پاکستان اور ترکی ۔ سلطنتِ عثمانیہ (11)۔۔وہاراامباکر

ہندوستان کے ساتھ عثمانی سلطنت کے زیادہ روابط نہیں رہے لیکن ہندوستان کے مسلمانوں میں عثمانی خلافت کا احترام پایا جاتا تھا۔ جب برطانوی برِصغیر آئے تو عثمانی اور برطانوی اتحادی تھے۔ جب ملکہ وکٹوریا کا معاہدہ سلطان عبدالعزیز کے ساتھ ہوا تو سلطان نے اسے مسلمانوں اور پروٹسٹنٹ کا کیتھولک کے خلاف اتحاد کہا۔

انیسویں صدی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک مرکز کی تلاش تھی۔ کالونیل دور میں یورپی طاقتیں ایک کے بعد دوسرے علاقے پر قبضہ کرتی جا رہی تھیں۔ اس صورت میں عثمانی خلافت ایک امید کا مرکز تھی۔ برٹش نے عثمانی خلافت کی اطاعت کے تصور کو سپورٹ کیا۔ 1798 میں ٹیپو سلطان کے ساتھ فرانسیسیوں کے خلاف اتحاد بنانے کے لئے سلطان سلیم سوئم کی طرف سے فرمان حاصل کیا گیا تھا۔ یہ نپولین کا دور تھا اور فرانس نے عثمانی سلطنت پر مصر میں حملہ کیا تھا۔ برٹش عثمانی اتحادی تھے۔ ٹیپو سلطان کو فرانسیسیوں کو چھوڑ کر برطانیہ سے اتحاد کرنے کے لئے خط 20 ستمبر 1798 کو لکھا گیا تھا۔ ٹیپو سلطان نے اسے توجہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ (یہ خط 1836 سے لندن میوزیم میں ریکارڈ کا حصہ ہے)۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں سلطان عبدالمجید کی طرف سے فرمان حاصل کیا گیا کہ خلیفہ کی ہدایت کے مطابق ہند کے مسلمان تاجِ برطانیہ کے وفادار رہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب کریمیا کی جنگ میں برطانیہ اور عثمانی اکٹھے لڑ رہے تھے۔ (حوالہ، سالار جنگ کی 1887 میں لکھی کتاب ۔ “انیسویں صدی”)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانیوں نے ممبئی اور کلکتہ میں اپنے قونصلیٹ انیسویں صدی کے وسط میں کھولے۔ 1862 سے ہندوستان کی مساجد میں خلیفہ کے نام سے خطبے پڑھے جاتے تھے۔ یہ عقیدت انیسویں صدی کے آخر تک اپنے عروج پر تھی۔ ترک تحریکِ آزادی میں یہ عقیدت برقرار رہی اور مصطفٰی کمال پاشا کو سپورٹ کیا جاتا رہا۔

کریمیا کی 1853 کی جنگ میں مسلمانوں نے ترکی کی مدد کے لئے چندہ اکٹھا کیا۔ روس کے خلاف جنگ 1877-8 کی جنگ میں ملکہ وکٹوریا سے درخواست کرنے پہنچے کہ برطانیہ عثمانیوں کی مدد کرے۔ عثمانی ہلالِ احمر کی مدد کی گئی۔ عثمانیوں کی طرف سے اس پر ہندوستان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے خط لکھے گئے۔

جب عثمانیوں نے 1897 کو گریس کو شکست دی تو اس پر ہندوستان میں جگہ جگہ جشن منایا گیا۔ جب 1911 میں اٹلی نے لیبیا پر حملہ کیا تو اٹلی کی ہر چیز کا بائیکاٹ کیا گیا۔ بلقان کی جنگ چھڑ جانے کے بعد عثمانیوں کے حق میں برٹش سرکار کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ پہلی بار ہندوستان کی اشرافیہ کے عثمانی پاشاوٗں سے براہِ راست تعلق قائم ہوئے۔

جب عثمانی سلطان عبدالحمید نے حجاز ریلوے پراجیکٹ شروع کیا تو یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک پرمسرت اعلان تھا۔ مصر، روس، مراکش، نیونس، الجزائر، جنوبی افریقہ، ایران، سنگاپور، جاوا، چین، امریکہ، قبرض، بلقان، برطانیہ، فرانس، جرمنی کے مسلمانوں کی طرف سے عطیات دئے گئے۔ عطیات اکٹھا کرنے میں سرِفہرست ہندوستانی مسلمان تھے۔

اگرچہ عثمانیوں کو فلسطین، شام اور عراق میں شکست سے دوچار کرنے والی برٹش فوج کا دوتہائی حصہ ہندوستانیوں پر مشتمل تھا۔ لیکن سیوریس کے معاہدے اور یورپی افواج کے قبضے کے خلاف ہندوستان میں بڑی تحریک چلی جو مسلمانوں تک محدود نہیں تھی۔ گاندھی بھی اس تحریک میں شامل ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگِ عظیم ختم ہو جانے کے باوجود ہندوستانیوں کی دلچسپی اس میں برقرار رہی۔ یہ عین ممکن تھا کہ استبول سے ترکوں کا انخلا کروا دیا جاتا۔ لیکن برطانوی اس معاملے میں ہندوستانیوں کی حساسیت سے آگاہ تھے۔ ترکی پر قبضہ کرتی گریس فوج کی کھل کر حمایت نہ کرنے کی ایک وجہ برطانیہ کے لئے کالونیوں کی طرف سے آنے والا پریشر تھا۔ 8 جولائی 1921 کو کراچی میں خلافت کانفرس ہوئی جس میں مصطفٰی کمال کی جنگِ آزادی اور انقرہ اسمبلی کی حمایت کی گئی۔

ہندوستان کے مسلمان اس بارے میں اتنے حساس کیوں تھے؟ آج سے سو سال پہلے کا دور مسلمانوں کے لئے بڑی مایوسی کا دور تھا۔ مسلمان اکثریت کا کوئی بھی علاقہ ایسا نہیں تھا جو آزاد اور خودمختار ہو۔ (مسلمانوں کی حالتِ زار پر حالی کے لکھے “پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے” کے شعر اس دور کے ہیں)۔ عثمانی سلطنت ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے امید کی علامت تھی۔ یہ آخری آزاد اور خودمختار مسلمان ریاست تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کالونیل دور ختم ہوا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک حصہ پاکستان بنا۔ عثمانی سلطنت کی وراثت جدید ترکی کے حصے میں آئی۔ تعلقات کی گرم جوشی اور ایک دوسرے کی سپورٹ کا عنصر ہمیشہ برقرار رہا۔

پاکستان اور ترکی کے آپس کے تعلقات بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے انامولی ہیں۔ فاصلہ زیادہ ہے۔ ثقافت، معاشرت ایک سی نہیں۔ ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے۔ مذہبی اعتبار سے بھی اگرچہ دونوں مسلمان ہیں لیکن فرق بہت ہیں۔ (ترکی میں سیکولرازم ایک بنیادی قدر اور شناخت کا حصہ ہے، پاکستان میں ایسا نہیں)۔ بین الاقوامی سیاست میں مفادات ایک نہیں۔ (مثلاً، ترکی طالبان کی شدت سے مخالفت کرتا رہا ہے اور افغان خانہ جنگی میں پاکستان مخالف گروپس کو سپورٹ کرتا رہا ہے اور یہ محض خاموش مدد نہیں رہی)۔

کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سیاست بے رحم مفادات کی سیاست ہے۔ لیکن فوجی آمریتوں سے جمہوری حکومتوں تک ۔ مصطفٰی کمال سے طیب اردگان تک ۔ پاک ترک تعلقات یہ بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں بھی صرف مفاد اور منطق ہی نہیں بلکہ کچھ تعلقات رومانس پر بھی ہوتے ہیں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان اور ترکی ۔ سلطنتِ عثمانیہ (11)۔۔وہاراامباکر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *