• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مریخ پر انسانوں کو بھیجنے والے امریکہ میں کبھی نہ ختم ہونے والی پُرتشدد نسل پرستی۔۔ غیور شاہ ترمذی

مریخ پر انسانوں کو بھیجنے والے امریکہ میں کبھی نہ ختم ہونے والی پُرتشدد نسل پرستی۔۔ غیور شاہ ترمذی

بہت سے قارئین امریکی کمپنی SpaceXکے نام سے واقف ہوں گے اور اس کے چیف ایگزیکٹو ایلن مسک (Elon Musk) کو بھی جانتے ہوں گے۔ جن دوستوں کو ان سے تعارف نہیں ہے، ان کے لئے عرض ہے کہ یہ وہ کمپنی ہے جس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سنہ 2025ء تک اپنا پہلا خلائی جہاز مریخ پر بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو 100 مسافروں کو اس سرخ سیارے پر اتارے گا۔ اس وقت تک مریخ کا سفر ایک انتہائی مہنگا سفر ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ،اس پر اربوں ڈالر اٹھتے ہیں۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ SpaceX کے سفر کو متوسط طبقے کی پہنچ میں لائیں گے ۔ ان کا اندازہ ہے فی الحال دو لاکھ امریکی ڈالر خرچ کر کے زمین پر رہنے والے مہم جو اپنے نظام شمسی کے انسانی زندگی کے لئے دوسرے سب سے موزوں سیارے میں جا سکیں گے۔ آج کی دنیا اور امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ مریخ بہت جلد ہمارے نظام شمسی میں انسانوں کی دوسری آبادی بننےجا رہا ہے اور اگلے 100 برس میں وہاں کم ازکم 10 لاکھ انسان زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔ بہت سے دولت مند امریکیوں کے لئے خلا کے معنی زمین چھوڑ کر کہکشاؤں کی چھان بین کرنا ہے۔ وہ ایلن مسک کی اسپیس ایکس پرواز کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اور یا یوں کہہ لیں کہ سٹار ٹریک پر خلا کی ان وسعتوں کی سیر کے خواب دیکھ رہے ہیں جہاں پہلے کوئی نہیں گیا۔

اتنے شاندار، اچھوتے اور حسین خوابوں والے امریکیوں کے بیچ غربت، بے روزگاری اور کمتر مراعات زندگی میں رہنے والے افریقی نسل کے امریکیوں کے لئے امریکہ کی اس ممکنہ خلائی ترقی کے معنی بالکل مختلف ہیں۔ آج بھی سیاہ فام افریقن امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے سفید فام پُرتشدد نسل پرستانہ معاشرے میں اپنا مقام تلاش کرنے کی جدوجہد میں کوشاں ہیں۔ آج امریکہ میں دو واضح دھڑے نظر آ رہے ہیں،ایک وہ جو امریکہ میں بسنے والے ہر انسان کو برابری کے حقوق دینا چاہتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا سیاہ فام ہو، ان کے نزدیک ہر انسان برابر ہے۔ دوسری طرف سفید فام نسل پرست ہیں جو خود کو بالاتر سمجھتے ہیں ،جن کا ماننا ہے کہ امریکہ میں بسنے کا حق صرف سفید فام افراد کو ہے۔ یہ تقسیم ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں بدترین نفرت بن کر اُبھری ہے اور سفید فام نسل پرست کی سرکاری طور پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم سے ہی سفید فام نسل پرست کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے مسلمانوں اور سیاہ فام شہریوں کے خلاف زہر اگلنے کا آغاز کیے رکھا۔ جس سے امریکہ میں دوسری اقوام میں احساس محرومی پیدا ہونا فطری عمل تھا۔

سنہ 2016ء کے الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اکثریتی آبادی والے سفید فام معاشرے میں نسل پرستی کی جو آگ بھڑکائی تھی، وہ اب انتہائی پُرتشدد بن چکی ہے۔ سیاہ فام امریکیوں کے لئے محفوظ امریکہ والی جگہیں سکڑتی جا رہی ہیں۔ مناپولس میں ایک اور سیاہ فام مرد جارج فلوئیڈ کی ہلاکت اور وہاں بھڑکنے والے شعلے اب دوسرے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سیاہ فام امریکیوں کو سانس لینے کے لئے اب صرف ایک سوراخ ہی باقی بچا ہے۔

جارج فلائیڈ

گزشتہ منگل جارج فلوئیڈ کی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہاتھ پیچھے بندھے، منہ کے بل زمین پر گرے ایک شخص کی گردن پر ایک پولیس افسر کئی منٹوں تک اپنے گھٹنے سے اپنا پورا بوجھ ڈالے ہوئے ہے۔ وہ مِنتیں کر رہا ہے کہ مجھے سانس نہیں آ رہا۔ ارد گرد کھڑے لوگ اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں اور مزید پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرتے ہیں۔ اور پھر وہ سیاہ فام 3 منٹ تک مسلسل دم گھٹنے سے مر جاتا ہے، مگر سفید فام پولیس افسر کا گھٹنا اس کی گردن سے پورے 9 منٹ تک نہیں اٹھتا۔ اس دوران اس پولیس والے کے ساتھی جارج فلوئیڈ کی نبض چیک کر کے اسے بتاتے ہیں کہ وہ مر چکا ہے مگر ظالم سفید فام افسر طبی عملہ پہنچنے تک مرے ہوئے جارج فلوئیڈ کی گردن سے گھٹنا نہیں اٹھاتا ،جو 6 منٹ پہلے مرتے ہوئے اپنے آخری الفاظ کہہ رہا تھا کہ” میرے بچوں سے کہنا میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں۔ ماما”

شاید آپ کو پتہ ہو کہ جارج فلوئیڈ کا ایک ہم نام جارج سٹینے جونئیر (George Stinney Jr) وہ سب سے کم عمر سیاہ فام امریکی تھا جسے صرف 14 سال کی عمر میں 16 جون 1944ء کو بجلی کی کرسی پر بٹھا کر موت کی سزا دی گئی تھی۔ اپنے مقدمہ کی سماعت اور اپنی سزا والے دن بھی جارج اپنے ہاتھ میں بائبل لئے اپنی بے گناہی کا یقین دلاتا رہا مگر اسے 11 سالہ بیٹی (Betty) اور 7 سالہ میری (Mary) کے قتل میں فریم کر دیا گیا جن کی لاشیں اس گھر کے نزدیک ملیں جہاں وہ اپنے غریب ماں باپ کے ہمراہ رہتا تھا۔ اس وقت اس کا کیس سننے کے لئے مقرر ہونے والی جیوری کے سارے اراکین سفید فام تھے۔ اس کے مقدمہ کی سماعت صرف 2 گھنٹے میں مکمل کر لی گئی اور صرف 10 منٹ بعد اس کو سزا بھی سنا دی گئی۔ بچے کے والدین کو شدید دھمکایا گیا اور یقینی بنایا گیا کہ وہ کمرہ عدالت میں حاضر نہ ہوں بلکہ بعد میں انہیں اس شہر سے بھی “تڑی پار” کر دیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران جارج کے والدین تو موجود نہیں تھے مگر اسے وکیل کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ سزا سنائے جانے کے بعد اس پر عمل درآمد میں 81 دن کا وقفہ تھا جس دوران اسے شہر سے 80 میل دور ایک جیل میں رکھا گیا۔ اس دوران اسے اپنے والدین یا کسی اور سے بھی ملنے کی سہولت نہیں دی گئی تھی۔ جب اسے بجلی کی کرسی پر بٹھا کر 5,380 وولٹ کرنٹ اس کے سر پر دیا گیا تو چند لمحے پہلے اس کی زبان پر یہی لفظ تھے، ,”میں بے گناہ ہوں۔ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ماما”۔

جارج سٹینے جونئیر

جارج کی موت کے 70 سالوں بعد جنوبی کیرولینا کے ایک جج نے اس کیس کی دوبارہ سماعت کی۔ جیوری نے متفقہ فیصلہ سے اسے بےگناہ قرار دیا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ غریب سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا اور سکول کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ اس کیس کی دوبارہ سماعت میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جارج کو اس دوہرے قتل کی واردات میں فریم کرنے والا شخص اسی سفید فام نسل پرست گروپ سے تعلق رکھتا تھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کا باپ اپنی جوانی میں منسلک رہا اور نسل پرستانہ جھگڑے میں ایک دفعہ اسے حوالات کی سیر بھی کرنی پڑی تھی۔ اپنے پیسے اور اثرورسوخ کی وجہ سے اگرچہ وہ مقدمہ میں چالان ہونے سے بچ گیا تھا لیکن نسل پرستی کی حمایت اور اسے جارحانہ رنگ دینے میں ٹرمپ خاندان کے خون میں اثرات ہیں۔

ایرک گارنر

جارج فلوئیڈ اور جارج سٹینے جونئیر دونوں کی بے گناہ اموات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح ملوث ہے۔ جارج سٹینے جونئیر کے عدالتی قتل میں ٹرمپ کے باپ کی نسل پرستانہ نفرت پھیلانے والی پارٹی نے ایک بےگناہ کو موت سے ہمکنار کروا دیا اور جارج فلوئیڈ کی موت میں ایک نسل پرست سفید فام پولیس افسر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں نے اس قدر ظالم بنا دیا کہ وہ ایک اور سیاہ فام کی اذیت ناک موت کا مرکزی کردار بن گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات اب بھی وہی ہیں جو اس کے باپ کے70،80سال پہلے ہوا کرتے تھے۔ آپ جمعہ والے دن ٹرمپ کی ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں جس میں وہ کہتا ہے کہ ” جب لوٹ مار کا آغاز ہوتا ہے تو پھر شوٹنگ یعنی فائرنگ شروع ہو جاتی ہے”۔ یہ ٹویٹ ٹرمپ نے اس وقت کی جب مختلف امریکی شہروں میں جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد مظاہرین سڑکوں پر آ گئے اور پولیس سے ان کی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ایرک گارنر نامی سیاہ فام بھی سنہ 2014ء میں اسی طرح کی پولیس گردی کا شکار ہوا تھا مگر چونکہ اس وقت حکومت نہایت سمجھ دار سیاہ فام امریکی صدر باراک اوبامہ کی تھی تو انہوں نے نہایت ہوش مندی سے معاملہ کو سنبھال لیا۔ اسی طرح کے کچھ مظاہرے شہری حقوق کے لئے ہونے والی جد وجہد کے دوران سنہ 1960ء میں بھی ہوئے تھے۔ میامی میں پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی تو اس وقت کے ایک پولیس سربراہ نے یہی الفاظ کہے تھے جو آج ڈونلڈ ٹرمپ ٹویٹ کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔
الیکشن جیتنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی بھڑکائی ہوئی پُرتشدد نسل پرستانہ نفرت کی لہر میں سیاہ فام امریکیوں کے خلاف سفید فاموں کا تشدد معمول سا بن گیا ہے، بلکہ زیادہ پُرتشدد طریقہ سے جاری و ساری ہے۔ ایک حساس امریکی کے کانوں میں ایرک گارنر کی کراہیں گونجتی ہیں۔ اسے جارج فلوئیڈ کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اس کا دل 14 سالہ جارج سٹینے جونئیر کی اپنی بےگناہی کے لئے التجائیں سن کر مٹھی میں آ جاتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اندھا ہو چکا ہے۔ اسے یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ آج کے وقتوں میں ،اگر پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی ہلاکتیں سُر ہیں تو پھر سیاہ فاموں کا جارحانہ ردِعمل آج کے وقتوں کی تال ہے۔ یہ سفید فاموں کے معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی تال ہے۔ امریکی معاشرہ میں آپ سیاہ فام ہیں تو آپ کے لئے تیراکی کرنے کی, گاڑی چلانے کی,، پکنک منانے کی،  شاپنگ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ سیاہ فام کھڑا نہیں ہو سکتا, سانس نہیں لے سکتا۔ سیاہ فام ہوتے ہوئے آپ جو ہیں وہ نہیں ہو سکتے۔اس لئے سیاہ فام امریکی اور حساس دل رکھنے والے امریکی معاشرہ میں سب کے لئے برابری کے حصول کے لئے میدان میں ہیں۔

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کورونا وائرس سے پھیلنے والی وباء سے مرنے والوں کی شرح سب سے زیادہ سیاہ فاموں کی ہے۔ ڈاکٹر سیاہ فاموں کی بیماریوں کے بارے میں تو بات کرتے ہیں، لیکن وہ اس عدم مساوات کو نہیں دیکھتے،جس کی وجہ سے وہ بیمار پڑتے ہیں۔ سیاہ فاموں کے لئے بیمار ہونا بھی ایک مصیبت ہے۔ ہاں ایک جگہ ہے جہاں سیاہ فام رہ سکتے ہیں۔ عالمی وباء کے دور میں، وہ ساری ملازمتیں جنہیں ضروری اور لازمی قرار دیا جاتا ہے، وہ سیاہ فاموں کو ملتی ہیں۔ وہ سب وے یعنی مقامی ٹرینوں کو چلاتے ہیں, وہ بسیں چلاتے ہیں, گروسری سٹور میں اشیاء رکھتے ہیں  خوراک گھر پر پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر سفید فام گھروں میں بیٹھے حکومت کے فنڈز کے مزے لیتے ہیں۔اس صورتحال نے پورے امریکہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ عام امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہے۔ نسل پرستانہ پالیسیوں، ساری دنیا کے ساتھ دشمنی رکھنے اور کورونا وائرس سے نبٹنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی کمزور پالیسی اور حکمت عملی نے امریکی عوام کو ری پبلکن پارٹی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے متنفر کر کے رکھ دیا ہے۔

جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد آج امریکی میڈیا ایک بار پھر سول وار کے خدشات کا اظہار کر رہا ہے اور یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ گزشتہ 2 سالوں سے امریکی میڈیا مسلسل اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہا تھا کہ امریکہ سول وار کی طرف بڑھ رہا تھا اور اب اس خدشہ کو جارج فلوئیڈ اور ایرک گارنر کے قتل نے سچ ثابت کر دیا ہے۔یہ ممکن ہے کہ امریکی ریاست ان حالات پر قابو پا لے لیکن جو قوم میں تقسیم ہو چکی ہے یا جو نفرت پیدا ہو چکی ہے وہ ختم نہیں ہو پائے گی اور ہر وقت دوبارہ حالات خراب ہونے کے امکانات رہیں گے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ آہستہ آہستہ سویت یونین کے اختتام جیسے حالات کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان حالات میں دنیا خاموشی سے امریکہ کو ٹوٹتا دیکھتی رہے گی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے دوست کے بجائے صرف دشمن بنائے  ہیں۔ آپ اگر مارچ اور اپریل کی خبروں پر توجہ دیں تو امریکی میڈیا کے مطابق امریکی عوام نے ریکارڈ اسلحہ خریدا ہے کیونکہ حالات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ جلد ہی امریکہ میں سول وار کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں لہذا ہر شخص اپنی حفاظت کے لئے خود انتظامات کرتا نظر آیا۔یہ بد اعتمادی کسی بھی ریاست کی ٹوٹ پھوٹ کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔آج کا امریکہ بارود کا ڈھیر بن چکا ہے،جسے کبھی بھی کوئی چنگاری جلا سکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *