گھروندا ریت کا(قسط10)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اُس وقت جب تیزی سے مغرب کو جاتے ہوئے سورج کی سنہری کرنیں کنٹین کی دیواروں کے لمبے لمبے شیشوں کے دریچوں سے چھن چھن کر اندر قطار در قطار رکھے فارمیکا کی چکنی شفاف میزوں کی سطح پر بکھرتے ہوئے ایک بے نام سی اُداسی کا گہرا احساس پیدا کر رہی تھیں۔ وہ گرم گرم سنگھاڑے (سموسے) کھانے اور کنٹین کے نئے ملازم لڑکے سے باتیں کرنے میں منہمک تھی۔ یہ کمزور سا لڑکا جس کے موٹے موٹے نقوش یہ بتاتے تھے کہ اگر وہ صحت مند ہوتا تو یقیناً وجیہہ لوگوں میں شمار ہوسکتا تھا۔ اِس وقت اُسے اپنی غربت کی داستان سُنا رہا تھا۔ وہ داستان جو تھوڑے بُہت اختلاف کے ساتھ اُس کی اپنی داستان تھی۔ اُ س کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اُس نے محبت سے اُس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر شفقت گھُلی آواز میں اُسے کہا تھا۔
”دیکھو حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سیکھو۔ جب جدوجہد تعمیری انداز میں آگے بڑھے گی تو تبدیلی ضرورپیدا ہوگی۔“
وہ شیخ مجیب الرحمن کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے اب اُس کے چھ نکات پر تفصیلی بحث کرنے لگا تھا۔
تبھی ایک اجنبی چہرے نے اُس کے بالکل قریب آکر کہا کہ اگر وہ ویسٹ پاکستانی ہے اور اُ س کا نام نجمہ شمشیر علی ہے تو گیٹ پر صبیحہ نامی ایک خاتون اُس کا انتظار کر رہی ہے۔
اُ س نے پیغام دینے والی اُس لڑکی کو دیکھا جس نے سکرٹ کے نیچے اُونچی ہیل کے سلیپر پہن رکھے تھے۔وہ بنگالی نہیں تھی اُس کی انگریزی شستہ اور خاصی رواں تھی۔ لب ولہجہ اور نقش ونگار افریقہ کے جنوبی علاقوں جیسے تھے۔ شاید یہی وہ لڑکی تھی جس کے بارے میں دو دن پہلے باتیں ہو رہی تھیں جو تنزانیہ سے آئی تھی۔
اُس وقت گرم چائے کا کپ اُس نے اُٹھا کر لبوں سے لگایا تھا چند گھونٹ بھرے تھے اور اب وہ سوچتی تھی کہ چائے اُدھوری چھوڑ کر باہر کی طرح بھاگے یا اُس لذید چائے کو پُوری پی کرجائے۔ اُ س نے دونوں کے بین بین کام کیا اور آدھا کپ چائے کا میز پر رکھ کر تیزی سے مشرقی دروازے سے نکل گئی۔ آدھے راستے میں جاکر یاد آیا کہ نہ تو پیسوں کا حساب کیا اور نہ ہی ادائیگی کی۔ پیسے توہاتھ میں ہی پکڑے رہ گئے۔ جی میں آیا کہ واپس جائے پر پھر یہ کہتے ہوئے کہ ابھی واپس آکر ادائیگی کرتی ہوں۔قدم گیٹ کی طرف اُٹھا دئیے۔
صبیحہ مقامی تاتاش گیس کمپنی میں ملازم تھی۔ گزشتہ دنوں اُس سے ڈھاکہ ٹی وی اسٹیشن کے اڈیشن رُوم میں ملاقات ہوئی تھی جب وہ یونیورسٹی میگزین پروگرام کے سلسلے میں وہاں گئی تھی۔چھبیس 26 ستایئس 27 کے ہیر پھیرمیں یہ عورت نما لڑکی خاصی ملنسا ر تھی۔ جب اُس کا ٹی وی اسٹیشن جانا ختم ہوگیا تب بھی وہ کبھی کبھی اُس سے ملنی ہال چلی آتی۔
اُس کی دوسری ٹرم ختم ہونے کو تھی جب ایک دن اُس کی ساتھی لڑکیاں چٹا گانگ اور کاکس بازار کاپروگرام بنا بیٹھیں۔ نائیلہ نے ساڑھی کا آنچل دُرست کرتے اور کتابیں اُٹھا کر کلا س روم کی طرف بڑھتے بڑھتے رُ ک کر کہا۔
”بھئی ملک کی سیاسی فضا خاصی کشید ہ ہے تنہا چار پانچ لڑکیوں کا ٹرپ پر جانا کچھ ٹھیک نہیں۔ کسی قابلِ اعتماد آدمی کو ساتھ لو۔“
باقی لڑکیوں نے بھی نائیلہ کی اِس بات سے اتفاق کیا۔ ایک دن جب صبیحہ اُس سے ملنے یونیورسٹی آئی تو یونہی برسبیل تذکرہ اُس سے بھی بات ہوگئی۔ صبیحہ نے اپنے چند ملنے والوں کے حوالے دئیے کہ وہ اُن سے بات کرے گی کہ اگر اُن میں سے کِسی کا آفس ٹور چٹا گانگ سائیڈ کا ہو تو وہ اُنہیں کمپنی دے دے۔خرچہ پُول کر لیں گے۔ چلتے چلتے بھی اُس نے صبیحہ کوتاکید کرتے ہوئے کہا۔
”دیکھو اپنی مصرو فیت میں اِس اہم کام کوبُھولنا نہیں۔ ہمارے لئے موسم اور وقت دونوں ہی بہترین ہیں۔ تھرڈ ٹرم شروع ہونے پر پھر سر اُٹھانا مشکل ہو جائے گا۔“
اور صبیحہ نے جواباً کہاتھا۔
”بھئی مجھے خود احساس ہے کہ یہاں کی خوبصورت اور قابلِ دید جگہیں تم دیکھ لو۔ بار بار کوئی آیا جاتا ہے اور پھر سیاسی حالات جس نہج پر جا رہے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ کب بوریا بستر گول کرنا پڑ جائے۔“
لمبے چوڑے آڈیٹوریم کو تیزی سے پار کرتے کرتے وہ اپنے آپ سے بولی تھی۔
”یقیناً صبیحہ نے کِسی سے بات کی ہوگی اور اب اُسے اطلاع دینے آئی ہے۔“
آ ہنی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی میں سے جھُک کر وہ باہر نکلی نظریں اِدھر اُدھر دوڑائیں۔ پبلک لائبریری کی دیوارکے پاس ڈاٹسن میں بیٹھی صبیحہ ہاتھ ہلا رہی تھی۔ دائیں بائیں دیکھے بغیراُ س نے بھاگ کر سڑک پار کی۔ وہ اُس وقت سفید بیل باٹم چیک شرٹ اور اس پر سیاہ چنا ہوا ڈوپٹہ پہنے ہوئے تھی۔ گھنے سُرخی مائل بال اُ س کے کندھوں پر لہراتے بل کھاتے بُہت خوبصورت نظر آتے تھے۔ اُ س کے دلکش نقش ونگار، اندرونی سکون، اور بے فکری نے چنبیلی کے پُھولوں جیسی رنگت والے چہرے کو رعنائی بخشی ہوئی تھی۔ خوشنما لباس اور اندازواطوار نے اُس کی شخصیت کو من موہنا سا بنا رکھا تھا۔
اُس کا اندازہ درست نکلا۔ صبیحہ حقیقتاً اُس سے چٹا گانگ کے پروگرام کی تفصیل جاننے آئی تھی وہ اُس سے اِسی بابت باتیں کرنے لگی۔ اور کار میں بیٹھے کسی دوسرے شخص کا نوٹس نہیں لے سکی تھی۔ پر دفعتاً جب اُس کی نظر ڈرائیونگ سیٹ پر پڑی اُ س نے دیکھاتھا اسٹیرنگ کو بازوؤں کے ہالے میں لئے سیاہ گھنے بالوں اور خوبصورت آنکھوں والا مرد اُسے بغور دیکھ رہا تھا۔
اُس کے چہر ے کا رنگ بدلا اور جو بات وہ کر رہی تھی وہ بیچ میں ہی چھُٹ گئی۔
فوراً پچھلی سیٹ کا دروازہ کھُلا۔ بھاری اور رُعب دار آواز میں اُسے بیٹھنے کے لئے کہا گیا۔ وہ تھوڑا سا جھجھکی۔ صبیحہ نے اُسے محسوس کرتے ہوئے کہا۔
”بیٹھو پروگرام سڑک پر کھڑ ے کھڑے تو طے نہیں ہوگا۔“
اب حیل وحجّت کرنے کا موقع نہیں تھا۔ وہ بیٹھ گئی۔ گاڑی نے خفیف سا جھٹکا کھایا اور چل پڑی۔ نیل کھیت کی سڑکوں کے موڑ تیزی سے کٹ رہے تھے۔ وہ باکل خاموشی بیٹھی تھی۔
اور جب سیکنڈ کیپٹل کی ارغوانی عمارات نظر آنے لگیں۔ اُس سے پوچھا گیاکہ چٹا گانگ جانے والی لڑکیاں تعد ا دمیں کتنی ہیں؟
اُ س کا لہجہ بڑا مدھم تھا جب وہ بولی۔
”اُس سمیت چار۔“
”کوئی بنگالی بھی ہے؟“ ایک بار پھر پُوچھا گیا۔
”نہیں۔ دوپنجابی ہیں اور دو آغا خانی۔“
”خیال رکھیں کہ آپ کے ساتھ کوئی بنگالی لڑکی نہیں ہونی چاہیئے۔“
”اِس کا مطلب۔“
اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا۔ خوف کی ایک ٹھنڈی لہر سر سے لے کر پاؤں تک اُترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ شاید اُس لئے کہ ابھی چند لمحے قبل صبیحہ نے اُس کا تعارف کرواتے ہوئے جس خاندان سے اُس کے تعلق کو ظاہر کیا تھا اُ س کے متعلق وہ سُن چکی تھی کہ وہ بنگال کا اُونچا اور معزّز گھرانہ ہے اور خود وہ صوبائی حکومت میں اکیسویں گریڈ کا ایک اعلیٰ افسر۔
“باپ رے باپ۔اُس نے خود سے کہا۔پھر اپنے آپ سے پہلے بولی۔”کہیں یہ سیاحت کا شوق لے کر نہ بیٹھ جائے۔“
اُس نے سوچا اور پھر چاہا کہ وہ اپنے اِس خوف کا اظہار کسی نہ کسی انداز میں صبیحہ سے کر دے۔ لیکن کیسے کرے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھرجانے وہ کس خیال اور سوچ کے تحت خاموش رہی۔ پر اضطراب کے ہلکے ہلکے غبار میں ضرور لپٹی رہی۔ چینگوا کے سامنے گاڑی رُکی۔ اُ س نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا اور بولا۔
”آئیے ایک کپ چائے پی لیں۔“
چائے اور وہ بھی ہوٹل میں۔ اُ س کا تعلق سوسائٹی کی جس کلاس سے تھا وہ ہوٹلوں میں جانے اور وہاں کھانے پینے کو سخت معیوب خیال کرتی تھی۔
اُ س نے صبیحہ کے شانے پر ہاتھ رکھا اور قدرے خوف زدہ نظروں سے اُ س کی طرف دیکھا اور بکری کے بچے مانند ممنائی۔
”پلیزصبیحہ میں کبھی کسی ہوٹل میں نہیں گئی۔ مجھے معاف کر دو۔“
”ارے مفت میں گھبرا رہی ہو۔ یہ کوئی ایسے ویسے ہوٹل نہیں ہیں۔ چلو آؤ۔“
اُ س نے کار کاردروازہ کھولا اور باہر نکلتے ہوئے کہا۔
”اور وہ جو دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھے کھڑا اِن دونوں کی گفتگو غور سے سن رہا تھا۔اب آگے بڑھا، اُس کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے بولا۔
”یہ اعلیٰ درجے کا ریستوران ہے۔ تھرڈ کلا س ہوٹل نہیں۔ گھبرائیں مت۔ آئیے۔“
وہ سخت شرمندہ ہوئی۔ شرمندگی کایہ عکس اُس کے چہرے پر بھی پھیل گیا اور یہی وجہ تھی کہ جب دروازہ کھولا گیا،و ہ فوراًباہرنکلی۔ اُس نے اُ ن کے ساتھ قدم اُٹھائے۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے قد آدم آئینوں میں اُ سکی نظر اپنے سراپے پر پڑی۔ حیرت زدہ ہو کر اُس نے سوچا۔
“یہ میں ہوں۔ ایسی شاندار اور گلیمرس لڑکی۔“
حقیقتاً اُسے اپنا آپ اجنبی محسوس ہوا تھا۔
اِردگرد کی بے شمار چیزیں اُس کے تعجب میں اضافہ کر رہی تھیں۔ چپٹی ناکوں اور تکونی آنکھوں والے چینی دیکھ کر اُسے پاکستان اور چین کے تعلقات پر بُہت سی باتیں یاد آئیں۔ مسکراتے چہروں والے ویٹرز کو اُس نے دلچسپی سے دیکھا۔
چائے آئی۔ صبیحہ نے بنانے کے لئے چائے دانی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب وہ بولا۔
”ٹھہرواُسے بنانے دو۔ دیکھتے ہیں جتنی شاندار یہ خود ہیں چائے بھی ویسی ہی بناتی ہیں۔“
اور سچ تو یہ تھا کہ اُ س کا سانس اُس وقت گلے میں اَٹک گیا۔
”میں۔“
گھبرائے ہوئے لہجے میں جب اُس نے یہ کہا تو سُرخ کیوٹکس میں ڈوبے ناخنوں والا ہاتھ خودبخود اُ س کے سینے پر آگیا تھا۔
”ہاں ہاں آپ۔ میں نے یہ بات خالصتاًآپ کے لئے کہی ہے ہال میں بیٹھے کسی دوسرے انسان کے لئے نہیں۔“
وہ جودونوں بازو میز پر رکھے اپنے چوڑے شانوں کو قدرے آگے جھکائے اُسے نہایت دلچسپی سے دیکھ رہاتھا۔ اب کھِلکھلا کر ہنس پڑا۔ وہ خفیف سی ہوگئی۔ ہونٹوں کو مضبوطی سے بھینچتے ہوئے اُ س نے ایک نظر گود میں پڑے اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالی اور دوسری میز پر رکھے برتنوں پر۔
سچی بات ہے سانپ کے منہ میں چھچھوندر والی بات ہوگئی کہ اُگلے بنے اور نہ نکلے۔
تب اُس نے چپکے سے اپنے آپ سے کہا۔
میں خود کو کبھی ان کلچرڈ نہیں کہلواؤں گی۔ اب یہ کس قدر سُبکی والی بات ہے کہ میں اگر یہ کہوں کہ مجھے چائے بنانے اور پیش کرنے کے ایٹی کیٹس کا علم نہیں۔ اب اس میں میرا بھی بھلاکیا قصورہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں کبھی ایسے چائے بنی ہی نہیں۔ ہم لوگ تو کھولتے پانی میں چینی پتی اور دودھ سبھی کچھ ڈال دیتے ہیں۔ جب تینوں چیزیں پکتے پکتے بے حال ہو جاتی ہیں تب دیگچی کو چولہے سے اُتار کر پیالیوں میں ڈالتے ہیں اور وہیں باورچی خانے میں بیٹھ کر سڑ پ سٹرپ کرتے ہوئے پی لیتے ہیں۔ کسی گھر میں جو بطور ِ مہمان پی بھی تو مجھے یہ قطعی یاد نہیں کہ پہلے کون سی چیز کپوں میں ڈالی گئی۔
اور یہ شخص جو اِس خوبصورت ماحول میں بُہت اُونچی شے لگ رہا ہے میرے بارے میں کیا سوچے گا کہ میں کتنے بیک وَرڈ گھرانے سے ہوں۔
”سو میں چائے ہرگز نہیں بناؤں گی۔“
اُس کا اندر اُس کے چہرے پر رقم ہو رہا تھا اور وہ جہاں دیدہ شخصیت اُسے پڑھ رہی تھی۔
پھر اُس نے مسکراتے ہوئے برتن اپنی طرف کھینچے اور دھیمے سے بولا۔
”تو آپ چائے نہیں بنا ئیں گی۔“
اُس نے صبیحہ کو دیکھا اُ س کی نظروں میں ایک التجا تھی۔
”بتائیے چینی کتنی؟“
دو خوبصورت کشش سے لبالب بھری آنکھیں اُسے تک رہی تھیں۔
”جتنی آپ کا جی چاہے۔“ اُ س نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے قدرے شوخی سے کہا۔
” بُہت خوب۔“
اُس کا مُسکراتا چہرہ یہ بتاتا تھاکہ اُ س نے اِس جواب کو پسند کیا ہے اور جب اُس نے دودھ دان اُٹھایا تو ایک بار پھر اُسے دیکھا اور اِسی شگفتہ انداز میں بولا۔
”میرا خیال ہے دودھ بھی مجھے اپنی مرضی سے ڈالناہوگا۔“
”جی۔ ہاں۔ آخر آپ کی پسندکی چائے پینے میں ہرج ہی کیا ہے؟“
اِس بار جواب صبیحہ نے دیا تھا۔
اور جب اُس نے کپ لبوں سے لگایا اُس سے پوچھا گیا کہ اُس کے والدکیا کام کرتے ہیں۔
”فوج میں میجر ہیں۔“
اُس نے اعتمادسے گردن اُوپر اُٹھائی اور جواب دیا۔
اور عین اُسی وقت ضمیر نے بھی لعن طعن کا سلسلہ شروع کر دیا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *