آئیے قرآن پڑھیں(قسط ششم)۔۔محمد اقبال دیوان

پانچویں قسط کا آخری حصہ
ہمارے لیے ہمارا تصور الہی قرآن نے سورہ الاخلاص میں بتادیا ہے۔جس میں اسے بات کو کھلے الفاظ میں بیان کیا گیا کہ انسانی جسم کے حوالے سے پیدائش اور رشتوں کے جو حوالے ہیں اللہ ان سے بہت برتر اور اعلی ہے۔وہ ہر قسم کی ضروریات سے بے نیار اور کائنات میں وہ یکتا اور بے مثال ہے۔

باءبل کا قدیم نامکمل نسخہ
بائبل کا نسخہ وٹیکن
نسخہء اسکندریہ

نئی قسط

چوتھی قسط میں دو بہنوں زار اور سارہ کا ذکر تھا۔ان کا ایک سوال بہت اہم ہے۔جس طرحJesus Christعیسائیوں کے لیے ہیں, جس کی وجہ سے ہم پورے دین کو ہی عیسائیت کہتے ہیں، گوتم بدھ کی وجہ سے  بدھ مت کہتے ہیں ،رام ہندوؤں کے لیے بھگوان ہے تو اسلام میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟

مصحف عثمانی توپ کاپی استنبول ترکی
مصحف عثمانی توپ کاپی استنبول ترکی

آپ کے لیے تو اہم معرفت کی ایک بات آئندہ قسطوں میں سورہ الحاقہ اور سورہ الاحزاب کے حوالے سے بعد کے حصوں میں بیان کریں گے۔ان بیبیوں کے لیے ہم نے آہستہ سے اپنی گفتگو میں چھیڑ چھاڑ کا رنگ شامل کیا۔ عیسائی جو بائبل میں سیدنا عیسیٰ  کو بار بار Christ کہہ کر پکارتے ہیں یہ تو ان کا اصلی نام نہیں۔ یونانی زبان میں بائبل عیسی علیہ سلام کوکرائسٹ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے ہاں جو God-King کا تصور پایا جاتا تھا اس کی روشنی میں عطائے تکریم کا سب سے اونچا انسانی پروٹوکول ہے۔یونان اور قدیم مملکتوں کے بادشاہ جب تخت نشین ہوتے تھے ان کے سر  پر علامتی طور پر پتوں کا تاج پہناتے تھے اور ان کی زیتون کے تیل سے مالش یا مسح کرتے تھے، اسی سے کرس ٹوس مختصراًکرائسٹ بمعنی مسیح کا لفظ نکلا ہے۔بائبل کا قدیم ترین نسخہ جو دستیاب ہے وہ یونانی زبان میں ہے۔ اسے اسکندریہ مصر سے لاکر  1627 میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس اوّل کو دیا گیا تھا ۔اسےThe Codex Alexandrinus نام دیا گیا ہے۔   اس نسخے کو اب تک کا سب سے مکمل اور قدیم نسخہ مانا گیا ہے۔ 773صفحات پتے یا کھال کی جھلی(Vellum) پر لکھے گئے اس مصحف کی زبان یونانی ہے جو یقیناً سیدنا عیسی کی زبان نہیں تھی وہ ایک بولی اسرانی بولا کرتے تھے جو شام علاقے حلب (الیپو)کے ایک ایسے قبیلے کی زبان تھی جس سے بی بی مریم کے گھرانے کا تعلق تھا۔کچھ اور بھی نامکمل نسخے ملے ہیں۔جن میں مصر سے ہی ملنے والا ایک نامکمل نسخہ Codex Vaticanus (The Latin Bible)جو وٹیکن کی لائبریری میں موجود ہے۔ ان نسخوں تک عام افراد کی رسائی نہیں۔اس لے اس کے مندرجات کی تصدیق اور تقابل ایک مشکل مرحلہ ہے۔زیادہ تر ملنے والے نسخے عہد نامہ قدیم Old Testamentکے ہیں۔ان دونوں عہد ناموں کا معاملہ یوں ہے کہ Old Testament جسے یہودی اور کیتھولک مانتے ہیں وہ اس معاہدے کی تعلیمات ہیں جو اللہ نے سیدنا موسیٰ کے ذریعے یہودیوں کو عطا کیں۔اس کا اصول بڑا سادہ تھاObey and be blessed, disobey and be cursedکہنا مانو اور فلاح پاؤ۔حکم عدولی کرو گے تو ذلت کے اندھیروں میں جا گروگے۔

ہمارا قدیم ترین نسخہ وہ ہے جو سیدنا عثمان کے پاس تھا۔ ان کی شہادت اس کی تلاوت کے دوران ہوئی تھی۔اس پرآپ کے لہو کے دھبے بھی موجود ہیں۔ یہ اس وقت استنبول کے توپ کاپی عجائب گھر میں رکھا ہے۔عام آدمیوں کو اس کی زیارت کی اجازت رمضان میں ہوا کرتی تھی۔ترکوں کا چونکہ حجاز مقدس پر قبضہ تھا لہذا خلافت عثمانیہ کے دور میں یہ نوادرات ترکی منتقل کردیے گئے تھے۔
آپ کا یہ اعتراض بجا ہوسکتا ہے کہ قرآن پڑھنے کے جس وعدے سے  یہ سلسلہ مضامین شروع ہوا، تو اس پر تو مصنف اب تک پہنچ نہیں پائے اور ادھر اُدھر گھمائے پھرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم ایک محل بناتے ہیں تو اس سے پہلے ارد گرد کی رکاوٹ دور کرکے ایک بہت قابل بھروسہ شاہراہ  ء رسائی بناتے ہیں۔
سوچ لیں کہ  اب تک کہ ان چھ مضامین کا معاملہ بہت حد تک اس خیابان رسائی کا ہے۔

ہم نے ان بچیوں کو سمجھایا کہ سیدنا مسیح علیہ سلام کا درجہ قرآن میں معجزات الہی سے مزین ایک رسول محترم کا ہے ان کا تذکرہ ہمارے رسول عظیم محمد مصطفے ﷺ سے پانچ سو فیصد زیادہ ہے۔قرآن العظیم  میں نام محمد چار دفعہ اور احمد کانام ایک دفعہ آیا ہے۔یوں یہ کُل پانچ دفعہ ہوئے، جب کہ نبی عیسی علیہ سلام کا نام سے ذکر 25 مرتبہ کیا گیا۔سیدنا موسی علیہ سلام کا ذکر بھی136  بار ہوا ہے اور یہ ذکر کسی بھی مقام پرنامناسب الفاظ میں نہیں۔ہم اگر عیسی علیہ سلام، موسی علیہ سلام اور بی بی مریم کا احترام اس طرح نہ کریں جیسے ہم دیگر انبیا علیہ سلام اور رسولوں کا کرتے ہیں تو یہ ایک طرح سے قرآن کی تعلیمات سے انحراف مانا جائے گا۔

بی بی مریم کا مرتبہ
سیدنا آدم کی زوجہ کے طور پر تعارف
ابولہعب کی عورت

ان کی والدہ محترمہ سیدہ مریم کا ذکر قرآن میں 32 دفعہ ہوا ہے جو بائبل کے 18 مرتبہ کے ذکر سے ہر جگہ محترم ہے۔ہر فرقے کی بائبل میں بی بی مریم سے منسوب کوئی کتاب نہیں جب کہ قرآن العظیم کی 19ویں سورہ ان کے نام سے منسوب ہے۔

یہ یوں بھی ایک عجب اعزاز ہے کہ قرآن العظیم میں کوئی اور خاتون نام سے مذکور نہیں۔نہ نبی محترم کی والدہ ماجدہ بی بی آمنہ، نہ امہات المومنین، نہ رسول اکرم کی چار صاحبزادیاں سیدہ فاطمہ، سیدہ زینب، سیدہ رقیہ،سیدہ ام کلثوم قرآن میں نام سے مذکور ہیں، نہ ہی آدم علیہ سلام اور بعد کے چوبیس انبیا علیہ سلام کی کسی ازدواج کا نام سے ذکر ہے۔

بائبل کے ہر بیانیے سے معزز سیدہ مریم کے بارے میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر بیالیس کا جو بیان ہے وہ پہلی دفعہ تو خود مسلمانوں کو بھی ورطہء حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم!اللہ تعالی نے تجھے برگزیدہ کیا۔تجھے پاک کردیا۔ سارے جہان کی عورتوں میں تیرا انتخاب کیا“ دیدات صاحب بی بی مریم کے بائبل میں پہلے تذکرے کو بیان کرتے تو آپ کو اس پر توجہ دے کر افسوس ہوتا تھا کہ کیا یہ وہ کلام ہے جسے یہ نادان اللہ سے منسوب کرتے ہیں۔

سیدنا عیسی کیا کہتے تھے
ختنہ کے لیے لے جایا رہا ۔مصور کا تصور

قرآن جس خاتون کی عزت و تکریم کرتا ہے اسے وہ رشتے سے منسوب کرتا ہے جیسے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 35 جس میں نام کی بجائے اے آدم تم اور تمہاری بیوی۔
جس خاتون  کا  ذکروہ عزت  سے نہیں کرتا۔اسے امراتہ یعنی اس کی عورت کہہ کر ایک کمال شائستگی سے رَد کرتا ہے۔

یہ سن کر زارا نے ہلکے سے کہا کہ ہم دونوں آپ سے اتنے انہماک سے گفتگو کس موضوع پر کررہی ہیں، یہ امی کے لیے یقیناًایک نقطۂ حیرت ہے مگر انکل میری امی کہتی ہیں کہ بائبل کے مطابق سیدنا عیسی یعنی کرائسٹ خدا ہیں، ہم نے کہا آپ کا جب بھی اپنی امی سے اس موضوع پر مکالمہ ہو کہ سیدنا عیسی کا درجہ بائبل میں خدا کا ہے تو انہیں تین باتیں  عرض کیجیے گا۔۔
پہلی تو سیدنا موسی علیہ سلام نے عبرانی زبان کے عہد نامے میں ایک آیت پڑھی تھی وہ یہ تھی کہ
Shama Israelu Adonai Ila Hayno Adonai Ikhad

اسی آیت کو سیدنا عیسی علیہ سلام نے بائبل کی کتابMark 12:29 میں یوں دہرایا ہے کہ
Hear, O Israel; The Lord our God is one Lord.”
(اے بنی اسرائیل اس بات کو پلے باندھ لو کہ خدا ونداء عظیم تو واحد خدا ہے)
پوری بائبل میں سیدنا عیسی کے دعویٰ  خدائی سے متعلق ایک لائن بھی نہیں۔

سیدنا عیسی کی پیدائش

پھر آپ اجازت دیں تو ان کے متعلق خدائی سے موسوم تصور کو رد کریں۔ ہم نے بائبل کی کتاب Luke کی لائن نمبر21 کا حوالہ دیا۔”جب عیسی علیہ سلام کی عمر آٹھ دن ہوگئی توانہیں ختنہ کے لیے لے جایا گیااور ان کا نام عیسی رکھا گیا“۔ پوچھا کہ اب اپنی امی سے پوچھ کر بتائیے گا کہ کیا خدا کی بھی ختنہ ہوسکتی ہے۔یہ ہماری کسی کتاب کا نہیں بائبل کا بیان ہے۔

اتنی دیر میں بارات آئی تو یہ لڑکیاں دلہن کو لینے کے لیے چلی گئیں۔ان کے جاتے ہی مسلمان باپ ہنس کر کہنے لگا، یہ کمال بات ہے کرائسٹ کی ختنہ تو جائز ہے اور یہ عیسائی مرد اپنی ختنہ کو بُرا سمجھتے ہیں۔

ہمارا مختلف ادیان میں پایا جانے والا خدا کا تصور بیان کرنے کا اور اس کا موازنہ قرآن کے بتائے ہوئے سورہ اخلاص کے تصور الہی سے کرنے کا واحد مقصد یہ ہے۔یہ وہ تصور تھا جو قرآن نے بیان کیا تو ہر غیر مسلم عقیدے کے ایوان میں بھونچال آگیا۔آپ کو علم ہوجائے گا وہ کون سا بنیادی تصور ہے جس کے خلاف ان سب ادیان اور ان کے پیروکاروں کے دماغ میں بغاوت پائی جاتی ہے۔ یہ سورہ اخلاص کا بیان کردہ تصور الہی ہے۔

”ان کو سمجھادو کہ یہ اللہ اپنی ذات میں یکتا ہے۔مکمل طور پر بے نیاز۔نہ کسی نے اس کی ذات میں سے جنم لیا ہے۔ نہ اس کی ذات نے کسی کو جنم دیا۔اور وہ اپنی ذات میں مکمل اور لاثانی ہے“۔

ہم جب تک وہ اعتراضات اور شبہات جو دوسروں نے ہمارے دماغ میں مختلف ذرائع سے trojan – malware کی طرح embed شامل کردی ہیں (یعنی وہ چند کمانڈز جو مختلف طریقوں سے چھپ کر آپ کے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم میں ہوجائیں اور آپ کے پروگرام ہائی جیک کرنے لگیں)۔ان کا ذکر نہیں کریں گے تو آپ کی قرآن فہمی کی راہ میں رکاوٹ رہے گی۔ہماری آرزو ہے کہ آپ کو قرآن کے مطالعے سے دین حنیف کی پہچان ہوجائے۔وہی دین حنیف جس کا ذکرسورہ ال بینہ میں ہے اور اسی کی وجہ سے سورہ المائدہ والی فوز العظیم(لازوال کامیابی) ملنے کا امکان ہے۔

اسلام میں اللہ کاجو تصور ہے وہ ان تینوں سے جو بائبل میں، رامائن میں اور بدھ مت میں مذکور ہیں اس سے یوں مختلف ہے۔عیسی علیہ سلام کے اللہ کا نسبی بیٹا ((Begotten Son حوالے جو تصورسے بائبل سے عیسائی اخذ کرتے ہیں ۔ وہ تو اتنا بھیانک ہے کہ قرآن میں سورہ مریم کی آیات نمبر88-90 تک تو یہ کہتی ہیں کہ ”ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔یہ بہت ہی
گھناؤنی بات ہے جو وہ اللہ سے منسوب کرتے ہیں۔قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے،زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔

پچھلی قسط میں مزکور تھا کہ قرآن العظیم شخصیت پرستی کو کسی طور فروغ نہیں دیتا اور اسے مستحسن نہیں مانتا۔ جب آپ قرآن العظیم کی قربت اختیار کریں گے۔اس وقت آپ پر آشکار ہوگا قرآن کا یہImpersonal Narrative کس قدر موثر ہے کہ وہ نبی محترم کو ہدایت اور بندگی کے لیے ان ہی احکامات کی تعلیم دیتا ہے جوایک عام مسلمان پر لازم قرار دیے جاتے ہیں۔اس مساوات پر نچھاور ہونے کو دل کرتا ہے کہ داعی اور پیروکار کو جانچنے کا معیار ایک ہے۔جب کہ معمولی پیر اور امام اپنے لیے اور ،پیروکار کے  لیے دوسرا معیار امتیاز رکھتے ہیں۔

یہ غیر ذاتی بیانیہ اہل شعور اور قرب ہدایت کے متلاشی افراد کے لیے یوں بہت اہم ہوجاتا ہے کہ پورے مصحف میں جہاں بندگی اور انذار یعنی اللہ سے نافرمانی کے عذاب سے ڈرانے کا حوالہ ہے وہاں تو قرآن خود آپ کے لیے واحد متکلم کا صیغہ یعنی بھی مخاطب کے انداز میں استعمال کیا ہے مثلاً ”سورہ الاعراف کی آیت نمبر سترہ کا بیان اس قدر غیر جانبداری اور ذات کو نمایا ں کرنے سے پرے ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
”اے محمدﷺ ان سے کہو میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔مجھے اگر غیب کا علم  ہوتا تو میں اپنے لیے بہت سے فائدے حاصل کرلیتا اورمجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔میں تو ایک (عذاب الہی سے)ڈرانے والا ہوں اور خوش خبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کو جو میری بات مانیں“۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *