یہ دھواں سا۔۔۔ سلیم مرزا

بیگم کا خیال تھا کہ “براق ” بجلی سے چلنے والے گھوڑے کو کہتے ہیں جو پرانے زمانوں میں اتنی ہی آسانی سے دستیاب تھا ۔جتنی آسانی سے آجکل بیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ پہ ھنڈا کی الیکٹرک کار مل جاتی ھے،
میں نے اسے سمجھایا بھی کہ براق ایک مقدس سواری ھے جسے بچوں کی کہانیوں میں استعمال کرنے سے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے ۔
لیکن تب تک وہ پوسٹ پبلک کر چکی تھی ۔شکر ہے کسی نے متنازعہ کمنٹ نہیں کیا ۔بچوں کی کہانی تھی ۔بچ بچا گئی کہ اب لوگ باشعور ہوچکے ہیں ۔ایک ہمارا بچپن تھا
سارے کا سارا ماحول ہی ابنارمل ۔
پینٹنگ میری فطرت کا حصہ تھی ۔مگر ان دنوں تو اخبار تک بلیک اینڈ وائٹ ہوتے تھے ۔
ہوش سنبھالتے ہی جن ایمان افروز تصاویر پہ نظر پڑھی ، وہ کیلنڈر تھے جو آٹھ آنے میں ہر فٹ پاتھ پہ دستیاب تھے ۔
ان تصویروں میں ایک عورت ڈوبتی کشتی پہ کھڑی دعا کر رہی ہوتی ۔بیک گراؤنڈ میں نورانی ھالہ لئےایک تسبیح پکڑے بزرگ سٹیزن پورٹل پہ دعا ئیں قبول کررہے ہوتے ۔
نیچے شعر لکھا ہوتا ۔
” لے یارھویں والے دا ناں
ڈبی ہوئی تر جائے گی ”
پھر ضیاء الحق کے ایمان افروز دور میں بھی وہ ہوشربا کلینڈر دیکھے جن میں شیر اور ہرنی ایک ہی بیچ پہ بغیر بکنی پہنے پانی پی رہے ہوتے،
یا پھر شاہ فیصل کے بھتیجے کا سر قلم ہو رہا ہوتا اور وہ بیک گراؤنڈ میں سر پہ “پیڑھی “باندھے جنتوں میں مسکرا رہے ہوتے ۔
انہی کیلنڈروں میں ایک کلینڈر براق والا بھی تھا ۔
ایک گھوڑی جس کا منہ عورت کا ہوتا، اسکے دو پر بھی ہوتے ۔اس “مینیمل “کو براق کہا جاتا تھا ۔
لہذا براق سے میری عقیدت سراسر مذہبی بنیادوں پہ ہے ۔
اب گھر میں مشکل یہ ھے کہ جب سے خاتون خانہ نے لکھنا شروع کیا ھے،
وہ سمجھنے لگی ہے کہ مجھے لکھنا نہیں آتا اور یار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیگم کی تحریریں میں لکھتاہوں ۔بیگم کا خیال ہے کہ چند شہر گھوم گھام کر کچھ شرپسند اکٹھے کئے ہیں ۔جو میری ھر پوسٹ پہ واہ واہ کرتے ہیں اور میں ان کی ۔ویسے بھی سچی بات تو یہ ھے کہ میں بھی کمنٹس اور لائکس کیلئے ہی تو لکھتا ہوں ۔فیس بک کے اسٹیج پہ پرفارم کرنے پہ صرف داد ہی تو ملتی ھے۔
لائکس اور کمنٹ ہی تو آپ کی فنی حثیت کا تعین کرتے ہیں ۔مگر برا ہو اس ریٹنگ کا ، لائک اور کمنٹ کی دوڑ میں میں جو فاصلہ میں نے چار سال میں طے کیا تھا ۔بیگم وہ چار ہفتوں میں کراس کر گئیں ۔ ۔آپ کی محبتوں کے طفیل اب میں گھر میں دوسرے درجے کا لکھاری ہوں ۔
یہ سب صرف آپ کی ریشہ دوانیوں اور محبتوں کا نتیجہ ھے کہ اب مجھے ان کے لکھے ایک لفظ کو بد لوانے کیلئے بھی تین گھنٹے سمجھانا پڑتا ہے ۔اور اگر وہ مان بھی جائیں تو ایسے ہی مانتی ہے جیسے خواتین مانتی ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *