لولی لنگڑی جمہوریت , لولے لنگڑے بہانے.ژاں سارتر

گزشتہ روز جناب اظہار الحق کے کالم کا ایک اقتباس فیس بک پر شئیر کیا جس میں انہوں نے پاکستانی سیاسی جماعتوں میں خاندانوں کی حکومت کا ذکر کیا تھا تو حسب توقع اور حسب معمول بعض دوستوں کی جانب سے ایک ازکار رفتہ لولا لنگڑا بہانہ سامنے آیا کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوری روایات نہ پنپنے کا واحد سبب ملک میں بار بار مارشل لاء کا نفاذ ہے۔آپ ملک میں کسی خرابی کی نشاندہی کر لیجیے، ہمارے نو زائیدہ جمہوریت پسندوں کا رٹا رٹایا جواب یہی ملے گا کہ یہ سب فوجی مداخلتوں کا نتیجہ ہے۔ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ فوجی حکومت ایک ملک کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اس سرطان کو دعوت دینے اور اس کی جڑیں مضبوط کرنے والے کون ہیں؟
آگے بڑھنے سے پیشتر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا ایک نظر دنیا کی دو قدیم ترین جمہوریتوں پر بھی ڈال لیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے۔

پہلا امریکی صدر جارج واشنگٹن جو بابائے قوم بھی ہے، 1789 سے 1797 تک صدر رہا ۔۔۔ حیرت ہے کہ اس نے مرنے سے دو برس قبل ہی صدارت چھوڑ دی۔ اس کے بعد دو بار صدارت والا اصول آپ کے سامنے ہے۔
امریکی ریپبلیکن پارٹی 1854 میں اور اس کی نیشنل کمیٹی 1856 میں قائم ہوئی۔ 161 برس میں اس کے 66 چئیرمین تبدیل ہو چکے ہیں گویا ہر پارٹی سربراہ کی اوسط مدت اڑھائی برس سے بھی کم ہے۔ پہلا چئیرمین آٹھ برس اور دوسرا محض دو برس اپنے عہدے پر رہا تھا۔
امریکی ڈیموکریٹک پارٹی 1828 میں وجود میں آئی۔ اس کی نیشنل کمیٹی 1848 میں قائم ہوئی۔ 169 برس کے عرصے میں اس کے 55 چئیرمین اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ گویا ہر ایک کی اوسط مدت تین سال بنتی ہے۔

برطانوی کنزرویٹیو پارٹی کی تشکیل 1834 میں ہوئی۔ 183 برس میں 48 افراد نے اس کی سربراہی کی۔ پہلا چئیرمین پانچ، دوسرا سات اور تیسرا تین برس تک عہدے پر رہا۔
برطانوی لیبر پارٹی کا قیام 1900 میں عمل میں آیا۔ 117 برس کے دوران اس کے 26 سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں جن میں سے ہر ایک کی اوسط مدت ساڑھے چار برس بنتی ہے۔
ان تمام لوگوں کی اکثریت میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ پارٹی کی سربراہی چھوڑنے کے بعد بھی یہ زندہ رہے۔ یہاں جناب مشتاق احمد یوسفی کا ایک خوبصورت جملہ ذہن میں آرہا ہے، وہ بھی پڑھتے جائیے۔ “ہمارے ہاں ہر حکمران انتقال اقتدار کو اپنا ذاتی انتقال سمجھتا ہے۔”

اب آئیے اس تحریر کے مقصد کی جانب ۔۔ ہمارے جمہوریت پسندوں کی رائے کے مطابق اس جمہوری رویے کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں کبھی مارشل لا نہیں لگا ۔۔۔ بالکل درست لیکن کیا وہ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ فوجی مداخلت نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟
شاید وہ نہ بتائیں ۔۔۔۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ڈیڑھ پونے دو سو برس قبل ہی ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا جمہوریت کی بنیاد ملکی انتخابات نہیں، جماعتی انتخابات ہیں۔ جو جماعت اپنے اندر جمہوریت نہ رکھتی ہو، وہ ملک کو جمہوری انداز میں کیسے چلا سکتی ہے۔ جو افراد ایک جماعت پر اپنی گرفت ڈھیلی کرنے کے روادار نہیں، وہ پورے ملک کو اپنے پنجوں سے نکلنے کی اجازت کیونکر دے سکتے ہیں۔

ہر بات کے جواب میں یہ کہنا کہ جمہوری روایات وقت گزرنے کے ساتھ مستحکم ہوں گی، ایک بھونڈے مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ آپ آج ایک کاروباری ادارہ قائم کرتے ہیں تو اس کے قواعد و ضوابط اکیسویں صدی کی ٹیکسٹ بکس کی مدد سے طے کرتے ہیں یا سترہویں صدی کی تجارت کے اصولوں سے؟
آج اگر ایک ریلوے انجن بنانا مقصود ہو تو مکینیکل انجنئیرنگ کی جدید تکنیک استعمال کی جاتی ہے یا جارج سٹیونسن کے سٹیم انجن کے تجربات سے کام کا آغاز کیا جاتا ہے؟
اور تو اور ملک کے واحد متفقہ آئین کی تیاری کے لیے سولہویں اور سترہویں صدی کے جمہوری ترلبات کا اعادہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ برطانیہ، امریکا اور بھارت کے دساتیر سے متعدد آئینی شقیں نقل کر لی گئیں تھیں۔

ہم ایک گلوبل ویلج میں رہتے ہیں جہاں آئی فون ایک ہی روز پوری دنیا میں ایک ساتھ لانچ ہوتا ہے، پوری دنیا مل کر ایک ہی روز ماحولیات کا عالمی دن مناتی ہے، اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے دو سو سے زائد ممالک ایک جیسے قوانین کی پابندی کا وعدہ کرتے ہیں، دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیمی کورسز ایک جیسے پڑھائے جاتے ہیں لیکن صرف سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ جمہوری اقدار کو قوانین کی صورت دینے کے لیے ہمیں مزید ایک صدی تک انتخابات چاہئیں ۔۔۔ واللہ اس سے زیادہ خوبصورت بہانے تو پرائمری سکول کے بچے تراش لیتے ہیں۔

آخر میں ہمارے جمہوریت پسندوں کے اس رویے کا ذکر بھی ضروری ہے جس میں وہ اور مُلا ایک دوسرے کا عکس ہیں ۔۔۔ جس طرح مذہب پر مُلا اپنی اجارہ داری سمجھتا ہے بعینہ یہ جمہوریت پسنداپنے سوا ہر شخص کو جمہوریت دشمن سمجھتے ہیں۔ گویا جمہوریت نہ ہوئی چھ ماہ میں پیدا ہونے والا پری میچور بچہ ہو گیا کہ ماں کے سوا کوئی اسے ہاتھ نہ لگائے۔ اگر کوئی شہری اپنی سیاسی جماعتوں پر معمولی سی تنقید بھی کر لے تو فوری طور پر اسے فوجی مداخلت کا حامی قرار دے دیا جائے مبادا جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ کوئی جائے اور انہیں بتائے کہ ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ نظام مصطفیٰ کے نام پر دجل و فریب کا مکروہ کھیل رچا رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ آئی ایس آئی اور اسامہ بن لادن سے رقمیں بٹور رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ شرق اوسط اور وسطی ایشیا کے “مجاہدین” کو پاکستانی پاسپورٹ دلوا رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ معاہدہ کرکے رات کے اندھیرے میں نکل لیے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ اربوں روپے سوئٹزرلینڈ ٹرانسفر کر رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ سوموٹو جج کے ذریعے عدالتی مارشل لا نافذ کرا رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ نصف شب کو بوٹوں پر بوسے دینے کے لیے حاضر ہوتے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ کالا کوٹ پہن کر عدالت عظمیٰ کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب آپ رات گیارہ بجے اکثریت کا مطالبہ کر رہے تھے، ہم اس وقت بھی جمہوریت پسند تھے جب عدالت نے منظم دھاندلی کیس میں فیصلہ آپ کے حق میں دیا تھا۔ اب اگر ایک ذاتی مقدمے میں آپ گرفت میں آگئے ہیں تو ہمیں جمہوریت پسندی کا درس نہ دیجیے۔۔۔ آپ کے بچوں میں ایسی کوئی خوبی نہیں، جس کی بنیاد پر ہم ان کی غلامی اختیار کریں!

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *