارلی سے ملاقات بھی ہوگئی ،اس نے بتایا کہ سرسری پابندیوں کی وجہ سے اینجلز کے شو کا وقت سات سے نو بجے تک ہے ۔

مجھے اقبال عرف بالا کہنے لگا، یار وکی ٹھنڈ بہت ہے، ہلکی سی کھانسی میں اگر نپولین برانڈی کے ایک دو گلاس مل جائیں تو طبیعت گلاب ہوسکتی ہے ۔

گیسٹ ہاؤس کے کمپونڈر سے بات کی تو اس نے بتایا کہ مبلغ اٹھارہ سو روپے میں آئرلینڈ سے براستہ تھائی ایمبیسی دوا کا ارینج ہوسکتا ہے ۔۔اور گھنٹہ بھر میں ہوبھی گیا ۔

پانچ بجے ہم دونوں کمرے سے ملحقہ ٹیرس پہ بیٹھ کر ٹھنڈے پانی میں برانڈی ملاتے تو گلاس میں “کگو گھوڑے “بنتے بہت پیارے لگتے ۔ہلکی ہلکی دھند نما ٹھنڈ تھی کہ اچانک میرے گلاس میں دریائی گھوڑا بن گیا ۔

میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو الطاف حسین چیمہ جتنے لمبے تڑنگے تین بندے سر پہ کھڑے تھے ۔میں نے تو خوفزدہ ہونے میں ہی عافیت سمجھی ۔بالے نے ہمت کرکے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا
“سائیں وہ نیچے کچن میں پکوڑوں کا آرڈر آپ نے دیا تھا “؟

ان میں ایک جو دوسروں ایک انچ لمبا تھا اس نے خالی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔
“جی ،سرکار “،میں نے مری مری آواز میں جواب دیا
“ہم نے بھی پکوڑے ہی بنوائے ہیں کیوں نہ مل کرکھائیں ۔”؟

اس نے اپنی بات پہ خود ہی قہقہہ لگا کر باقیوں کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا،اتنے میں ویٹر گلاس اور برف لے آیا ۔
ان میں سے ایک کم لمبے نے پتہ نہیں کہاں سے ریڈ لیبل نکال کرہم پینڈوؤں کی برانڈی کے ساتھ رکھ دی ۔

گفتگو شروع ہوگئی ۔لمبے والے نے اپنا تعارف زرداری کے پرسنل چیف  سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کروایا ۔
جلد ہی ہم گھل مل گئے ۔اب وہ برانڈی پی رہے تھے اور بالا وہسکی ۔

جیسے جیسے پکوڑے آتے گئے ۔ سکیورٹی گارڈ کے درجات بلند ہوتے گئے ۔ اس نے بتایا کہ کون سا وزیر اس کے کہنے پہ لگا ہے اور کون سا سینیٹر اس نے بنایا ہے ۔
بوتل گھٹتی گئی تو آئی جی بھی اس کی مرضی سے تعینات ہونے شروع ہوگئے ۔ہم دونوں اتنے بڑے آدمی کی قربت پہ فخر محسوس کرتے رہے ۔

لگ بھگ رات آٹھ بجے افغان چارلی کابلی سامان لے کر پہنچا تو چیف  سکیورٹی آفیسر بھی چیپ کباڑیا بن گیا ۔ایک نگ اس نے بھی لاٹ سے اٹھا لیا ۔
زداری کے چیف  سکیورٹی گارڈ کی گفتگو سن کر ہمیں احساس ہوا کہ اب اسلا م  آباد پہ ہماری حکومت ہے  ۔اگر ایک دو ملاقاتیں اور ہوگئیں تو بالا سینیٹر پکا تھا ۔ تعلق اگر مزید بہترہوا تو میرے بھی مشیر لگنے کا پروگرام بن گیا تھا۔
رات کے کوئی ڈیرہ دو بجے کا وقت ہوگا ۔
سبھی اپنے اپنے کمروں میں سورہے تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے داخلی و خارجی امور طے ہو چکے تھے کہ ٹھاہ کی آواز سے دروازے کا  ہینڈل ٹوٹا،اور میں دھڑام سے فرش پہ تھا ۔
اس کے بعد سیڑھیوں کے کارپٹ سے تشریف اور سر ٹکرانے کا احساس ہوتا رہا ۔انکشاف ہوا کہ مجھے کوئی ایک ٹانگ سے پکڑے گھسیٹ رہا تھا ۔
سمجھ نہیں آرہی تھی کہ تشریف کہاں ہے اور سر کہاں ؟
نیچے ہال کے فرش پہ جب مجھے پٹخا گیا تو میں نےدیکھا کہ چھت پہ پلاسٹر آف پیرس کا خوبصورت چوکور ڈیزائن اصل میں گول تھا ۔گردن گھما کر دیکھا تو اقبال عرف بالے کو مجھ سے پہلے تہہ و بالا کرکے اکڑوں فرش پہ بٹھایا ہوا تھا ۔مجھے بھی اٹھ کر بیٹھنےکیلئے کہا گیا ۔اس کیلئے بھی زبان کی  بجائے لات ماری گئی ۔
سیدھا ہوکر بیٹھا تو چیف  سکیورٹی آفیسر بھی خالی شلوار پہنے بیٹھا نظر آیا ۔پہلی بار پتہ چلا کہ بلوچی شلوار میں ساڑھے چھ میٹر کپڑا لگتا ہے ۔
ہر طرف سادہ کپڑوں میں کوئی پولیس نما مخلوق تھی ۔
مگر ان کی پھرتی اور مہارت ہمارے ملک کے کسی بھی ادارے سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔
“ان سب کو باہر لے چلو “کسی نے تحکمانہ انداز میں کہا
سب کو گیسٹ ہاؤس کی باہر ی دیوار کے ساتھ سروں پہ ہاتھ رکھوا کر اکڑوں بٹھادیا گیا ۔
بالا مجھ سے آگے تھا ۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس نے جینز کی بجائے نیلی شلوار کیوں پہنی ہوئی ہے ۔؟
پندرہ بیس منٹ اسی حالت میں گزر گئے ۔اچھا ہوتا کان پکڑوا دیتے تو آسانی رہتی ،کم ازکم اس کا تجربہ تو تھا۔ سر پہ ہاتھ رکھوا کر انڈین سیٹ پہ اتنی دیر بلاوجہ بیٹھنا کافی مشکل تھا۔
پھر اچانک وہ سب گاڑیوں میں بیٹھے اور جیسے آئے تھے ویسے ہی چلتے بنے ۔
گیسٹ ہاؤس کا سارا سٹاف اور ہم ان کے جانے کے بعد بھی دس منٹ تک ایسے ہی بیٹھے رہے ۔
آخر بالے نے ہمت کی اور ہاتھ نیچے کئے ۔ سب ایک ایک کرکے اٹھے ،اور گیسٹ ہاؤس کی ریسپشن پہ آکر بیٹھ گئے ۔
سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخرہوا کیا ہے ؟
حواس بحال ہوئے تو سب نے اپنے اپنے کمروں میں   جاکر حلیے ٹھیک کیے۔
پھر انتہائی ایمانداری سے واپس آکر وہیں بیٹھ گئے ۔
کوئی آدھے گھنٹے بعد ایک صاحب باہر سے اندر آئے وہ سکاسا گیسٹ ہاؤس نمبر دو کا مینجر تھا ۔اس نے بتایا کہ ان کے گیسٹ ہاؤس سے کوئی ہائی پروفائل بندہ پکڑا گیا ہے ۔
کسی طرح آنکھوں میں بیٹھ کر رات کاٹی اور فجر ہوتے ہی بھاگ کر کامونکی آکر سانس لیا ۔

چھ سال بعد ایک آرٹیکل پڑھا تو پتہ چلا کہ گرفتار ہونے والا ورلڈ ٹریڈ سنٹر دھماکے کا مطلوب یوسف رمزی تھا ۔
جس پہ دو ملین ڈالر کا انعام تھا ۔آج تک سوچ رہاہوں ان میں سے میرے کتنے بنتے تھے “؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *