جہاز کریش سے کرونا تک۔۔محمد منیب خان

کسی بھی منزل کی طرف جانے کے لیے اپنی منفرد مسافت ہوتی ہے۔ لازمی نہیں کہ منزل، مسافت اور ہمسفر سب کو مقدر  کی کھونٹی سے باندھ کر خود کو  عمل کے نتائج سے مبرا کر لیا جائے۔ کیونکہ اگر نتائج کا حصول ہی مد نظر نہ ہو تو اس ساری دنیا  میں محنت کا کیا جواز ہوگا؟ نتائج سے فرار کبھی بھی زندگی میں کارکردگی دکھانے والوں کا شعار نہیں رہا۔ البتہ کج عملی اور اس کےنتائج سے فرار کے لیے بہت سوں کے پاس محض تقدیر کی ترپال موجود رہتی ہے جسے وہ نتائج کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے ہرحادثے، ہر سانحے پہ ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان نتائج سے کتنے افراد متاثر ہوئے ہیں اور وہ سب متاثرین کب تک ان نتائج کے اثرات میں زندگی گزاریں گے۔ کیونکہ ایسی تحقیق نہیں کی جاتی، اتنا زیادہ نہیں سوچا جاتا۔

کاش سسکیوں کے ساتھ جڑا کوئی ساؤنڈ سسٹم ہوتا، کاش آنسوؤں کا شور کسی آبشار کی طرح سب کو سنائی دیتا۔ کاش دریدہ روحوں اور شگافیدہ جسموں کو دیکھایا جا سکتا۔ لیکن وائے افسوس ایسا کچھ نہیں ہے۔ سسکیاں رات کی تاریکیوں میں گم ہو جاتی ہیں، آنسو عارض پہ گڑھے ڈال کر دامن میں پناہ لے  لیتے ہیں۔ دریدہ روحوں کا عکس الفاظ میں دکھایا جاتا ہے اور شگافیدہ جسموں کو پردے پر دھندلا کر دکھایا جاتا ہے۔ اس ساری اذیت کو مقدر کا لکھا کہہ کر عمل کو معذور ثابت کرنے والی بات ہے۔ میں فی  الوقت عمل اور مقدر کی کسی بحث کا یارا نہیں رکھتا۔ لیکن میرا گھاؤ گہرا بھی  ہے اور بڑا بھی۔

شکر ہے کہ میرا کوئی عزیز یا رشتہ دار اس بد نصیب جہاز میں سوار نہیں تھا کہ جس کے لیے بائیس مئی ہی محشر ثابت ہوا۔ لیکن میں مزید کتنے روز اس بات پہ شکر ادا کر سکوں گا؟ میرے سامنے اس باپ کا کر بناک چہرہ  ہے جس کے بچوں کی شناخت چھ روزبعد تک نہ ہو سکی تھی، میرے خیال کی ناؤ میں بین کرتی وہ نانی ہے جس کو دیکھنے جانے والی بیٹی اور نواسی اپنے سارے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے خود خواب بن چکے ہیں۔ میری مجسم سوچ کو چیرتی ان اجداد کی سسکیاں ہیں جن کا بیٹا، بہو اورپوتوں سمیت  نہ لوٹنے والے سفر پہ روانہ ہوگیا۔ یہ نہ ختم ہونے والی ستانوے کہانیاں ہیں۔ جس جس کہانی کو جہاں سے پڑھنا شروع کریں وہ ذہن میں موجود خوشی کے خلیوں کو ایک لمبے عرصے تک کے لیے مردہ کرتی جائیں گی۔

ہمارے لیے اس غمناک حادثے کی ایک شیلف لائف ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ادارے کے لیے بھی اس حادثے کی ایک شیلف لائف ہے۔لیکن وہ جن کے ساتھ یہ سب بیت گئی ان کے نظریں بس آسمان کی طرف ہیں یہ نظریں کبھی استفہامیہ محسوس ہوتی ہیں کبھی دادخواہانہ، اب وہ اپنے پیاروں کو کہاں تلاش کریں؟ جلتے جہاز سے اٹھنے والے دھوئیں نے ان کے اندر کو بھی جلا دیا ہے۔ اب کوئی تسلی، کوئی ڈھارس کارگر نہیں، اب بس وہی جس کو اللہ صبر دے دے۔ دعاؤں اور مرادوں سے  مانگی گئی اولاد کی باقیات کو دفنا کریہ ساری عمر لڑکھڑاتے قدموں سے گوشہ عافیت ڈھونڈیں گے۔ اس لمحے کوئی حکومت، کوئی ادارہ ان کے کندھے پہ ہاتھ نہیں رکھےگا۔ اخبار، خبر کا مدفن ہے اور آئے روز یہاں نئے سے نئی خبر پچھلی خبروں کے نشان مٹاتی جاتی ہے۔ لہذا پسماندگان اس کٹھن مسافت میں تنہا بھی ہیں، ناتواں بھی۔

سماج ابھی شعور کی اس منزل تک نہیں پہنچا جہاں حکومت اور اداروں کو ایسے اقدامات پہ مجبور کریں کہ ایسے حادثات کو محض مقدر کا شاخسانہ قرار دے کر داخل دفتر نہ کیا جائے۔ بلکہ باقاعدہ تحقیقات کر کے ان کے نتائج سے مستقبل کے لیے سبق سیکھاجائے۔ ہوا باز، جہاز یا کنڑول ٹاور کسی جگہ تو کچھ مسئلہ تھا یا ہوگا۔ لیکن ہم نتائج سے سبق سیکھنے میں نسبتاً کند واقع  ہوئےہیں۔ ستر سال سے ایک جیسے نتائج دیتے واقعات اکہترویں سال اس امید پہ دہرائے جاتے ہیں کہ اب کی بار نتائج مختلف ہوں گے۔اس سوچ کے ساتھ ہم کسی بھی قسم کے حادثات و واقعات سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ ہم آگے کا کوئی زینہ طے نہیں کر سکتے۔

اس ہی جیسے حادثاتکروناکے پھیلاؤ کی صورت میں گزشتہ چند ماہ میں دنیا کے کئی ایک ممالک میں رونما ہو رہے تھے۔ لیکن ہماری نظر میں پہلے وہ عذاب تھا، پھر جھوٹ بنا، پھر سازش بنا، اور جھوٹ اور سازش کا ایک مغلوبہ بن گیا ہے۔ حد ہے کہ کئی سوملکوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے سازشی تھیوریوں میں وقت گزارا گیا۔ اب وبا نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق 29 مئی کو 96 لوگ اس وبا سے مرے یعنی قریباً اتنے ہی لوگ جتنے طیارہ حادثے میں مرے تھے۔ اب سوچ رہاہوں اس کو بھی مقدر کے کھاتے میں ڈال کر کم از کم آنے والے دنوں میں سکون سے سونے کی کوشش کروں۔ لیکن اب خدانخواستہ جس گھر ،جس محلے اور جس علاقے میں وبا کے اثرات زیادہ ہوں گے وہ اس کرب کو سمجھ لے گا جو اوپر بیان کیا ہے۔ اب روز ایک جہاز کریش ہونا ہے۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔

کوئی ہے جو سبق دینے کا نہیں بلکہ سبق سیکھنے کا درس دے سکے یا ہمیں محض اپنی نااہلی اور جہالت کو مقدر کی کھونٹی پہ لٹکاکر بے حس ہی رہنا ہے؟

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *