جہیز اور معاشرے کی غیرت ۔۔سید مہدی بخاری

میری پہلی شادی جو کہ دو طرفہ اندھا دھند محبت کی شادی تھی وہ جب ہوئی تو میرے سابقہ سسر صاحب نے ایک دن شادی سے قبل فون کر کے کہا کہ فلاں فلاں شے (جہیز) خریدنے کو پیسے بھجوا رہا ہوں وہیں سے لے لیں کیونکہ کراچی سے ٹرانسپورٹ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ سن کر میرا دماغ ماوف ہو گیا۔ میری عمر تب 21 سال تھی مگر جہیز جیسی لعنت کے میں سخت خلاف تھا۔ میں نے بصد احترام عرض کی کہ ہرگز نہیں، سوچنا بھی نہیں، میرے پاس جو کچھ ہے وہ کافی ہے مگر وہ پھر بضد رہے تو میں نے غصے میں کہہ ڈالا کہ آپ ایسا کریں وہیں کراچی رہیں اور بیٹی کو وہیں کہیں بیاہ دیں۔

غصہ مجھے اس بات پر آیا کہ میں نے جہیز کو قابل مذمت عمل سمجھا ہے اور اس کو سراسر جہالت قرار دیتا ہوں۔ اس وقت نوجوان تھا۔ گو کہ پسند کی شادی ہو رہی تھی مگر یہ بات گوارا نہ ہو سکی۔ خیر، کہہ تو ڈالا مگر غصہ اترا تو سوچنے لگا کہ یہ تو اپنا کام ہی خراب ہو گیا ہے  ۔ اگلے دن سابقہ سسر کی پھر کال آ گئی۔ اب کے وہ یوں گویا ہوئے ” اچھا مجھے پتا ہے کہ تم بہت خوددار قسم کے لڑکے ہو اور اچھی بات ہے مگر یہ بتا دوں کہ اپنی بیٹی کو کچھ دینا میرا حق ہے لہذا مجھے اس حق سے روکا نہیں جا سکتا۔ دوسری اہم بات یہ کہ میرے ہاں یہ پہلی شادی ہے اور میری بڑی بیٹی ہے مجھے خاندان والوں کو منہ دکھانا ہے۔ میری عزت کا مسئلہ ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کچھ نہ دوں اور خاندان والے مجھے طعنے دیں کہ اول تو بیٹی باہر بیاہ دی اوپر سے خالی ہاتھ بیاہ دی۔ تم سوچ سکتے ہو کہ معاشرہ ایسا نہیں ہے جیسا تم چاہتے ہو۔ میرے سٹیٹس کا مسئلہ ہے” ۔۔ لگ بھگ ایسی ہی باتیں کر کے وہ مجھے قائل کرتے رہے کہ یہ ان کی عزت کا مسئلہ ہے۔ وہ پولیس آفیسر تھے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ایس ایس پی رینک کا آفیسر ہو اور دولت مند نہ ہو یہ کہاں لکھا ہے۔ کچھ انہوں نے خاندانی وراثت لی کچھ پولیس کی وراثت ۔

خیر، یہ طے پایا کہ بہت ہی لمیٹڈ سا جہیز ہو گا اور چند ضروری اشیاء۔ ان میں فرنیچر ہی تھا۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ چاہے جہیز کے جتنا خلاف ہوں مگر سوسائٹی کلچر ہی ایسا بن چکا ہے کہ اب یہ لوگوں کی عزت کا مسئلہ بن گیا ہے۔

وہ تعلق دس سال رہا، اختتام پذیر ہوا۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں یہاں بتانا ضروری نہیں۔ اس کے بعد دوسری شادی کی۔ شادی کیا بس سادہ سی تقریب ہوئی۔ اس میں بھی بالکل یہی مسئلہ آن پڑا کہ ان کی عزت کا مسئلہ تھا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور بنا دیا گیا۔

ہم نے بنام کلچر ایسے ایسے رواج پالے ہیں کہ جو وقت کے ساتھ ہماری عزت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ سفید پوش لوگ اسی جہیز جیسی لعنت کے ہاتھوں بیٹیاں بیاہنے سے رہ جاتے ہیں اور سوسائٹی کے اکثر افراد بنا جہیز کے رشتہ قبول بھی نہیں کرتے۔ یہ سلسلہ جہیز اب ایک SOP بن چکا ہے۔ آپ چاہے لاکھ انکار کریں مگر لڑکی کے باپ یا وارث کی عزت کا مسئلہ کہاں ایڈجسٹ کریں گے ؟

ہم سب مجبور بنا دیئے گئے ہیں۔ ہمارے دماغوں میں زنجیر پڑ چکی ہے جس کو توڑنا اس سوسائٹی میں رہتے ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں۔ اس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں جس نے اپنی بیٹی خاتون جنت کی شادی جب کرنا چاہی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو فرمایا ” تم مرد میدان ہو۔ تم کو زرہ کی کیا ضرورت ؟ پیٹھ دکھا کر تم نے کبھی بھاگنا نہیں تو یہ زرہ بیچو اور مجھے اس کے پیسے لا کر دو”۔ انہوں نے اپنی زرہ بیچی اور ان پیسوں سے گھر کا ضروری سامان رسول کریم نے خریدا۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ جہیز کیا تھا ؟

ایک گندم پیسنے والی چکی، دو مٹی کے گلاس، چند برتن اور ایک زمین پر بچھانے والی چٹائی۔

یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کو خود بنائے۔ اشیاء ضرورت کی فراہمی مرد کا ذمہ ہے۔ عورت کا ذمہ گھر کو سنبھالنا اور اس کی حفاظت ہے۔ ہم تو منہ کھولے اس آس پر شادیاں طے کرتے ہیں کہ دیکھو اپنے ساتھ لڑکی کیا لاتی ہے۔ عجب رسوم ہیں۔ ایک باپ لڑکی کو پال پوس کر پڑھا لکھا کر تربیت کر کے بڑا بھی کرے اور اس کی رخصتی پر اسے عمر بھر کی جمع پونجی بھی دے کر رخصت کرے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں لاکھوں لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ وہ جن کے وارث نہیں یا وہ جو سفید پوش ہیں اور صرف اپنا گزربسر ہی بمشکل کر پا رہے ہیں۔

یوں تو یہ معاشرہ امت کا ٹھیکیدار ہے۔ ہم سے بڑا مسلمان تو عربوں میں بھی نہیں جہاں دین آیا تھا۔ کہنے کو ہم داعی بھی ہیں اور تمام عالم اسلام کے سپہ سالار لیکن روزمرہ و نجی زندگیوں میں دین ہمارے اندر رتی برابر نہیں جھلکتا۔ حق مہر تو “شرعی” لکھوانا ہے مگر جہیز کی باری بسم اللہ ماشااللہ ۔۔

اور یہ “شرعی حق مہر” کیا ہوتا ہے ؟ کس نے طے کیا یہ بتیس روپے یا گیارہ روپے یا 500 روپے ؟ ۔۔۔ حق مہر دلہن کا شرعی حق ہے وہ جتنا بھی ڈیمانڈ کر لے چاہے گھر چاہے لاکھوں یا چاہے تو ایک پائی بھی نہ لے۔ ہم تو آپس میں “شرعی مہر” طے کر لیتے ہیں لڑکی بیچاری نے کیا کہنا ہوتا ہے وہ تو اپنے باپ کے سر سے بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہے اور باپ بھی ہرگز نہیں چاہتا کہ مہر کی وجہ سے بدمزگی یا ناراضگی پیدا ہو۔

ہمارے ہاں رشتے مفاد کے رشتے بنتے ہیں۔ سٹیٹس دیکھ کر جوڑے جاتے ہیں۔ ایسے رشتوں کا انجام تمام عمر کمپرومائز کی زندگی گزارنا ہی ہوتا ہے۔ بات شادی پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ تمام عمر عیدیں شبراتیں بھی بھگتانا پڑتی ہیں۔ لڑکی کو بیاہنا تو عدالت میں مچلکے جمع کرانے جیسا ہے اور سال میں عیدوں و شب برات پر دو تین پیشیاں بھگتنے جیسا۔ اور اگر کاکا کاکی پیدا ہو جائے تو بناؤ پھر سے منی جہیز ۔۔

ہم بنام عزت و غیرت و شو آف اپنی بیٹی و بہن کر جہیز و زیور تو دیتے ہیں مگر وراثت میں حصہ نہیں دیتے۔ ویسے تو بات بات پر لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه پڑھنے والے اللہ اور رسول دونوں کو بھول جاتے ہیں۔منظر بھوپالی کا ایک حسب مضمون شعر یاد آ گیا ہے اسی پر اختتام کرتا ہوں۔

باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا
اس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *