عظمی خان کی وائرل ویڈیو پر عوامی رد عمل۔۔روبینہ شاہین

اس واقعے پر ملک کی اکثریت نے اپنے  ردِ عمل کاکھل کر  اظہار کیا۔ کیا ہمارا ردِعمل تضاد سے پاک، کسی ایک اصول پر قائم تھا یا ہم نے منتنجن قسم کا ردِعمل دیا؟ اس ضمن میں اہم یہ ہے کہ آپ کے لئے مقدم تر کیا ہے۔ مذہبی احکام؟ سماجی حساسیت یا جذبات؟ ملکی یا اخلاقی قوانین؟۔

مذہبی احکام کو ہر بات پر مقدم تر ماننے والے یہ جانتے ہوں گے کہ عثمان صاحب اگر زنا “کرتے ہوئے” پکڑے گئے، تو ان پر حد نافذ ہو گی۔ اس کے لئے اس “عمل” کے چار گواہان یا عثمان کا زنا کا اعترافی بیان درکار ہے۔ ان دو کی عدم موجودگی میں عثمان پر حد نافذ نہیں ہو سکتی۔ اہم بات یہ بھی  ہے کہ وہ حد  ہم،  آپ، اس کی بیوی یا کوئی گارڈ نہیں، قاضی لگائے گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ اگر عثمان عظمی کو اپنی زر خرید لونڈی یا بیوی  ڈکلئیر کر دے، جو کہ شرعی طور پر جائز ہے، تو معاملہ مزید آمنہ جی کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔یاد رہے یہ بات ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ملکی قوانین کی پابندیوں پر دینی چھوٹ کو بالا تر سمجھتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ قرآن میں ما ملکت ایمانکم ابھی بھی موجود ہے،  اس کا مطلب لونڈی ہے  اور اس پر امت کا اجماع ہے۔اگر آج پاکستان میں لونڈیوں کا رکھنا درست نہیں، تو وجہ پاکستان کا قانون ہے، شرعی پابندی نہیں۔ ہاں دینی اعتبار سے ملکی قوانین کا پاس کرنا بھی ضروری ہے، لیکن یہ طبقہ اس بات کو اہم نہیں  جانتا۔

اس کے برعکس سماجی حساسیت یا جذبات کو باقی ہر بات پر مقدم جاننے والوں کی سوچ کچھ یوں ہے کہ کیونکہ عثمان نے بے وفائی کی تو بیوی کو حق حاصل ہے کہ جذبات کے عالم میں جتنی چاہے اپنے اردگرد تباہی پھیلا لے۔ ایسے لوگ آمنہ جی کے اس بیان پر مطمئن ہو گئے کہ اگر کوئی بھی عورت ہوتی تو اس سے زیادہ تباہی پھیلاتی۔ میری ذاتی رائے میں یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں دہشتگردی سے آگے نہیں جانے دیتی۔ کوئی شخص ماں کے پیٹ سے مجرم پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ غصے کی زیادتی اور جذبات پر کنٹرول کا فقدان ہی انسان کو مجرم بناتا ہے۔ ایسے لوگوں کی مان لی جائے تو کسی بھی ملک میں عدالتیں اور پولیس کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ جس کو جتنے جذبات مجبور کریں، دوسرے کو مار پیٹ کر لے، بات زیادہ بڑھے تو قتل کر دیں۔ اس سے کم از کم پاکستان کی آبادی کنٹرول ہو سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اگر جذبات پر تشدد کو اوکے سٹیٹس دے دیا جائے، تو سب سے پہلے یہ جذباتی ہی پٹ سیاپا ڈال دیں گے۔۔۔ فلاں “بیچارے” کو فلاں مار گیا۔ سو معاشرے کو قوانین کی ضرورت ہوتی ہے! ان پر جذبات سے بالا ہو کر عمل درآمد کرنا ہی ہر انسان کے لئے لازم ہے۔

اخلاقی یا ملکی قوانین کی پاسداری کو ہر بات پر مقدم تر رکھنے والوں کا بیانیہ یقیناً یہی ہوگا کہ آمنہ جی اینڈ کمپنی کا تشدد کسی طور جسٹیفائی نہیں ہو سکتا۔ ان کو کوئی حق نہیں کسی بھی بات کا شرعی یا قانونی فیصلہ سنانے کا۔ خدا نے ان کو گناہوں اور جرائم پر سزا دینے کا اختیار نہیں دیا۔ عثمان صاحب اور عظمی جی کا کیس عدالت میں جانا چاہیے، اگر وہ مجرم پائے جائیں تو قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے۔ وہ گھر عثمان کا تھا تو بھی آمنہ جی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں دیوار پھلانگ کر گھس جائیں۔ عظمی جی کے کپڑے جوتے اس گھر کی الماریوں میں موجود ہونے سے کم از کم یہ صاف ظاہر ہے کہ عظمی جی وہاں عارضی یا مستقل رہائش اختیار کیے ہوئے تھیں۔ ذاتی کپیسٹی میں آمنہ جی زیادہ سے زیادہ اپنے شوہر سے زبانی مواخذہ کر سکتی تھیں، ان پر کیس کر سکتی تھیں، خلع یا طلاق لے سکتی تھیں۔ اس سے زیادہ کو “زیادتی” کہتے ہیں! اپنے اختیارات سے تجاوز کو ایک جگہ ایک فرد کے لئے جسٹیفائی کیا جائے گا، تو کل ہم کسی جگہ کسی شخص پر اختیارات سے تجاوز پر اعتراض نہیں کر سکیں گے۔

“بیویاں ایسے ہی کرتی ہیں”۔۔۔ یہ جملہ انتہائی احمقانہ ہے،کیا کبھی سیریل کِلر کو قتل اس لئے معاف کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے ہی کرتا ہے؟ اگر کسی کی بیوی اتنی جذباتی احمق ہے، تو اس بنیاد پر دنگے فساد کو سپورٹ کرنے کی بجائے اسے با شعور انسان بنانے کی کوشش کرے۔

باقی کی سب باتیں انتہائی بے سر و پا ہیں۔۔۔ جیسے عظمی کونسا دودھ کی دھلی ہے، وہ شراب پی رہے تھے، وہ رنگ رلیاں منا رہے تھے، اس کا چکر چل رہا تھا، وہ مزے لے رہے تھے۔۔۔ بھئی بڑے ہو جائیں! چار دیواری کے اندر کوئی کیا کرتا ہے، یہ عام آدمی کا مسئلہ ہوتا ہی نہیں۔

عثمان چاردیواری کے اندر کس سے زنا کرتا ہے، یہ معاشرے کا مسئلہ نہیں۔ آمنہ جی، عظمی جی، کورٹ، عثمان، یہ معاملہ یہاں تک محدود ہے۔ اگر کوئی جذبات میں کسی کے گھر گھس کر مارا ماری کرتا ہے، اور اس پر سوا اس حرکت کو جسٹیفائی بھی کرتا ہے، تو یہ سماج کا مسئلہ ہے! یہ ہمارا مسئلہ ہے! عوام اس پر ضرور بولیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *