• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ففتھ جنریشن وار اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒکی قبر کی بے حرمتی کا واقعہ ۔۔ ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی

ففتھ جنریشن وار اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒکی قبر کی بے حرمتی کا واقعہ ۔۔ ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی

اپنے مخالفین کو زیر کرنے یا نقصان پہنچانے کا ایک طریقہ تو عسکری طاقت کا استعمال ہے، لیکن مخالفین کو نقصان پہنچانے کا ایک اور حربہ نفسیاتی جنگ یا رائج الوقت اصطلاح میں ففتھ جنریشن وار ہے ۔ ویسے تو یہ جنگ مخالفین کے خلاف ہر وقت ہی لڑی جاتی ہے لیکن خاص طور پر جب عسکری میدان میں فتح و کامرانی سمیٹنے میں ناکام ہوں تو یہ طریقہ دستیاب ذرائع ابلاغ کے بھرپور استعمال کے ساتھ پورے زور و شور سے اختیار کیا جاتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں مخالفین کے خلاف نفرت کا ایسا عمومی ماحول بن جائے کہ اس نفرت بھرے ماحول میں اگر وہ ان کے خلاف کوئی عسکری اقدام کریں تو دوسرے گروہ یا ممالک بھی عسکری تعاون اور حمایت کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں یا کم از کم اس اقدام کی مخالفت نہ کریں، نیز عسکری اقدام کی نوبت نہ آئے تب بھی وہ لوگوں کی نظروں سے گر جائیں۔مخالفین کے خلاف ففتھ جنریشن وار کا بنیادی ہتھیار پروپیگنڈہ ہے، جس کے عناصر ترکیبی میں جھوٹ، سچ اور جھوٹ کو مکس کرنا، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، لوگوں کے مابین بد گمانی پیدا کرنا، قومی، نسلی، لسانی، علاقائی، مذہبی، مسلکی تعصبات کو ہوا دینا ،معمولی اختلافات کو بڑھاوا دینا اور مخالفین کو متہم کرنے کی خاطر از خود کوئی جرم کر کے ان کے کھاتے میں ڈالنا وغیرہ شامل ہیں۔اور اس کے وسائل ذرائع ابلاغ ہیں۔یعنی ہر طرح کے دستیاب ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس پروپیگنڈے کی خوب تشہیر ، تاکہ مطلوبہ اہداف حاصل کر سکیں۔
اگرچہ سارے ممالک اور گروہ اپنے مخالفین کے خلاف خاص ماحول بنانے میں ففتھ جنریشن وار کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں عراق اور شام میں سرگرم دہشتگرد گروہ داعش اور اس کے ہمفکروں نے وہاں اپنے مخالفین کے خلاف عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ففتھ جنریشن وار کا بھی بھر پور سہارا لیا اور جدید ذرائع ابلاغ وغیرہ کا استعمال جتنا انہوں نے کیا غیر ریاستی سطح پر شاید کسی اور گروہ کی ایسی مثال نہ ملے۔ جس کے سبب ان کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر پوری دنیا سےلوگ آ کر ان سے ملحق ہوتے رہے اوریوں وہ ان کی مدد سے عسکری میدان میں بھی کسی حد تک کامیابیاں سمیٹنے میں وقتی طور پر کامیاب ہوئے اور عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر انہوں نےمختصر وقت میں قبضہ جمالیا، البتہ اس دوران بعض ریاستوں نے بھی اپنے مفادات کی خاطر اس دہشتگرد گروہ کی بھرپور پشت پناہی کی جن میں چند اسلامی ممالک بھی شامل تھے۔ لیکن کامیابی کے بعد انہوں نے خلافت اسلامی کے نام پرایسے گھناؤنے جرائم انجام دیے جن سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پوری دنیا میں ایک منفی تاثر قائم ہوا، البتہ صاحبانِ بینش اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ان کو لانچ کرنے والوں کے بنیادی اہداف میں پہلےسے ہی شامل تھا تاکہ پوری دنیا میں اسلام کی طرف لوگوں کی رغبت اور نسبت کو روکا یا سست کیا جاسکے۔ ان کے اسلام دشمن اقدامات میں بے گناہوں اور مخالفین کے قتل عام کے علاوہ اسلامی تہذیب و تمدن کے قدیم آثار کو اپنی سوچ کے مطابق شرک کی علامات قرار دے کر مٹانا بھی شامل ہیں اور یوں انہوں نے تاریخ اسلام کی مقدس شخصیات کے مزارات اور ان سے منسوب بہت سے آثار کو تباہ کر دیا ، انہوں نے نواسی رسولﷺ حضرت بی بی زینبؑ کے روضے کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور اس کو میزائل سے نشانہ بنایا اور اسے نقصان پہنچایا البتہ خوش قسمتی سے وہ اسے مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہے، حضرت سکینہ بنت علی ابن ابیطالبؑ کے روضے کو شہید کردیا، صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدی کے مزار کو شہید کر کے ان کی نعش کو قبر سے نکالا، حضرت عمار یاسر اور حضرت اویس قرنی اور کئی انبیائے کرامؑ کے مزارات پر حملے کیےاور انہیں تباہ کر دیا۔ جب اس خارجی ٹولے کے خطرے نے پورے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کو چیلنج کیا تو پھر اس کے بعد ان کے خلاف باقاعدہ ریاستیں متحرک ہوئیں اور اس ناسور کے خاتمے کی کوششوں کا آغاز ہوا اور ان کے خلاف باقاعدہ آپریشن کیا گیا جس سے عراق اور شام کے مقبوضہ علاقے ان دہشتگردوں سے آزاد ہو گئے اوران ممالک میں حکومتی رٹ دوبارہ قائم ہو گئی،البتہ اس پورے عرصے کے دوران داعش اور ان کے ہمنواؤں نے ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے عمومی افکار کو اپنے مخالفین کے حوالے سےنفرت میں بدلنے کی کوششیں برابر جاری رکھیں، لیکن ان کے پروپیگنڈے پھر بھی انہیں شکست سے نہیں بچا سکے اور اب یہ دہشتگرد شام کے شہر ادلب میں محصور ہیں جہاں سے ان کی بے دخلی اور خاتمے کی مہم گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔
ادلب میں بھی اپنی شکست اور انجام کو قریب دیکھنے کے بعد انہوں نے دوبارہ ففتھ جنریشن وار کا سہارا لیا اور اس سال کے پہلے مہینےیعنی جنوری میں یہ خبر پھیلائی کہ شامی افواج نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے مزار کو منہدم کر کے اسے آگ لگا دی ہے! لیکن اس دفعہ بھی ان کا وار ناکام ہوا اور کسی نے ان کےپروپیگنڈے کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔ لیکن کئی مہینوں کے بعد چند دن قبل ایک بار پھر اسی خبر کونئے انداز میں مسلکی تڑکا لگا کے از سر نو پھیلا کر عوامی افکار کو ہائی جیک کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانےکی کوشش کی تو اگرچہ اس دفعہ بھی عالم اسلام میں تو شاید ان کے پروپیگنڈے کو کوئی پذیرائی نہیں ملی تھی البتہ پاکستان کے اندر ان کوچند دنوں کے لیے سوشل میڈیا کی حد تک بھر پور پذیرائی ملی جو حقائق واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اب آہستہ آہستہ دم توڑنے لگی ہے۔ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ دروغ گو حافظہ ندارد؛ یعنی جھوٹے شخص کا حافظہ نہیں ہوتا؛ لہذا افواہ سازی کے دوران یہاں وہ بھول گئے کہ جن پر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے مزار کی بے حرمتی کا الزام لگا رہے ہیں وہ تو خود مزارات کی حرمت کے قائل ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بنی امیہ کےجس خلیفہ کی قبر کی بے حرمتی کا جن پر الزام لگایا ہے وہ تو امیر المؤمنین حضرت علیؑ پر سرکاری حکم کے تحت نصف صدی سے زائد عرصے سے رائج سب و شتم کی مذموم بدعت کا خاتمہ کرنے اور حضرت فاطمہؑ کی اولاد کو فدک واپس کرنے جیسے نیک اقدامات کی بنا پر خود ان کے ہاں بھی قابل احترام ہیں اور وہ ان کی بے حرمتی تو کجا ان کا ذکربھی ہمیشہ خیر کے ساتھ ہی کرتے ہیں۔لہذا ان پر الزام کے ذریعے وہ اپنے جرائم کی پردہ پوشی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ گزشتہ سالوں میں شام کے اندر جہاں جہاں انہیں موقع ملا وہ مزارات اور مقدس شخصیات سے منسوب آثار کو جس دیدہ دلیری سے تباہ کرتے آئے ہیں،ان کرتوتوں کے بعد ہر انصاف پسند شخص پر واضح ہو چلا ہے کہ اب بھی ان خارجی دہشتگردوں نےحضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے مزار کی از خود بے حرمتی کر کے اس کا الزام اپنے مخالفین کے سر تھوپنے کی سعی لا حاصل کی ہے۔
البتہ داعش اور خارجی عناصر کی جانب سے اس نفسیاتی جنگ کے نتیجے میں ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ظاہر ہونے والے رد عمل سے ہماری ایک اجتماعی کمزوری کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم جلدی پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے والے لوگ ہیں، اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ معاشرے میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کتنی جلدی کامیاب ہو جاتی ہے اور یہی وہ حربہ ہے جو دشمن ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف گاہے بگاہے اپناتا رہتا ہے تاکہ وہ ہمیشہ انتشار کا شکار رہیں اور اجتماعیت اور اتحاد کے برکات اور فوائد سے محروم رہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *