جنگِ عظیم ۔ سلطنتِ عثمانیہ (8)۔۔وہارا امباکر

سرائیوو میں ہیبسبرگ سلطنت کے ولی عہد کو 28 جون 1914 میں ایک سرب قوم پرست نے قتل کر دیا۔ آسٹریا نے 28 جولائی کو سربیا سے اعلانِ جنگ کر دیا۔ روس نے 31 جولائی کو فوج متحرک کرنے کا اعلان کر دیا۔ جرمنی نے یکم اگست کو روس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ 2 اگست کو جرمنی نے لگزمبرگ پر فوج کشی کر دی اور 3 اگست کو فرانس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ جرمنی کی افواج 4 اگست کو بلجیم میں داخل ہو گئیں اور اسی روز برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی سلطنت نے سفارت کاری سے معاہدہ کیا کہ اگر روس آسٹریا اور سربیا کے جھگڑے میں پڑا اور جرمنی کو اپنے اتحادی کا ساتھ دینا پڑا تو عثمانی جرمنوں کو سپورٹ کریں گے اور عثمانیوں پر حملے کی صورت میں جرمنی دفاع میں مدد کرے گا۔ عثمانی اس جنگ میں غیرجانبدار رہیں گے لیکن کسی بھی جنگ کے لئے تیار رہیں گے۔

اس وقت تک عثمانی سلطنت اب آئینی بادشاہت تھی جبکہ حکومتی امور کے حوالے سے عملی طور پر انور پاشا کی قیادت میں سی یو پی پارٹی کی سنگل پارٹی آمریت بن چکی تھی۔ انور پاشا برلن میں دو سال ملٹری اتاشی رہے تھے اور جرمنوں سے اچھے تعلقات رکھتے تھے۔ جرمن عثمانیوں کے ساتھ بڑی سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ برلن بغداد ریلوے لائن تعمیر ہوئی تھی۔ انشورنس کمپنیوں، بینک، بندرگاہ، ریلوے میں ان کا حصہ تھا۔ عثمانی برطانیہ کی خلیج میں مداخلت سے خائف تھے۔ عثمانی بحریہ نے برطانیہ سے دو جنگی جہاز خریدے تھے جن کی قیمت ادا کی جا چکی تھی اور وہ تیار ہونے کے قریب تھے۔ چرچل نے اس آرڈر کو روک دیا۔ عثمانیوں نے یورپیوں سے کئے گئے تجارتی معاہدے یک طرفہ طور پر منسوخ کر دئے۔

عثمانیوں نے 29 اکتوبر کو روسی بندرگاہوں پر حملہ کیا اور کئی روسی جنگی جہاز غرق کر دئے۔ اس ایکشن نے عثمانیوں کی قسمت پر مہر لگا دی۔ روس نے 2 نومبر کو اعلانِ جنگ کر دیا۔ برطانیہ اور فرانس نے 5 نومبر کو۔ سلطان مہمت پنجم نے 11 نومبر 1914 کو اعلان کر دیا کہ وہ برطانیہ، فرانس اور روس سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس سے دو روز بعد توپکاپی محل میں تقریب میں جہاد کا اعلان کیا گیا۔ اس تقریب میں پانچ مفتی تھے جنہوں نے اس فتوے سے اتفاق کیا۔ اعلانِ جہاد تمام امتِ مسلمہ کی طرف سے کیا گیا۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جن پر برطانیہ، فرانس اور روس کی کالونیاں تھیں، وہاں مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ کافر حکمرانوں کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ عربوں میں اس فتوے کے حق میں کچھ حمایت رہی لیکن اہم افراد کی طرف سے سپورٹ نہیں ملی۔ ان میں سے ایک شریفِ مکہ تھے جن کا کہنا تھا کہ اگر برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی گئی تو اس کا نتیجہ حجاز پر بمباری کی صورت میں نکل سکتا ہے کیونکہ مصر اور بحیرہ عرب برطانوی کنٹرول میں ہے۔ باقی اسلامی دنیا سے بھی جواب سردمہری کا رہا۔ مصر اور ہندوستان میں برطانوی حکومت نے مقامی علماء سے فتوے حاصل کر لئے کہ برٹش حکومت کا حکم ماننا ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ جہاد کی اپیل ان سنی کر دی گئی بلکہ برٹش سرکار کو فوجی بھرتی میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ بغداد، شام اور فلسطین پر قبضہ کرنے والی فوج میں دو تہائی فوجی ہندستان سے تعلق رکھتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استبول سے جنگ کے میدانوں کے بیچ میں بڑا فاصلہ تھا۔ مواصلات میں پچھلے پچاس برس میں بہتری آئی تھی لیکن سڑک اور ریل کا نیٹ ورک جنگی ضروریات کے لئے ناکافی تھا۔ استبول سے شام تک فوج کو پہنچتے ایک ماہ لگتا تھا۔ میسوپوٹیمیا (عراق) پہنچتے ہوئے دو ماہ۔ ریلوے بن رہی تھی لیکن سسٹم میں گیپ تھے۔ دستے اور رسد کِشتی، ٹرک اور اونٹوں پر ملکر پہنچتی تھی۔ روس کی سرحد تک پہنچنا بھی ویسا ہی مشکل تھا۔ انقرہ سے صرف ساٹھ کلومیٹر آگے تک ٹرین جاتی تھی۔ اس مقام سے آگے ارضِ روم تک 35 دن کا مارچ تھا۔ سڑکوں کی حالت خراب تھی۔ سمندروں پر بحیرہ روم میں برطانوی بحریہ کی بالادستی تھی اور بحیرہ اسود میں روس کی۔ عثمانی سلطنت بڑی تعداد میں لڑنے والے سپاہی تو اکٹھے کر سکتی تھی لیکن جنگ کرنے کی اہلیت کا فقدان تھا۔ ایک زرعی ریاست نے صنعتی دور کی جنگ میں چھلانگ لگا دی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *