ہمارا جسم گرمی کی شدت کا کیسے مقابلہ کرتا ہے؟

سورج کی تمازت اور گرم ہواؤں کے بارے میں تو محکمہ موسمیات آپ کو باخبر رکھتا اور معلومات فراہم کرتا رہتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارا جسم اس موسم کی شدت کے دوران کیسے ردعمل ظاہر کرتا ہے؟

موسمِ گرما میں جہاں‌ ہم گرمی کی شدت نڈھال اور بے حال ہوئے جاتے ہیں، وہیں ہیٹ اسٹروک کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں اس کی وجہ سے اموات بھی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم 37.5 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ انتہائی سرد مقام کے باسی اور گرم خطوں کے لوگوں کا جسم بھی اسی درجہ حرارت کا عادی ہوتا ہے۔

شدید گرمی میں ہمارے جسم کو اپنا بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے اور وہ موسم کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان شریانوں سے جسم میں موجود پانی کو پسینے کی صورت خارج کرنے لگتا ہے جو ہماری جلد کے قریب واقع ہوتی ہیں۔

ہمارا جسم اس طرح درجہ حرارت کو کم کرتا ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران ہمارا بلڈ پریشر گھٹتا ہے اور جسم کے پمپنگ اسٹیشن یعنی دل کو خون کی روانی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

اکثر گرمی کی شدت یا ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے جب بلڈ پریشر کافی کم ہو جاتا ہے تو دل کے دورے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

موسمِ گرما میں خاص طور پر بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو ٹھنڈی جگہ پر رہنا اور زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے جب کہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر جانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *