پہلا تبلیغی دورہ۔۔۔چندایک یاداشتیں ( ساتویں قسط)

مونچھوں والے حضرت نے چھوٹتے ہی اس مولوی کی برائی شروع کردی جوگزشتہ رمضان المبارک میں یہاں آئےتھےمگران سے ملنے آئے ہوئے قریب کی دیوبندی مسجدکے مولوی صاحب کے سوال کاجواب نہ دے سکے تھےاور انہوں نے فی الفور گاؤں چھوڑنے کاشاہی حکم جاری کیاتھاجس پہ اسی وقت عمل بھی ہوگیاتھا۔وہ فخرسے تیل لگی  مونچھوں کو تاؤدیتے ہوئے مذکورہ مولوی صاحب کےدیس نکالاکرنے کواپنی فتح گردانے لگےان کی گفتگومیں جو فتح کے شادیانے بجنے لگے ہماری حالت غیر ہوتی چلی گئی کیونکہ یہ ہم اچھے سے جانتے تھےکہ یہ ساری باتیں دراصل ہم پہ وار کرنے کی تمہیدہیں، اب معلوم نہیں کہ ہماری شامت کس سوال پہ آجائے۔۔؟مگرخداکاشکر کہ ان کاوار نہ صرف خالی گیابلکہ اللہ نے ان کے دل میں ہمارے لئے بہت زیادہ احترام اور محبت اتار دی۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ انہوں نے تمہیدی گفتگو کے بعد یہ پوچھ کر ہماراتراہ ہی نکال دیاکہ زنجیززنی کے بارے میں آپ کیاکہتے ہیں؟ ادھر ان کاسوال ختم ہواادھراسی لمحہ موجودمیں ذہن کے نہاں خانے کےاندر جامعہ علمیہ کراچی کے مدرس علامہ سید اصغرنقوی جھٹ سے آموجود ہوئے۔۔

جنہوں نے اپنی ہدایات کے ذیل میں فرمایاتھاکہ” آپ سے سب سے پہلاسوال مومنین کی جانب سے یہی کیاجائے گاکہ زنجیر زنی کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے؟ وہ اسی سے آپ کاامتحان لیں گےکہ مولوی صاحب کیابیچتے ہیں مگر آپ سب نے اس مسئلے پہ کسی بھی قسم کی ذاتی رائے دینے کی بجائےانہیں یہ بتاناہے کہ اس مسئلے میں ہرمقلد کواپنے مجتہد کے فتوے پہ عمل کرناچاہیے اور بس۔ ”

ہم نے رٹے رٹائےطوطے کی طر ح قبلہ کا پڑھایاہواجواب من وعن دہرادیا،پتہ نہیں مونچھوں والے صاحب اس جواب سےزیادہ مطمئن ہوئے یا خوف کے مارےہماری بدلتی رنگت سے،بہرحال انہوں نےذاتی رائے دینےپہ اصرار نہیں کیاجس سے ہم بھی کسی حد تک شانت ہوئے۔

پہلے تیر کوخالی جاتے دیکھ کراب انہوں  نے اگلا تیر بشکل سوال وہ داغاجس کے تسلی بخش جواب نہ آنے پہ وہ رمضان والےمولوی کی درگت بناچکے تھےمگر سوال کااندازانہوں نے تبدیل کردیااور دیوبندی مسجد کے مولوی صاحب کی زبانی حکایت کے طور پہ پوچھاکہ انہوں نے رمضان والے مولوی سے پوچھاتھا:
قبلہ! اگر کوئی سرعام چوک بازار میں ہماری گھرکی خواتین اور ماں بہن کانام لے توہم برداشت نہیں کرسکتے پھر شیعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور نواسیوں کانام ہرجگہ کیوں لیتے پھرتے ہیں؟کیاآقاکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہو بیٹیوں کااحترام ہماری ماں بہنوں سے کم ہے ؟(اور قبلہ کی خاموشی انہیں گاؤں سے نکلواگئی تھی)

اب مولوی صاحب آپ اس حوالے سے کیاکہتے ہیں ؟اب تیر پھینک کے وہ شکار کی طرف پوری طرح متوجہ ہوچکے تھے شاید رقص بسمل کاتماشادیکھناچاہتے تھے۔

مگراس سادہ سے سوال سے ہماری جان میں جان آئی اور ہمارے دماغ میں بیٹھےموصوف کی مونچھوں کارعب وجلال ایک دم سے ہواہوگیا۔ہم نے اب کے کھنکار کرگلاصاف کیااور دوزانوہوکے بولے: شاجی !ہمارے پاس اس سوال کے تین جواب ہیں۔
کیسے تین جواب ؟ وہ ترنت سے گویاہوئے۔
پہلایہ کہ اگر نبی کے گھر کی خواتین کاسرعام نام لینابراکام ہوتاتواللہ میاں حضرت عیسی علیہ السلام کی ماں حضرت مریم کے نام سے قرآن میں پوراایک سورہ نہ اتارتااور نہ ہی قرآن میں کئی مرتبہ نام لےلےکر ان کاتذکرہ کرتا۔
واہ واہ۔۔۔۔کیاکہنے بس بہت ہے ہمارے لئے۔وہ خوشی سے اچھل پڑے( ان کے وزن کودیکھتے ہوئےاس جملےکے استعمال پہ معافی چاہتے ہیں)
ہم نے کہا: نہیں۔۔
دوسراجواب بھی سن لیجیےکہ جب کوئی اچھی عمارت بناناچاہتاہے تواس کانقشہ بنواتاہےاوراسے سامنےرکھ کرہی عمارت کی تعمیر کرتاہے ہماری خواتین کسی کے لئے نمونہ عمل نہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی خواتین بالخصوص جناب زہرااورجناب زینب سلام اللہ علیہما دنیاکی ساری عورتوں کے لئے نمونہ عمل ہیں جب تک ان کانام نہ لیاجائے گاان کی سیرت کانقشہ دنیاکے سامنے واضح نہ ہوپائے گااور جب سیرت کا نقشہ واضح نہ ہو پائے گاتو عورتیں ان کی سیرت پہ عمل کیسےکرپائیں گی؟
اس لئے ان کانام ہرجگہ لیاجاناضروری ہے تاکہ مسلمان عورتیں ان کے نام ،ان کی سیرت اوران کے کردارسن کر اپنے کرداراورنسلوں کی تعمیر کرسکیں۔

سبحان اللہ سر۔۔۔۔واہ واہ ۔۔۔اور تیسراجواب ؟ یوں محسوس ہورہاتھاکہ جواب میں ان کی دلچسپی کافی بڑھ گئی ہے۔ وہ ہمہ تن گوشت توپہلے سے ہی تھے اب ہمہ تن گوش ہوکے سن رہے تھے۔
ہم نے کہاتیسراجواب یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ اورنواسی حضرت زینب جیسی مظلوم خواتین بھی توکوئی نہیں گزریں نا۔۔وہ کیامصیبتیں تھیں جن کویاد کرکے جناب زہراع کہاکرتی تھیں کہ اگر یہ روز روشن پہ پڑجاتیں توتاریک راتوں میں تبدیل ہوجاتے؟
اور علی علیہ السلام کی بیٹی زینب سلام اللہ علیہا؟ ارے کس زبان کی تاب کہ ان کے مصائب بیان کرسکے اورکس قلم میں طاقت کہ ان مصائب کوصفحہ قرطاس پہ اتارسکے؟ میری زبان سے روانی میں بے ساختہ مصائب کے چند جملے اداکیاہوئےکہ میں نے دیکھاوہ صاحب زار وقطار گریہ کررہے ہیں اوروہ اپنے آنسوچھپانے کے لئے گلاس سے چلو میں پانی لے کر اپنے چہرے پہ ماررہے ہیں۔
پھر میں نے عرض کیابتائیے اگر ان مقدس اورعزت مآب خواتین کانام سرعام نہ لیاجائے توان پہ ظلم کرنے والوں کے چہرے کیونکر بے نقاب ہونگے؟ یذیدیت کے مکروہ چہرے سے دنیاکو روشناس کرانے کے لئےجیسےان کے مصائب کابیان کرناضروری ہے ویسے ہی ان کانام بھی لیاجاناضروری ہے تاکہ سب کومعلوم ہوجائے کہ کربلاکے مصائب محض واقعات نہیں بلکہ ان کے پیچھے مظلوم کی مظلومیت اور ظالم کی سفاکی کی ایک طویل داستان چھپی ہے۔
جب روتے روتے ان کے ساتھ ہماری ہچکی بھی بندھی توکچھ لمحے کے لئے چھوٹی سی امام بارگاہ میں مجلس کاساسماں بندھ گیابلکہ میں سمجھتاہوں کہ عشرے کی پہلی مجلس تو انہی آنسوؤں میں ہوگئی تھی مالک قبول فرمائے۔

ان جوابات سے وہ اتنے خوش ہوئے کہ باقاعدہ ہمارے مرید بن گئے،اس کے بعد کوئی دن نہ گزراجب وہ شہر ڈیوٹی پہ جاتے اور آتے ہوئے گھر جانے سے پہلے ہمیں سلام کرنے نہ آتے ہوں۔
وہ رخصت ہوئے توکچھ دیر آرام کیا۔پانچ بجے محلے کے بچے جمع ہوئے اور بالٹیوں اور کنستروں میں پانی لالاکر امام بارگاہ کے باہر صحن اورآس پاس کی گلیوں میں چھڑکنے لگے،اس کے بعد دوڈیک لاکر ٹیپ ریکاڈر سے منسلک کرکے نوحہ لگادیاگیاکہ آج یکم محرم الحرام تھی۔اہل سندھ نوحہ سننے کے دوسرے علاقے کے لوگوں سے زیادہ شوقین ہوتےہیں وہاں محرم میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ حتی کہ کھیتوں میں چلتےہوئے ہل لگے ٹریکٹرز وغیرہ پہ بھی نوحے لگے ہوتے ہیں۔چنانچہ پچھلے دن سائیکل پہ باغواہ آتے ہوئے جب ہم کسی کچی پکی اینٹوں اور سرکنڈوں کی بنی ہوئی دکانوں کے ایک مختصر سے بازارکے درمیان سے گزرے تویہ سن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ غالباًہردکان سے ندیم سرور کے نوحوں کی آواز گونج رہی تھی ہم نے حیرانی سے سائیں خدابخش سے پوچھاکہ سائیں کیایہ سب شیعہ ہیں ؟

اور سائیں کاجواب سن کرحیرت کے مارے ہمارامنہ کھلے کاکھلارہ گیاتھا۔
اب وہ جواب کیاتھا؟ پڑھیے اگلی قسط میں
جاری ہے۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *