تُو مجھے جانتا نہیں،میں کون ہوں۔۔۔جمال خان

کابینہ کا اجلاس جاری تھا کہ وزیراعظم میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا بطور مشیر آج آپ کا پہلا اجلاس ہے۔۔ آپ مستقبل میں ہزارہ موٹر وے جیسے واقعات کے تدراک کے لئے کیا تجاویز لے کر آئے ہیں ۔۔تو میں نے وزیراعظم سے پانچ سے دس منٹ کی اجازت مانگی اور کہنا شروع کیا ۔۔۔

سر حضرت عمر فاروق نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ “لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا” یہ جملہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق نے گورنر مصر حضرت عمروبن العاصؓ کے بیٹے محمد بن عمرو کی جانب سے ایک شکایت کنندہ شخص کی پشت پر آٹھ کوڑے مارنے کے بعد سزا کے طور پر پہلے( بیٹے) محمد بن عمرو کو آٹھ کوڑے مارنے اور پھر گورنر (باپ)عمرو بن العاص کو ایک کوڑا مارنے کے بعد کہے تھے ۔۔

سر! مجھے آپ کی نیک نیتی پر کوئی شک نہیں ہے مگر اب جب کہ کسی بھلے مانس مشیر کے مشورے پر آپ نے ریاست مدینہ کی گردان الاپنا کچھ کم کردی ہے تو کچھ اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہونے کا تقاضا کررہے ہیں اور یقین جانیے ان اقدامات کاذرا سا بھی تعلق شریفوں اور زرداریوں کی لوٹ مار سے نہیں ہے ۔ان میں سے ایک اقدام یہ کہ آپ فوری طور پر ایک ایسا قانون منظور کروائیں جس میں بڑے چھوٹے کسی بھی سرکاری عہدے پر براجمان کوئی بھی شخص چاہے وہ سیاستدان ہو یا بیوروکریٹ، عدلیہ سے تعلق  رکھتا ہو یا مسلح افواج سے، پولیس والا ہو ،وکیل یا ڈاکٹر ،ڈپٹی کمشنر ہو یا تحصیلدار یا کوئی صحافی یا کوئی بھی کسی بھی اعلیٰ  عہدے پر ۔۔۔اگر ایسے واقعات کا تدارک کرنا ہے تو پھر ” تم مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں”جیسا جملہ بولنے اور دوسروں کو ڈرانے دھمکانے والوں کے لئے سب سے پہلی سزا ” انہیں فوری طور پر وزیراعظم ہاؤس طلب کر کے پہلے مرحلے میں ان لوگوں کی بالکل اسی انداز میں آن کیمرہ “عزت افزائی’ متاثرہ شخص سے کروائی جائے ۔۔ دوسری مرتبہ اگر وہ ” اعلی افسر یا اس کے اہل خانہ میں سے کوئی یہ جملہ دوبارہ بول کر ڈرائے دھمکائے تو پھر موقع پر ہتھکڑی۔۔۔ تین ماہ جیل میں قید بامشقت اور اس کے بعد محکمانہ تنزلی ۔۔۔ یقین کریں ! اگر آپ کی حکومت ایسے اقدامات کر ڈالتی ہے تو یہ نہ صرف آپ کا اس قوم پر احسان عظیم ہوگا بلکہ مورخ بھی اس ملک کے بارے میں اپنے قلم سے کچھ مختلف لکھنے کے قابل ہوسکے گا ۔
اور سر! اس طرح کے اقدامات کو ہی کہا جاتا ہے “نظام ریاست مدینہ” کی طرف اکیسویں صدی میں پہلا قدم” ۔۔۔ کہ عمر فاروق نے اپنے گورنر اور ان کے بیٹے کو کوڑے لگوائے ہی اس لئے تھے کہ ان کی حکومت میں شامل ” اعلی  عہدوں پر بیٹھے ہوئے عبرت پکڑیں اور جان جائیں کہ عمر جاگ رہا ہے ۔۔( اگرچہ آپ کے دور میں کوڑے یا جوتے مارنے کی سزا تجویز نہیں کی جاسکتی مگر سر ! ضرورت پڑنے پر اس پر بھی غور ضرور کیا جاسکتا ہے )۔

سر! سرپھرے مغرور بددماغ ” افسران ” اور ان کے اہل خانہ کے دوسرے افراد اس کے علاوہ سدھر بھی نہیں سکتے اور یقین جانیے جب کم ازکم 25 سے 30 لوگوں کو یہ سزا دی جائے گئی تو پھر آئندہ نہ کسی کو جرات ہوگی اور نہ آپ کے اس قانون پر کوئی انگلیاں اُٹھ پائیں گی کہ عبرت پکڑنے کے بعد ایسا ” مائنڈ سیٹ” اور ایسے “شاہانہ مزاج “خود بخود ہی ختم ہوجائیں گے ۔۔ شکریہ سر!
اور جیسے ہی میں نے اپنا آخری فقرہ پورا کیا تو پورے کمرے میں موت کا سا سناٹا چھا گیا ۔۔ اور میں فوراً اجلاس سے اٹھ کر باہر جانے والے گیٹ کی طرف چل پڑا اور اپنے پیچھے سرگوشیاں سنتے سنتے گیٹ تک پہنچا ہی تھا کہ مجھے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں فوری طور پر مجھے معطل , ملک چھوڑنے اور آئندہ کے لئے پرائم منسٹر ہاؤس کے نزدیک نظر آنے پر بھی گولی مار دینے کا حکم تھا —ابھی میں میسج بھیجنے والے کا نام پڑھنے  ہی  لگا تھا کہ چھوٹے بیٹے نے آکر یہ کہہ کر خواب سے جگا دیا کہ ” ڈیڈی”اٹھ جائیں باہر گھاس کاٹنے والا آیا ہے۔

 

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *