• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نویں ،دسویں محرم الحرام کے روزے کی فضیلت۔علامہ منیر احمد یوسفی

نویں ،دسویں محرم الحرام کے روزے کی فضیلت۔علامہ منیر احمد یوسفی

عاشورا، عشر سے بناہے جس کے معنی دس کے ہیں۔ یوم عاشور کے لفظی معنی دسویں کے دن کے ہیں۔ چونکہ یہ محرم الحرام کے مہینہ کا دن ہے۔ اِس لیے اِس کو محرم الحرام کی دسویں کا دن کہتے ہیں۔ یوم عاشورا، ظہورِ اسلام سے پہلے قریش مکہ مکرمہ کے نزدیک بھی بڑا دن تھا۔ اِسی دن خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا اور قریش مکہ مکرمہ اِس دن روزہ رکھتے۔ رسولِ کریم کا دستور تھا کہ آپ مکہ مکرمہ کے لوگوں کے اُن کاموں سے اِتفاق فرماتے تھے جو ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے اچھے کام ہوتے تھے۔ اِسی بنا پر آپ حج کی تقریبات میں بھی شرکت فرماتے تھے اوراِسی اُصول کی بنا پر عاشورا کا روزہ رکھتے تھے۔ لیکن قبل از ہجرت اِس روزے کا کسی کو حکم نہ فرمایا۔ پھر آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت عبداﷲ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے یہود کو ”یوم عاشورا“ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا ”تو اُن سے فرمایا یہ کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کی یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اﷲ (تعالیٰ ) نے (حضرت) موسیٰ ؑ اور اُن کی قوم کو نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اُ س کے پیروکاروں کو غرق فرما دیا تھا۔ بعد ازیں جب یہ دن آتا تو (حضرت) موسیٰ ؑ شکرانے میں اِس دن کا روزہ رکھتے اور ہم بھی رکھتے ہیں۔ رسولِ کریم نے (اُن کی بات کو سماعت فرمانے کے بعد) اِرشاد فرمایا کہ ہم (حضرت) موسیٰ ؑ کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ چنانچہ نبی کریم نے یوم عاشورا کا روزہ خود بھی رکھا اور اِس دن کا روزہ رکھنے کا حکم بھی فرمایا۔“ (بخاری، مسلم، مشکوٰة، مسند احمد، صتح الباری، عمدة القاری، درمنثور، ابو داؤد، ابن کثیر)

یہ بات پیشِ نظر رہے کہ نبی کریم کا یہ روزہ رکھنا حضرت موسیٰ ؑکی موافقت کے لیے تھا پیروی کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی یہودیوں کی اِس میں پیروی تھی۔حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے ہی روایت ہے‘ فرماتے ہیں: ”جب رسول کریم ﷺ نے عاشورا کے دن کا روزہ رکھا اور اُس کے روزے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا‘ یا رسول اﷲ یہ وہ دن ہے جس کی تعظیم یہودی اور عیسائی کرتے ہیں تو سرکارِ کائنات نے فرمایا اگر ہم آئندہ سال اِس دنیا میں رہے تو نویں محرم الحرم کا روزہ بھی رکھیں گے۔ (ابو داؤد، مسند احمد، تفسیر قرطبی، مشکوٰة) ۔اِس طرح مشابہت ختم ہو جائے گی کہ وہ صرف عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں اور ہم نویں تاریخ کا روزہ رکھ کر دور کر لیا کریں گے اور مشابہت کی وجہ سے نیکی بند نہیں کریں گے بلکہ اِس میں اضافہ کرکے فرق کر دیا کریں گے۔

حضرت حکم بن الاعرج سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کے پاس اُس وقت پہنچا جب وہ زمزم شریف کے قریب اپنی چادر لپیٹے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے عرض کیا عاشورا کے روزہ کے بارے میں فرمائیے تو آپ نے فرمایا کہ ”جب تم محرم کا چاند دیکھو تو کھاو¿ اور نویں تاریخ کا روزہ رکھو“(ترمذی، مسلم)
ایک اور روایت میں حضرت رزین نے حضرت عطا سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے سُنا، وہ فرماتے تھے کہ ”نویں اور دسویں کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن پہلے اور ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔ (مسند احمد)
اُمّ المومنین حضرت سیّدہ حفصہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ”چار اَعمال ایسے ہیں جن کو رسول اﷲ نے کبھی نہیں چھوڑا۔ یوم عاشورا کا روزہ، عشرہ ذوالحجہ (کے نو روزے) اور ہر ماہ کے تین روزے اور فجر سے پہلے دو ر کعتیں (یعنی سُنّتِ فجر)“۔ (نسائی، مسلم احمد، مشکوٰة)

نبی کریم کی ایک اور زوجہ مطہرہؓ سے روایت ہے ، فرماتی ہیں: ”رسول اﷲ ذی الحجہ کے نو روزے رکھتے تھے (پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک) اور عاشورا کے روز (یعنی دسویں محرم کو) روزہ رکھتے تھے اور ہر مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے ایک پیر کو اور دو ، دو جمعراتوں کو“ (نسائی، مسند احمد)
حضرت مزیدہ بن جابر سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میری والدہ نے فرمایا: میں کوفہ کی مسجد میں تھی اور امیر المومنین حضرت سیّدنا عثمان غنیؓ کا دورِ خلافت تھا اور ہمارے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بھی تھے۔ اُنہوں نے فرمایا، میں نے سُنا، وہ فرما رہے تھے: ”کہ رسول کریم عاشورا کے روزہ کے بارے میں فرما رہے تھے کہ روزہ رکھو۔“ (مسند احمد)
ایسے ہی حضرت عبداﷲ بن زبیرؓ کا واقعہ ہے وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے یوم عاشورا کے بارے میں فرما رہے تھے ”یہ عاشورا کا دن ہے روزہ رکھو، رسول اﷲ اِس دن کے روزہ کا حکم فرماتے تھے۔“ (المعجم الکبیر للطبرانی، مسند احمد)

ایک روایت میں ہے: ”رسول کریم سے پوچھا گیا کہ کون سا روزہ ماہِ رمضان المبارک کے بعد افضل ہے؟ فرمایا: اﷲ (تعالیٰ ) کے مہینے ماہِ محرم الحرام کے (یوم عاشورا) کا روزہ۔“ فقہاءکرام فرماتے ہیں اب سُنّت یہی ہے کہ نویں اور دسویں کے روزے رکھیں کیونکہ نبی کریم کا نویں تاریخ کے روزے کا اِرادہ بھی تھا اور اِرشاد بھی ہے۔
بعض احادیث مبارکہ میں ہے کہ آپ نے اِس روزہ کا ایسا تاکیدی حکم فرمایا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لئے دیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہؓ فرماتے ہیں ”رسولِ کریم یوم عاشورا کے روزہ کا حکم فرماتے تھے اور ہم کو اِس پر رغبت دیتے اور عاشورا کے دن ہماری تحقیقات فرماتے تھے پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو نہ ہمیں روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اور نہ ہی منع فرمایا اور نہ تحقیقات فرمائیں“ (مسند احمد، درمنثور، مشکوٰة، مسلم، ابو دا¶د)

اِسی طرح حضرت ربیع بنت معوذ بن عفرائؓ اور سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: کہ ”رسول اﷲ نے یوم عاشورا کو صبح صبح مدینہ شریف کے آس پاس کی اُن بستیوں میں جن میں انصار صحابہ کرامؓ رہتے تھے یہ اِطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی کچھ کھایا پیا نہیں وہ آج کے دن روزہ رکھیں اور جنہوں نے کچھ کھا پی لیا ہے وہ بھی بقیہ دن بھر کچھ نہ کھائیں۔ بلکہ روزہ داروں کی طرح رہیں۔“ (بخاری فی الصوم، مسلم، مسند احمد)
یہ حدیث پاک اُس زمانہ کی ہے جب عاشورا کا روزہ فرض تھا اور جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورا کے روزے کی فرضیت ختم ہو گئی اور اِس کی حیثیت نفلی روزے کی رہ گئی۔

نفلی روزوں کے بارے میں ایک طویل حدیث کے آخری حصہ میں عاشورا کے روزہ کے بارے میں اِرشاد فرمایا کہ : حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، رسولِ کریمؓ نے فرمایا: ”عاشورا کے دن کا روزہ، مجھے اﷲ کے کرم پر اُمید ہے کہ پچھلے سال کا کفّارہ بنا دے گا۔“ (مشکوٰة، مسلم، ترمذی)
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں: رسول اللہ نے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا یعنی عاشورا دسویں تاریخ ہے۔“ (ترمذی)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، رسولِ کریم نے فرمایا: ’رمضان المبارک کے بعد افضل روزے اﷲ (تعالیٰ) کے مہینہ محرم الحرام کے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے (یعنی نمازِ تہجد)“۔ (مشکوٰة، ترمذی، شرح السنة، دارمی)
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی دن کے روزہ کو دوسرے دنوں پر بزرگی دے کر تلاش کرتے ہوں سوائے اِسی دن یعنی عاشورا کے دن اور اِسی مہینہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔“ (مشکوٰة)
امیر المومنین حضرت علیؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم نے اِرشاد فرمایا کہ تم ماہِ رمضان المبارک کے بعد روزہ رکھنا چاہتے ہو تو محرم الحرام (کے یوم عاشورا ) کا روزہ رکھو کیونکہ یہ اﷲ ربّ العزّت کا مہینہ ہے جس میں اﷲ کریم نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور دوسری کی اﷲ تعالیٰ توبہ قبول فرمائے گا اور نبی کریم نے لوگوں کو رغبت دلائی کہ عاشورا کے دن توبة النصوح کی تجدید کریں اور قبول توبہ کے خواستگار ہوں۔ پس جس نے اِس دن اﷲ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چا ہی تو اﷲ اُس کی توبہ ویسے ہی قبول فرمائے گا جیسے اُن سے پہلوں کی توبہ قبول کی ہے اور اُس دن دوسروں کی بھی توبہ قبول فرمائے گا۔ حضرت اِمام ترمذی نے اِس کی تخریج کی ہے۔ (ترمذی)
بشکریہ نوائے وقت

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *