نوائے راجوری(حصّہ اوّل)۔۔عامر عثمان عادل

ایک مرد ِ درویش کی داستان ِ حیات جس نے قرآن کی محبت میں کشمیر کے مرغزاروں سے منہ موڑ کر پنجاب کے چٹیل میدانوں کو ہجرت اختیار کی۔۔

قیام پاکستان سے پہلے کی کہانی ہے ،کشمیر جنت نظیر کا ضلع ہے راجوری،کھلے آسمان پر پوری آب و تاب سے چمکتے سورج نے پہاڑوں کو نقرئی  رنگ کی قبا پہنا رکھی تھی، مخملیں سبزہ پہلے سے زیادہ نرم و ملائم تھا۔ آبشاروں اور جھرنوں سے بہتا پانی ماحول میں مترنم موسیقی کا باعث تھا۔

مقامی زمیندار قادر بخش کا 18 سالہ جوان بیٹا مویشیوں کو لئے ان مرغزاروں میں گھومتا تھک گیا تو ایک چٹان سے ٹیک لگا کر ذرا دیر سستانے بیٹھ گیا۔ایسے میں کہیں دور سے آتی ہوئی  ایک انتہائی  پُرکیف آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی  کوئی  اجنبی دلکش انداز میں ” نور نامہ ” کے اشعار بآواز بلند لہک لہک کر پڑھ رہا تھا۔

(نور نامہ زمانہ قدیم میں منظوم مجموعہ عقائد و حمد و نعت تھا جیسے پکی روٹی- روایت کے مطابق لوگ اسے عقیدت سے زبانی یاد کرتے اور شیریں دہن اسے گا کر پڑھتے )

آواز کیا تھی گویا جادو تھا یہ بے اختیار اٹھا اپنے مال مویشی بھول کر اس کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا، چلتے چلتے اس کی نظر ایک چنار کے درخت تلے نیم دراز چرواہے پر پڑی جو اس کلام میں مگن تھا
نوجوان عقیدت سے دوزانو بیٹھ گیا، چرواہے نے دم لیا ،تو لجاہت سے گویا ہوا کہ آپ مجھے بھی یہ کلام سکھا دیں گے؟
جواب ملا، اتنی لگن ہے تو خود سیکھو، قرآن پڑھو ،دوسروں کو پڑھاؤ۔۔۔
یہ جواب اس دراز قد نوجوان کے دل میں ترازو ہو گیا۔

گھر کا راستہ مشکل سے کٹا ،کبھی نور نامے کے بول کانوں میں گونجتے تو کبھی چرواہے  کی نصیحت۔رات کے کھانے پر بیٹھے تو نظریں نیچی کیے اس نوجوان نے والد گرامی سے مطالبہ کر ڈالا ابا جی مجھے قرآن  حفظ کرنا ہے۔

راجوری کے زمیندار قادر بخش کے ہاتھ سے نوالہ گرتے گرتے بچا۔۔کچھ دیر توقف کے بعد بیٹے سے استفسار کیا،کہیں اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی راہ تو نہیں اپنا لی ؟
زمیندارے اور مویشیوں کو سنبھالنے سے اکتا گئے ہو تو بتا دو۔

مودب بیٹے نے کہا نہیں ایسی کوئی  بات نہیں، بس میں شوق سے قرآن سیکھنا چاہتا ہوں۔

نوجوان بیٹے کے اٹل لہجے کو دیکھ کر قادر بخش سوچ میں گم ہو گئے، کیونکہ قرب و جوار میں کوئی  ایسی درسگاہ موجود نہ تھی ،ایک ہی راستہ تھا کہ بیٹے کو لدھیانہ چھوڑ آئیں ، جہاں وہ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کر پائے۔

بس پھر کچھ دن بعد سفر کا اہتمام ہوا اور باپ بیٹے نے لدھیانہ کی راہ لی۔
شوق کی چنگاری سلگ رہی تھی، لدھیانہ میں اسے جلا دینے کا سامان میسر آیا تو اس نوجوان کی امید بر آئی ،تین سال میں یہ اپنے سینے کو نور قرآن سے منور کر چکا تھا!
(جاری ہے )

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *