بُک ریویو/Liberalism: a counter history۔۔۔۔ثوبان احمد

ڈومنیکو لسرڈو کی ایک کتاب ہے Liberalism: a counter history جو آج کل زیر مطالعہ ہے۔ یہ کتاب امریکہ میں آج کل جو کچھ ہو رہا ہے اُس کے تناظر میں کافی ریلیونٹ ہے۔ کتاب میں لبرلزم کی تھیوری، تاریخ اور اصل پریکٹس پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

سیاسی لبرلزم جس کا ظہور جان لاک کی پولیٹیکل تھیوری کے ساتھ ہوا تھا جو بادشاہت کی مطلق العنانی کے خلاف اور پارلیمنٹ کی آزادی و بالادستی کے حق میں تھا اور بادشاہت کو غلامی قرار دیتا تھا۔ دوسری جانب جان لاک رائل افریقن کمپنی جو افریقہ سے غلاموں کو پکڑ کر برٹش کالونیز میں فروخت کرتی تھی، اُس کا انویسٹر بھی تھا اور افریقیوں کی غلامی کو غلط نہیں سمجھتا تھا۔ جان لاک براہ راست انسانوں کی غلامی کا بینیفشری تھا اور کلاسیکل لبرلزم کا بانی بھی تھا۔ دوسری جانب جان سٹورٹ مل غلامی کو غلط قرار دیتا تھا لیکن برطانوی سامراجیت کے حق میں تھا اور اُس کا خیال تھا کہ برٹش مہذب لوگ ہیں جن کا فرض ہے کہ باقی دنیا پر بھی قبضے کر کے اُن کو مہذب بنائیں۔ جان سٹورٹ مل برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی میں کام کرتا تھا اور ہندوستان کی کالونائزئشن کا براہِ راست بینیفشری تھا۔

آگے چلتے ہیں، جب امریکہ میں جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن وغیرہ برطانویوں سے آزادی کی تحریک چلا رہے تھے تو اُن کا آرگومنٹ تھا کہ ہم کنگ جارج کی غلامی نہیں کریں گے، جب تک ہمیں اپنی نمائندگی کرنے کی آزادی نہیں ہوگی ہم برٹش کو ٹیکس نہیں دیں گے اور دوسری جانب واشنگٹن اور جیفرسن دونوں کے پاس سینکڑوں افریقی غلام تھے اور یہ اصل غلامی کو غلط نہیں سمجھتے تھے، ان کے نزدیک غلامی فقط بادشاہت تھی۔ دوسری جانب برطانوی لائلسٹ جب امریکی تحریک آزادی والوں کو اُن کی اس منافقت کی طرف توجہ دلاتے تھے کہ تم ہم سے تو آزادی چاہتے ہو لیکن اپنے غلاموں کو آزاد کرنے کو تیار نہیں تو جواب میں جارج واشنگٹن وغیرہ برطانویوں کو یاد دلاتے تھے کہ یہ غلام ہم پکڑ کر نہیں لائے، غلاموں کی تجارت تو تم نے شروع کی تھی اور اپنی کالونیز میں غلام تم نے فروخت کیے تم لوگ بھی غلامی کے بینیفشری ہو۔ کافی دلچسپ ڈیبیٹ چل رہی تھی جس میں فریقین ایک دوسرے کی منافقت کو ایکسپوز کر رہے تھے۔

ان لوگوں کے برعکس ایڈم سمتھ کا غلامی پر نقطہ نظر کافی حقیقت پسندانہ تھا، ایڈم سمتھ غلامی کے خلاف تھا اور وہ کہتا تھا کہ غلامی کا خاتمہ جمہوریت میں ممکن نہیں بلکہ یہ کسی ڈکٹیٹر شپ میں ممکن ہے کیونکہ جمہوری اداروں میں وہ لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں جو غلام رکھتے ہیں اور غلامی کے بینیفشری ہیں، وہ کبھی بھی اپنی مراعات سے دستبردار نہیں ہونگے۔ یہ بالکل درست تجزیہ تھا، امریکہ کے ابتدائی ساٹھ سالوں میں چار کے سوا باقی سارے امریکی صدور ساوتھ کے غلام رکھنے والے لوگ تھے۔ مستقبل میں ایڈم سمتھ درست ثابت ہوا کیونکہ جب امریکہ میں ابراہم لنکن نے اپنی صدارت میں غلامی ختم کرنے کی کوشش کی تو ساؤتھ کی غلام دار ریاستوں نے بغاوت اور امریکہ سے علیحدگی کی تحریک شروع کر دی جس کو کچلنے کے لیے ابراہم لنکن نے ایک سول وار لڑی اور ملٹری گورمنٹ لگا کر غلامی ختم کی۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ابراہم لنکن کا ٹاپ جنرل ایک سوشلسٹ تھا جو کارل مارکس کا دوست بھی تھا۔ جب لنکن غلامی ختم کرنے کے لیے جنگ لڑ رہا تھا تب اسے مارکس اینگلز سمیت تمام یورپی سوشلسٹوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

مصنف ایک سوال رکھتا ہے کہ جان لاک اور ایڈم سمتھ میں سے کون زیادہ لبرل تھا؟ جان لاک جس نے جمہوری حکومت اور غلامی دونوں کی حمایت کی یا ایڈم سمتھ جس نے غلامی ختم کرنے کے لیے ڈکٹیٹر شپ کی حمایت کی؟ تاریخ میں بہرحال کلاسیکل لبرلزم کا فاونڈر جان لاک کو ہی مانا جاتا ہے۔

تاریخ میں تین کلاسیکل لبرل انقلابات آئے ہیں ہالینڈ، برطانیہ اور امریکہ میں جن میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور بادشاہت کے اختیارات ختم کیے گئے اور ان تینوں انقلابات کے نتیجے میں غلامی از سر نو شروع ہو گئی، ورنہ اس سے قبل یورپ میں زیادہ تر جگہوں پر تیرہویں چودہویں صدی میں غلامی ختم کر دی گئی تھی۔ ایک اور دلچسپ حقیقت جس کی طرف مصنف توجہ دلاتا ہے وہ یہ ہے کہ جب یورپ میں غلاموں کی تجارت ہو رہی تھی تب جو ریاستیں زیادہ مذہبی تھیں وہاں غلامی کو غلط سمجھا جاتا تھا جیسے کہ فرانس اور سپین میں اور پوپ بھی اسکے خلاف تھا لیکن جو ریاستیں زیادہ لبرل تھیں جیسے کہ برطانیہ ہالینڈ وہاں غلامی کو نہ صرف درست سمجھا جاتا تھا بلکہ غلاموں کی تجارت سے وہی ریاستیں مال بنا رہی تھیں۔ لبرل انقلابات کے بعد جو غلامی شروع ہوئی وہ رومن امپائر اور ڈارک ایجز کی غلامی سے بھی بدتر تھی کیونکہ اُس دور میں غلاموں کے پاس آزادی کا آپشن ہوتا تھا، اگر کوئی غلام کرسچن ہو جاتا تو اسکو آزاد کر دیتے تھے اور غلاموں کی شادی بیاہ ہوتی تھی جس کا احترام کرنا پڑتا تھا اور مالک اپنے غلام کو قتل نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن لبرلزم کی شروع کردہ غلامی میں آزادی کا کوئی آپشن ہی نہیں تھا، ایک بار جو غلام افریقہ سے پکڑا گیا تو وہ ساری زندگی ورجینیا کی کسی شوگر پلانٹیشن میں کام کرتے گزارتا تھا اور اسکی آل اولاد بھی غلام ہی رہتی تھی مزید یہ کہ مالک جب چاہے اپنے غلام کو قتل کر سکتا تھا اور قانوناً اس کی کوئی سزا نہیں تھی۔

کافی دلچسپ کتاب ہے جس کو پڑھ کر سمجھ آتا ہے کہ امریکی معاشرے میں غلامی کی باقیات اب تک موجود ہیں۔ وہاں آزادی کے بعد بھی افریقیوں کو برابر حقوق کے لیے لمبی تحریک چلانی پڑی اور ایڈم سمتھ مزید درست ثابت ہوا کہ جمہوری اداروں میں ایک سیاہ فام بھی صدر منتخب ہو جائے تو اُس سے عام سیاہ فام کی حالت میں زیادہ فرق نہیں پڑتا، سیاہ فام کو جب چاہے پولیس والے مار سکتے ہیں اور بغیر کسی سزا کے بری ہو سکتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *