تین نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) آسمانی ایلچی سے ایک سوال
انت ہے کیا؟
سامنے کیا صرف اک اندھا اندھیرا
لا مکان و لا زماں ہے؟
کیا ہم اپنے
ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھ چکے ہیں؟
کیا یہی کچھ حاصل ِ لا حاصلی تھا؟
لاکھوں برسوں کے مسلسل ارتقا کا یہ جنم انعام ہے کیا؟
جس میں ہم اب تک لیے پھرتے ہیں
آنکھیں، کان ۔۔۔ یا کچھ حصے بخرے
ایک ایسے جسم کے جو جانور سے مشترک ہے؟

اور بھی کیا کچھ ودیعت تھاہمیں؟
(تم ہی بتاؤ)
تم نے لاکھوں برس پہلے یہ بتایا تھا کہ ہم
ذی روح ہیں ۔۔۔اشرف خدائی میں، سبھی سے
برتر و افضل ۔۔۔مگر ہم جسم بھی ہیں
جسم، یعنی جانور ہونے کا ورثہ
جو ہمیں اک بوجھ کی مانند ڈھونا پڑ رہا ہے۔

آسمانی ایلیچی، تم ہی بتاؤ
۔۔۔۔ انت ہے کیا؟
ارتقا کی آخری منزل یہی ہے؟
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

۲() انجیل میں لکھی ہوئی عمر

خلط ملط سب رنگ، سبھی آوازیں مدھم
کہر ، دھندلکا، بھول بھلّیاں
سب کچھ مبہم، غیر یقینی ۔۔۔

کیسی ذہنی کیفیت ہے

کسی اشارے کرتی، پاس بلاتی منزل کی جانب
یہ پیش رفت ہے یا پسپائی
اس چوکھٹ کی جانب، جس میں
اپنی آنکھیں اور سماعت کو دفنا کر
اک دن میں نے یہ سوچا تھا
اب میں خود کو کھو کر ۔۔۔
خود کو پانے کی منزل کی جانب چل نکلا ہوں

لیکن آٹھ دہائی عرصہ اس کوشش میں بیت گیا ہے
آج مجھے انجیل میں لکھّی
اپنی عمر کی سرحد سے آگے آ کر بھی
کیوں ایسے لگتا ہے
سب کچھ مبہم، غیر یقینی، بھول بھلّیاں؟
دھند میں کچھ بھی صاف نہیں ہے
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

۳() ۔۔۔ Back to Future

تم تو، لوگو
ماضی سے دو چار قدم ہی آگے آ کر
یہ کہتے ہو، تم نے بہت ترقی کر لی
ہم جو مستقبل سے چل کر
حال کے اس لمحے تک واپس آ پہنچے ہیں
ہم جو اپنے ماضی ٔ مطلق کی
لا وارث نسل نہیں ہیں
ہم جو مستقبل کے امکاں
اور یقین کے خود خالق ہیں

ہمیں، ہمارے فن کو یوں بیکار نہ سمجھو

ماضی سے دو چار قدم ہی آگے آ کر
اپنی اس ترویج پہ تم کو ناز بہت ہے
حاضر و حال کے اس لمحے میں
شاکر رہنے والے لوگو
ہم ہیں ایسے حال کے داعی
جو مستقبل کے ہر لمحے کو
اپنے بیتے کل میں پہلے بھوگ چکا ہے!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *