• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسلامی سائنس،ہم نے کوانٹم فزکس قرآن سے “دریافت” کر لی ہے؟۔۔۔ڈاکٹر مبشر حسین

اسلامی سائنس،ہم نے کوانٹم فزکس قرآن سے “دریافت” کر لی ہے؟۔۔۔ڈاکٹر مبشر حسین

1980 کی دہائی میں سعودی عرب میں “قرآن کے سائنسی معجزات/انکشافات” کے نام سے ایک ادارہ/ پراجیکٹ شروع کیا گیا جسے حکومت کی بڑی مالی امداد حاصل تھی۔ میں 2011-2012 میں جب رابطہ عالم اسلامی جو اس پراجیکٹ کا نگران تھا، کے مدرسے میں پڑھنے گیا تو خواہش تھی کہ اس پراجیکٹ کی تفصیلات معلوم کی جائیں۔ ہمارے پیر و مرشد ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری مرحوم پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ “بیٹا مبشر! تم اس ادارے میں جا کر وقت ضائع کرو گے، ہاں اب ضد کر کے جا ہی رہے ہو تو ان کے “سائنس دانوں” سے ضرور ملاقاتیں کرنا اور ہاں، جو انہوں نے “اسلامی سائنس” کی مدد سے “اسلامی گھڑی” بنائی ہے، وہ ایک عدد لے آنا، پیسے میں دے دوں گا”۔

مجھے اس ادارے میں جا کر معلوم ہوا کہ تین دہائیوں میں اس ادارے نے جو “اسلامی سائنس” پر کارنامے انجام دئیے ہیں وہ علمائے دین کے چند جلسوں اور ان کی روداد پر مبنی چند کتابچوں کی صورت میں ان کی لائبریری کی زنیت تو ضرور ہیں مگر ان میں صرف اتنا ہی لکھا تھا کہ کوانٹم فزکس/مکیانیکس کو قرآن کی فلاں آیت سے “دریافت” کر لیا گیا ہے، بِگ بینگ تھیوری بھی قرآن کی فلاں آیت سے “دریافت” کر لی گئی ہے، اور ایمبریالوجی کی سائنس بھی اور کچھ مزید چیزیں بھی ۔۔۔۔ اور بس۔

یقین جانیے ،مجھے سخت مایوسی ہوئی ،کیونکہ میرا خیال تھا کہ امت مسلمہ اور بالخصوص علمائے دین جو گزشتہ دو تین صدیوں سے سائنس کو مذہب کی  دشمن سمجھ کر ہر جگہ محاذ آرائی کرتے رہے ہیں، شاید اس کا ازالہ عالم اسلام کا یہ امیرترین ادارہ کر رہا ہو گا، لیکن ازالہ کیا کرنا تھا خود ادارہ ہی ازالہ کے لائق تھا۔ ادارے کے پاس نہ کوئی نوبل انعام یافتہ سائنس دان تھا اور نہ شاہ فیصل ایوارڈ یافتہ مولوی۔ نہ سائنس کے بنیادی تصورات پر کوئی علمی منصوبہ زیر ِ غور تھا اور نہ ہی اپنی قوم یا باقی امت کے لیے کوئی سائنسی تعلیمی/نصابی پالیسی۔ مؤسس ڈائریکٹر ––جن کا عالم دین ہونا تو وہاں مشہور تھا لیکن وہ سائنس دان بہرحال نہیں تھے۔اس وقت القاعدہ کے ساتھ ” گہرے تعلقات” کے جرم میں گرفتار تھے، پیچھے برائے نام چھوٹا سا ادارہ چند علمائے کرام کے ساتھ اپنی جگہ پر پوری “شان و شوکت” کے ساتھ موجود تھا۔ ان میں سے بعض علما کے مقام و مرتبہ کو میں یہاں بیان کروں تو میرے بعض دوست یقیناً “غصہ” ہو جائیں گے۔

یونانیوں نے  سکندریہ (مصر) میں سائنس سیکھی، اور مصری و شامی سائنس دانوں نے یونانی سائنس کو ترقی دی، عرب مسلمانوں نے یونانی سائنس کو مزید آگے بڑھایا (ہسپتال، سکول، پبلک لائبریری اور سائنسی لیباٹری جیسے چار شعبوں کو اداراتی حیثیت انسانی تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں نے دی) اور براستہ سپین یورپ کو علمی و سائنسی روشنی دی۔ سپین کے مسلمانوں سے سائنسی علوم یورپ کے لوگوں نے سیکھ کر اس کی بنیادوں پر جدید مغربی سائنس کی بلند و بالا عمارت کھڑی کر دی۔ پھر یورپ کی اسی سائنسی ترقی نے اسلامی دنیا کو مغرب کی کالونیاں اور بدترین غلامی سے دوچار کیا۔ لیکن ہمیں سائنس ہمیشہ “قرآن کے خلاف” ہی نظر آئی۔ ہمیں صورتحال سمجھانے والے لیڈر ملے لیکن ہم نے قدر نہ کی (سرسید سے مذہبی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اگر آج بھی آپ انہیں انگریز کا “ایجنٹ” اور امت مسلمہ کا “دشمن” سمجھتے ہیں تو چلیے پھر جمال الدین افغانی کا فرانسیسی مستشرق ارنسٹ رینے،جس نے کہا تھا کہ یورپ کے عیسائیوں نے گلیلیو کے ساتھ جو کیا وہی مسلمانوں نے ابن رشد اور ابن سینا کے ساتھ کیا،کے ساتھ فرانس میں ہونے والا مکالمہ پڑھیے، یا ہندوستان میں آ کر جو انہوں نے چھ لیکچر دئیے، صرف وہی پڑھ لیجیے)۔

ہمیں آزادی ملی پھر بھی ذہنی طور پر ہم غلام اور شکی مزاج ہی رہے۔ ہمیں نصف صدی پہلے پٹرول ملا جو پوری دنیا کو بیچا لیکن اس مال سے ایک “اسلامی گھڑی” آج تک نہ بنا سکے اور آئندہ تو “پیٹرول والوں” سے ویسے ہی کوئی امید نہ رکھیے (“اسلامی گھڑی” یہ نمازوں کے وقت بتانے والی “العصر” گھڑی کی طرف اشارہ ہے جسےانصاری صاحب نے مجھے سمجھانے کے لیے “اسلامی گھڑی” کہہ کر بات کی تھی)۔

تیس سالوں میں اُس ادارے نے سائنس اور مذہب کی مزاحمت کا مسئلہ تو حل نہ کیا اور نہ اس کے بس میں تھا کہ کم از کم “علمائے دین” ہی کے لیے اس بارے کوئی مستقل خطوط طے کر دے، البتہ انہی تین دہائیوں میں پوری دنیا میں یہ نعرہ مستانہ سن سن کر کان پک گئے ہیں کہ ہم نے فلاں سائنسی ایجاد/تھیوری قرآن سے “دریافت” کر لی ہے اور فلاں بھی۔۔۔اور اس پر اتنی کتابیں ۔”قرآن اور جدید سائنس”۔”سنت اور جدید سائنس” اور اس “دریافت” میں بہت سے لطیفے بھی سامنے آئے ہیں جیسے “اسلامی گھڑی “۔(اور کبھی سید حسین نصر کے “اسلامی کمپیوٹر” یا “اسلامی سائنس” پر بھی بات کریں گے)، لیکن آج کا پیغام صرف اتنا ہی ہے کہ مجھ جیسے “اسلامی سائنس” والوں کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ قرآن تو چودہ صدیاں پہلے سے محفوظ حالت میں ہمارے ہر گھر میں موجود ہے مگر جب مغربی سائنس دان کوئی سائنسی انکشاف کر دیتے ہیں تو آخر اس کے بعد ہی ہمیں کیوں یاد آتا ہے کہ ہاں یہ تو پہلے ہی قرآن میں ہے،آئیے آج ایک آدھ چیز ، ان سائنس دانوں سے دس بیس سال پہلے ہی دنیا کو بتا کر ہم حیران کر دیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *