جیسل کلاسرہ کا رؤف کلاسرہ: عرفان اعوان

روف کلاسرہ اپنے سرائیکی لب و لہجے  ، بے باک تحریروں اور غیرجانبدارانہ تجزیوں کی وجہ سے جہاں جہاں تک مشہور ہیں وہاں تک انہوں نے لیہ اور اپنی آبائی بستی جیسل کلاسرہ کو برابر پہچان دی ہے۔
میرا لیہ میں سماجی تنظیم عوامی کے روح رواں اپنے تعلق داروں مہرطفیل لوہانچ،مہرزبیر کے پاس آنا جانا لگا رہتا تو ہر بار پوچھتا تھا کہ جیسل کلاسرہ کدھر ہے اور وہ بتاتے کہ یہاں قریب ہی ہے لیکن ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے جانا نہ ہو پاتا تھا لیکن دل میں شروع سے ہی ایک حسرت تھی کہ روف کلاسرہ کی خوابوں کی رانی بستی جیسل کلاسرہ کو ایک بار ضرور وزٹ کرنا ہے۔روف کلاسرہ کے بھانجے منصور کلاسرہ سے سوشل میڈیا پر پچھلے سال دوستی ہوئی تو پکا ارادہ کیا کہ اس بار ضرور جانا ہے اور خورشید بی بی وسیب لائبریری کو دیکھنا ہے۔
اس سال جنوری میں مہرصاحب کے پاس جانا ہوا تو منصور سے رابطہ ہوا انہوں نے ایڈریس بتایا کہ لائبریری پہنچیں وہاں ملاقات ہوتی ہے۔لائبریری کے صحن میں ترتیب سے رکھی ہوئی کرسیوں اور خالص دیہاتی انداز میں پڑی چارپائیاں بالکل ویسے ہی تھیں جیسے جنوبی پنجاب کے کسی بھی گاوں میں ہوتی ہیں۔ہم پینڈو لوگ وہاں بیٹھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں جہاں ہمیں پینڈو ماحول ملے اور ایسا ہی ماحول ہمیں جیسل کلاسرہ بستی کے باہر بنی خورشید بی بی وسیب لائبریری میں ملا تھا تو ہم فوری ایسے گھل مل گئے جیسے صدیوں کی شناسائی ہو۔منصور کلاسرہ اور لائبریری میں موجود دوسرے لوگوں سے گپ شپ کے دوران میں اصل مدعے پر آیا اور پوچھا کہ روف کلاسرہ اپنی تحریروں میں تو جیسل کلاسرہ اور میانوالی ملتان روڈ کا بہت ذکر کرتے ہیں لیکن کیا وہ یہاں آتے بھی ہیں، آپ لوگوں سے ملتے ہیں، یہاں کی غریب مظلوم عوام کیلئے کچھ کرتے ہیں اور جیسل کلاسرہ کی ڈویلپمنٹ کیلئے بھی کبھی آواز اٹھائی ہے یا نہیں؟۔منصوراور دوسرے دوستوں نے بتانا شروع کیا کہ بستی میں بوائز اینڈگرلز ماڈل سکولز، ڈسپنسری،سیوریج، پختہ سڑکیں،تیس سے چالیس بیواوں کے گھر ماہانہ راشن، ضرورتمند کسانوں کیلئے بلاسود قرضے،دنیابھر کی کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری  اور غریب سٹوڈنٹس کیلئے سکالرشپ سمیت بہت سے فلاحی کام مسلسل جاری ہیں۔وہ کام گنواتے جارہے تھے اور میں حیران تھا کہ ایک چھوٹی سی بستی کو کیسے ایک شخص کی کوششوں اور وژن سے ماڈل بنایا گیا ہے جبکہ اس طرح کے عوامی کام تو حکومتی عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی اپنے گاوں کیلئے نہیں کرسکتے ہیں۔
منصور نے باتوں باتوں میں بتایا کہ میں نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اسلام آباد میں ریسرچر کیلئے اپلائی کیا تو انٹرویو کے دوران ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ظفرالطاف نے میرے دیہاتی سرائیکی لہجے کی وجہ سے پوچھ لیا کہ آپ لیہ جیسل کلاسرہ سے ہو تو روف کلاسرہ کو جانتے ہوگے۔میں نے بتایا کہ وہ میرے ماموں ہیں۔انٹرویو کے بعد جب ماموں کے گھر گیا تو انہوں نے پوچھا کہ انٹرویو کیسا ہوا تو میں نے بتایا کہ انٹرویو لینے والے نے آپ کا نام پوچھا تو میں نے بتادیا کہ وہ میرے ماموں ہیں۔اس بات پر روف کلاسرہ ناراض ہوئے اور کہا کہ ڈاکٹر ظفرالطاف میرے دوست ہیں آپ کو میرا ریفرنس نہیں دینا چاہیے تھاکیونکہ آپ کی جاب ہوگئی تو جاننے والے کہیں گے کہ روف کلاسرہ نے دوستی کی وجہ سے نوکری کرالی۔اس کے کچھ دن بعد مجھے جوائننگ کال آگئی لیکن میں نے ماموں کے کہنے پر جوائننگ نہ دی  اور کال کرنے والے کو کہا کہ میری کسی اور جگہ جاب ہوگئی ہے اس لئے میں جوائن نہیں کرسکتا۔آج کل منصور کلاسرہ بستی جیسل میں لائبریری کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ایک سکول چلا رہے ہیں اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر یہ جوان اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ منصور اور بستی والوں کی زبانی روف کلاسرہ کی خدمات کو سُن اور دیکھ کر یقین ہوا کہ روف کلاسرہ اپنے گھر سے کتنا پیار کرتے ہیں اور وہ چاہے لندن،امریکہ میں رہیں یا اسلام آباد میں لیکن وہ اپنی ذاتی حیثیت میں جتنا کچھ کرسکتے تھے وہ کررہے ہیں اور یہ تمام کام ایسے ہیں جو صدقہ جاریہ ہیں۔وہ جیسل کلاسرہ میں بلاتفریق خدمت کرہے ہیں اور ان تما م کاموں کا کبھی ذکر بھی نہیں کیاکیونکہ ان کا مقصداپنی بستی اور یہاں کے مکینوں کی فلاح ہے۔
روف کلاسرہ کے صحافتی کیریر میں آج تک ان پرکسی قسم کا الزام نہیں سنا،تمام حلقوں میں معتبر مانے جاتے ہیں اور خاص طور پر لیہ میں کسی قسم کے سیاسی، علاقائی جھگڑے، تھانے کچہری سے بالکل دور ہیں۔عید الفطر کے موقع پر جیسل کلاسرہ میں منصور وغیرہ کی زمین پر گاوں کے چند لوگوں نے قبضہ کرلیا جس پر منصور نے تھانے میں درخواست دی اورایف آئی آر درج کرائی۔قبضہ کرنیوالوں نے فوری طور پر روف کلاسرہ الزام لگادیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ روف کلاسرہ پر الزام لگانے سے انہیں سستی شہرت ملنے کے ساتھ ساتھ روف کلاسرہ سے جیلسی رکھنے والے صحافیوں اور طوفان بدتمیزی مچانے والے سوشل میڈیا کے ارسطووں کو بولنے کا موقع ملے گا اور پھر ایسا ہی ہوا جس کا دل چاہا پگڑی اچھالنا شروع کردی لیکن حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔اب روف کلاسرہ کے عزیز اپنی ذاتی قیمتی زرعی اراضی صرف اس وجہ سے تو نہیں چھوڑ سکتے کہ کسی بھی جھگڑے یا تھانے کچہری کی وجہ سے الزام روف کلاسرہ پر آئے گا۔یاد رہے اس سے پہلے روف کلاسرہ کے بھائی اپنی قیمتی ڈھائی کنال اراضی چھوڑ چکے ہیں اور روف کلاسرہ کے روکنے پر قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی ہے کیونکہ روف کلاسرہ کا کہنا ہے کہ جتنا آدمی مشہور ہوجاتا ہے اسے اتنی ہی احتیاط کرنا پڑتی ہے کہ کہیں جانے انجانے میں کسی سے زیادتی نہ ہوجائے۔روف کلاسرہ اس لئے قربانی دے رہا تھا کہ بستی کا نام خراب نہ ہو، امن تباہ نہ ہو، نوجوان نسل لڑائیوں میں نہ پڑے لیکن کسی کی شرافت سے یوں کھیلنا  انتہائی شرمناک ہے۔
روف کلاسرہ کو اللہ نے عزت دی ہے اور چند شرپسند رشتہ دار نما دشمنوں کے برا چاہنے سے ان کی عزت کم نہیں ہوگی اور جیسل کلاسرہ کے مکینوں سمیت پورا پاکستان جانتا ہے کہ روف کلاسرہ نے آج تک کسی کی جائز سفارش بھی نہیں کی۔وہی منصور جسے روف کلاسرہ نے صرف اس وجہ سے میرٹ پر کی گئی بھرتی کے بعد جوائننگ کرنے سے روک دیا کہ لوگ کہیں گے کہ ڈاکٹر ظفرالطاف سے دوستی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے آج منصور کی زمین پر جب قبضہ مافیا نے قبضہ کیا ہے تو یہ بھونڈا الزام لگایا جارہا ہے کہ روف کلاسرہ بدمعاشی کررہا ہے اور کسی کا حق مار رہا ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔پولیس نے موقع پر جاکر اور تحقیق کرکے زمین پر قبضہ کرنیوالوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور آخری اطلاعات تک عدالت نے جب زمین کے تمام کاغذات و ثبوت دیکھے ہیں تو قبضہ مافیا کے سرغنہ کی ضمانت کی بجائے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔اگر روف کلاسرہ کی سفارشیں چل رہی ہوتیں تو اب تک لیہ ڈویژن بن چکا ہوتا۔بڑے آدمی کا صبر بھی بڑا ہوتا ہے لیکن وہ صرف اپنی حد تک برداشت کرسکتا ہے،جب اس کا نام استعمال کرکے آپ اس کے رشتہ داروں کا حق مارنے کی کوشش کروگے تو اس کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگا لیکن ٹھنڈے مزاج کے روف کلاسرہ پھر بھی کوشش کریں گے کہ انہی قبضہ مافیا کے بچوں کے مستقبل کیلئے کوششیں کرتے رہیں، یونیورسٹیوں میں داخلے دلواتے رہیں اور لڑائی جھگڑوں پر ان کی ضماتیں دیتے رہیں کیونکہ بڑے آدمی کا دل بھی بڑا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا کے ارسطو اپنی جھوٹی انا کی تسکین کیلئے الزامات کی بارش کرنے کی بجائے ایک بار جیسل کلاسرہ کا وزٹ کریں اور جاکر لوگوں سے پوچھیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ روف کلاسرہ کی کوششوں سے جیسل کلاسرہ کیسے ماڈل بستی بنی ہے۔

عرفان اعوان
عرفان اعوان
گھٹن زدہ معاشرے میں جینے کی تمنا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *