کرونا وائرس کے مثبت پہلو۔۔درخشاں صالح

کرونا کی تباہ کاریوں سے انکار نہیں، لیکن کرونا کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔

1۔ کرونا نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف، اس کےخالق کی طرف اور اس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیا ہے۔

2.۔پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند کردیے ہیں۔ سینما گھر، نائٹ کلب، رقص گاہیں، شراب خانے، جوا خانے اور جنسی بے راہ روی کے مراکز بند ہیں، بلکہ سود کی شرح بھی کم کردی گئی ہے۔

3۔ خاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا کیا ہے۔

4۔ عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذا اس سے اجتناب کیاجائے۔

5۔صحت کے تمام اداروں کو یہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ درندے، شکاری پرندے، خون، مردار اور مریض جانور صحت کے لیے تباہ کن ہیں۔

6۔ انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے، صفائی کس طرح کی جاتی ہے جو ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1450 سال پہلے بتایا ہے۔

7۔ فوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کیا ہے۔

8۔ دنیا کے بعض بڑے ممالک کے حکمرانوں کو بتا دیا کہ لوگوں کو گھروں میں پابند کرنے، جبری بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینےکے  معنی کیا ہوتے ہیں۔

9۔ لوگوں کو اللہ سے دعا مانگنے، راضی کرنے اور استغفار کرنے پر مجبور اور منکرات اور گناہ چھوڑنے پر آمادہ کیا ہے۔

10۔متکبرین کے کبر و غرور کا سر پھوڑ دیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنایا۔

11۔ دنیا میں کارخانوں کی زہریلی گیس اور دیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا، جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کو گندہ کیا ہے۔

12۔ ٹیکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیا ہے۔

13۔ اور سب سے بڑا کارنامہ اس کا یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا اور شرک اور غیراللہ سے مدد مانگنے سے منع کیا ہے۔

اب میں آپ سے کرونا وائرس کا ایک ایسا پہلو بیان کروں گی جس کی طرف شاید بہت کم لوگوں کا دھیان گیا ہو، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اس جناتی وبا کے خوف سے کہ بغیر بتائے اور اطلاع دیے یہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے گلے لگ کر روگ جاں بن سکتا ہے، ہم سب اپنے اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ دوستوں رشتہ داروں سے فون پر رابطہ ضرور ہے ،اِدھر کی خبر اُدھر اور وہاں سے آیا ہوا چٹکلہ یہاں چلا کر پہاڑ جیسا دن گزار ہی لیتے ہیں، اقتصادی اور معاشی فکریں بھی ساتھ ساتھ ہیں۔

ایک قبرستان کے گیٹ کے باہر پھول بیجنے والے سے پوچھا کہ ہاں بھئ کیسا چل رہا ہے؟۔اس نے جواب دیا بُرا حال ہے۔ پہلے تو 18/20 جنازے روزانہ آ جاتے تھے اب تعداد 5،6 سے آگے نہیں جارہی ۔۔۔۔۔۔ ہیں؟؟ یہ کیسے؟؟ اس نے جواب دیا پہلے تو 6،8 تو ٹریفک حادثے کی نذر ہوتے تھے اور باقی کھانے پینے کی دوکانوں کے بند ہونے سے بڑا فرق پڑا ہے۔ اب لوگ مرغن کھانے سے دور کیا ہوئے قبرستان بے رونق ہو گئے ہیں، اموات کی شرح صرف تیس فیصد رہ گی ہے۔

قبرستان کے نگران جو کسی کے بھی آنے پر ذرا متحرک ہوجاتے ہیں سوال کیا۔۔۔ ہاں بھئی بتاؤ کیسے حالات ہیں؟ اس نے بتایا کہ پہلے ہر مہینے 25 سے 30 جنازے آتے تھے اب 8،10 رہ گئے ہیں۔ پوچھا وہ کیوں؟ اس نے بھی وہی حیران کن جواب دیا۔ چالیس فیصد تو حادثوں کی نظر ہوتے اور باقی۔۔۔؟ باقی بلڈ پریشر اور دل کے دورے شوگر وغیرو۔۔۔ کیا کرونا سے یہ بیماریاں ٹھیک ہو گئی ہیں؟ کہنے لگا نہیں لگتا ہے لوگ کھانے کم کھا رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ایک طرف نقصانات، تو دوسری طرف فوائد۔

کتنی دلچسپ بات ہے کہ دنیا کا کاروبار بند ہوتے ہی اوزون کی تہہ آٹو ریپیر پر لگ گئی ہے۔
خیال رہے کہ اوزون ایک تہہ ہے جو سورج سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کو نہ صرف زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے۔ اوزون زمین کا حفاظتی غلاف بھی ہے۔اوزون کی تہہ کا نوے فیصد حصہ زمین کی سطح سے پندرہ تا چھپن کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون گیس کی تہہ سو فیصد صحیح ہو جانے کے امکانات ہیں۔ اوزون گیس زمین کے باسیوں کو خلا کے تابکار عناصر سے محفوظ رکھتا ہے۔ آپ اسے فلٹر سمجھ لیں۔

ہم انسانوں نے گاڑیوں کے دھوئیں اور کارخانوں کے دھوئیں سے اس میں شگاف ڈال دیئے تھے وہ شگاف اب کاروبار بند ہونے سے بحال ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ہمیں صفائی کی سمجھ آگئی، شادی ہال بند، سادگی سے شادی کرنا عقل میں آ گیا ہے۔
واہ رے کرونا۔۔ جو سمجھ نہ آیا، وہ بتا دیا، کیا بات ہے۔ کرونا وائرس کہ تُو نے کتنی جلدی سب سمجھا دیا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *