انگریزی زبان، مغربی ثقافت اور فحاشی

انگریزی زبان، مغربی ثقافت اور فحاشی
ادریس آزاد
اس میں تو کچھ شک نہیں کہ زبان اپنے ساتھ ثقافت لاتی ہے لیکن اس میں بہت زیادہ شک ہے کہ مغربی ثقافت سیکس فری سوسائٹی اور فحش رسومات پر مشتمل ہے۔مغربی ثقافت جسے اقبال نے اپنے خطبات میں، ’’اسلامی ثقافت کا عکس‘‘ کہا ہے، اپنی آزادخیالی کی وجہ سے قدامت پسند ذہنوں کے نزدیک فحش ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی ثقافت میں ایسا کچھ نہیں جسے ہم اپنے لحاظ سے فحش کہتے ہیں۔ مغربی ثقافت کے بارے میں کچھ اور کہنے سے پہلے میں یہ عرض کرونگا کہ لفظ ’’فحش یا سیکس فری سوسائٹی‘‘ مخالفین کی جانب سے استعمال ہونے والی Persuasive definition ہے۔کیونکہ اگر ہم مشرقی حیاداری یا اسلامی تصورِ عفت کی ماہیت پر غور کریں تو وہ کوئی اور چیز ہے۔
زیادہ آسان الفاظ میں تصورِ عفت کا تعلق ’’حیاداری‘‘ سے ہے نہ کہ ’’جنسی تحریک ‘‘ پر ،کسی قسم کے مجاہدے سے۔ یعنی اگر ایک عورت ہے جس نے کئی زِنا کررکھے ہیں لیکن اُس کی آنکھوں میں حیأ، باتوں میں اخلاق اور وضع داری، لہجے میں متانت، اداؤں میں نسوانیت موجود ہے تو وہ عورت ابھی ’’عورت‘‘ ہے اور اس نے عورت ہونے کی شان اور اعزاز کو پامال نہیں کیا۔ لیکن اس کے برعکس ایک عورت ہے جس نے کبھی زنا نہیں کیا لیکن اس کا پردۂ بصارت پھٹ چکاہےاس کی زبان بے حیأ، اداؤں میں بے شرمی، قہقہے میں مردانہ پن، چال ڈھال میں بدقماشی، لہجے میں ناپسندیدہ بے باکی اور بہت سے مردوں کے درمیان واہیات حرکات وسکنات سے اجتناب نہیں تو وہ عورت تصورِ عفت کی روشنی میں، اب عورت نہیں رہی اور وہ ’’عورت‘‘ کی شان اور اعزاز کو پامال کررہی ہے۔
مغربی ثقافت سے جہاں تک ہم لوگ واقف ہیں۔وہاں عورت کو آزادی میسر ہے۔ اُسے مردوں کے برابر کا انسان تسلیم کرلیا گیاہے۔عورت تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے۔ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتی ہے ۔چنانچہ اس اعتمادنے ، جو مغرب کی عورت کو اُس کے معاشرے نے بخشا ، اسے ایک باوقار ہستی میں بدل دیا ہے۔ وہ نڈر ہے لیکن بے حیا نہیں۔ وہ کم لباس پہنتی ہے لیکن بدکردار نہیں۔ وہ پرجوش ہے لیکن بداخلاق نہیں۔ تعلیم اور آزادی نے اُسے دانش و بینش کے ساتھ اپنے آپ پر اعتماد کرناسکھادیا ہے۔اس نے عورت کی شان کو کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ مغربی ممالک میں ، پورنو گرافی کے ادارے ہیں۔ ہوٹلوں اور کلبوں میں برہنہ عورتیں ناچتی ہیں وغیرہ وغیرہ ، تو میں عرض کرونگا کہ یہ مثالیں ناکافی ہیں مزید یہ کہ یہ مثالیں مغربی تہذیب کی ہرگز نمائندگی نہیں کرتیں کیونکہ ایسے پیشے ہر قوم اور ہرمذہب میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں ۔
سوال کا پہلا حصہ کہ زبان اپنے ساتھ ثقافت لاتی ہے، درست تو ہے لیکن مکمل طور پر درست نہیں۔زبان اپنے ساتھ ثقافت تو لاتی ہے لیکن ثقافت کے آنے کاسبب زبان نہیں ہوتی۔ثقافت آنے کا سبب غالب اقوام سے مرعوبیت کا رویّہ ہوتاہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گزشتہ چالیس سال سے لاکھوں افغان مہاجرین ہمارے ملک میں اپنی زبان اور ثقافت سمیت آئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن چونکہ فی زمانہ افغانی قوم ایک کم تر قوم ہے اس لیے کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی ایسا نہ ہوگا جو اپنے آس پاس موجود افغانی ثقافت کو اختیار کرنے کی خواہش رکھتاہو ،یا اختیار کرے۔اس کے برعکس مغربی ثقافت کی روز نئی نئی رسموں کو ہم دھڑادھڑ اختیار کیے چلے جاتے ہیں اور اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔جب مسلمان دنیا پر حکومت کرتے تھے تو مغربی ممالک کے باشندے بعینہ اسی طرح اسلامی ثقافت کو اختیارکرتے ہوئے فخر اور جدت محسوس کرتے تھے۔ اس موضوع پر بے پناہ معلومات ایک ساتھ پڑھنے کے لیے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب، ’’اسلام کے یورپ پر احسانات‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
چنانچہ شہزاد صاحب! کسی قوم پر کسی اور قوم کی ثقافت کا غلبہ خود اپنی ہی کمزوری اور مرعوبیت کی بدولت ممکن ہوتاہے نہ کہ زبان سیکھنے یا رائج کرنے سے۔ زبانیں سیکھنا تو بہت نیکی کا کام ہے جو افرادواقوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کا سب سے تیزرفتار طریقہ ہے۔ اسی طرح مغربی ثقافت فُحش نہیں، بلکہ یہ ہمارے اپنےخون میں موجود درندگی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے مقابلے میں اہل ِ مغرب فحش محسوس ہوتے ہیں۔ ورنہ اگر آپ مغرب کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو جب اُن کے خون میں درندگی جوش مارا کرتی تھی تو وہ بھی ہماری طرح کے ہی غیرت مند لوگ تھے۔ مشرق کے خلاف دنیا کی سب سے پہلی جنگ ہی مغرب نے شروع کی تھی اور فقط اس لیے کہ اُن کی ایک عورت کو مشرق کا ایک شہزادہ اپنے ساتھ لے آیاتھا۔ ہیروڈوٹس نے بھی ہیلن آف ٹرائے سے ہی دنیا کی جنگوں کی تاریخ کا آغاز کیا ہے۔ مغرب کے لوگ ہم سے بھی زیادہ غیرت مند ہوا کرتے تھے ۔ لگ بھگ ویسے جیسے رسولِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مشرکین مکہ عورت کے معاملے پر خونخوار اور غیرت مند تھے۔ اس قسم کی غیرت درندوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔ شیروں اور بھیڑیوں میں بھی بعینہ یہی غیرت پائی جاتی ہے کہ اُن کی ماداؤں کو کوئی باہر کا نَر نہ چھیڑے تاکہ اُن کے غول میں بیرونی خون شامل نہ ہو۔ کُتوں میں تو عام دیکھا گیا ہے کہ وہ دوسرے کتوں کو جنسی حالت میں دیکھیں تو برداشت نہیں کرسکتے۔ مشہور انڈین وِلَن امریش پوری نے کسی فلم میں ایک ڈائیلاگ بولا تھا،
’’جب میں کسی گوری تتلی کو دیکھتاہوں تو میرے خون میں سینکڑوں کالے کُتے بھونکنے لگ جاتے ہیں‘‘
یہ ڈائیلاگ مذکورہ مدعا کی خوب ترجمانی کرتاہے۔ سو ایسی غیرت فی الاصل ’’غیرت‘‘ ہے ہی نہیں۔ یہ اپنے ہی خون کا جوش ہے ، جو کسی اور کو برداشت نہیں کرسکتا۔ حقیقی مشرقیت یہ ہے کہ عورت میں محبت ہو۔ مشرقی عورت اسلام سے بہت پہلے اپنے لیے معروف کردار وضع کرچکی ہے۔ وہ ہندوستان میں سیتا اور رادھا کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس کی حیاداری ، بردباری، برداشت، استقامت، تحمل اور بے پناہ محبت کی داستانیں تاریخ میں روشن ابواب کے طور پر درج ہیں۔مغرب میں بھی زمانہ جاہلیت میں شدید درندگی اور عورت کے نام پر غیرت کا تصور پایا جاتا تھا۔ مغرب کو اس بیماری سے نکلے ہوئے ابھی ایک صدی بھی مکمل نہیں ہوئی۔امریکہ میں تو ابھی تک عورت ایک بار بھی حکمران نہیں بن سکی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اور بنگلہ دیشن جیسے قدامت پسند معاشروں میں سیتا اور رادھا کی بیٹیاں کئی بار سربراہِ مملکت کے عہدوں پر رہ چکی ہیں۔
اور ویسے بھی ابھی تک مشرقی تہذیب کے بعض پہلو اتنے زیادہ زوردار اور طاقتور ہیں کہ غالب سے غالب اقوام بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں کیونکہ مشرقی تہذیب ہزاروں سال سے پنپ رہی ہے اور مغربی تہذیب اتنی پرانی نہیں۔ امریکی تہذیب تو بالکل ہی نئی نویلی دلہن ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *