عالم عرب کا پہلا خطیب “قس بن ساعدہ الایادی”۔۔منصور ندیم

عرب کا معروف خطیب ’’ قس بن ساعدہ الایادی‘‘  ایک خاکستری اونٹ پر سوار جیسے ہی عطاظ کے میلے میں داخل ہوئے ایک غلغلہ مچ گیا، تمام قبائل ہی اسے سننے کے لئے دور دور سے آتے تھے ، ویسے بھی سال بھر کے یہی چار مہینے تو تھے،  جب عرب میں دور دراز سے شرکت کے لیے آنے والے قافلوں کے لیے امن وامان کے ساتھ ان اسواق (میلوں) میں شمولیت اور پھر اطمینان کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں واپسی کو ممکن بنایا گیا تھا ۔ ذی قعدہ ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ان ہی چار مہینوں کو اسلام سے قبل بھی، عرب میں حرمت والے مہینے کا درجہ حاصل تھا۔ ان میں جنگ اور غارت گری روک دی جاتی تھی اور مکمل امن وامان کی فضا برقرار رکھی جاتی ، اسلام نے بھی اس حرمت کو برقرا ررکھا۔

قس بن ساعدہ دین حنیف کا پیروکار ، نجران کا پادری اور جنگوں کا خطیب، قاضی اور حکیم کی حیثیت سے مشہور تھا، یہ اللہ پر ایمان بھی رکھتا تھا  اور لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ سبیل اللہ کی دعوت دیتا تھا، قس بن ساعدہ علی الاعلان توحید کو اصل دین کہتے تھے اور مشرکین کے مذہب سے اپنی بے تعلقی کا صاف صاف اظہار کرتے تھے۔سوق (میلہ) عکاظ میں قس بن ساعدہ  نے اپنے خطبے کا آغازیوں  کیا ۔

أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَعُوا، إنَّهُ مَنْ عَاشَ مَات، وَمَنْ مَاتَ فَات، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آت، لَيْلٌ دَاج ، وَنَهَارٌ سَاْج ، وَسَماءٌ ذَاتُ أبْرَاجٍ ، وَنُجُومٌ تَزْهَر ، وَبِحَارٌ تَزْخَر ..، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرا، وإِنَّ فِي الأرضِ لَعِبَرا . مَا بَاْلُ النَّاسِ يَذْهبُونَ وَلاَ يَرْجِعُون ؟ ‍ أرَضُوا بِالمُقَامِ فَأَقَامُوا، أمْ تُرِكُوا هُنَاك فَنَامُوا ؟ يَا مَعْشَرَ إيَاد : أيْنَ الآبَاءُ والأجْدَادُ ؟ وأيْنَ الفَرَاعِنَةُ الشِّدَادُ ؟ أَلَمْ يَكُوْنُوا أكْثَرَ مِنْكُم مَالاً و أطولَ آجالاً .. ؟ طَحَنَهُم الدهْرُ بِكَلْكَلِهِ، ومزَّقَهم بتطاوُلِه.

اے لوگو! سنو اور یاد رکھو ، جو زندہ ہے وہ مرے گا جو مرے گا وہ دنیا سے چلا جائے گا ، جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا ، یہ تاریک رات ، یہ روشن دن ، یہ برجوں والا آسمان ، یہ چمکنے والے تارے ، یہ موجیں مارنے والے سمندر ، یقینا ً آسمان میں کوئی خاص قوت ہے اور زمین میں عبرتیں ہیں ! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ جاتے تو ہیں لیکن واپس نہیں آتے؟ کیا وہ وہاں قیام کرنے پر رضامند ہو گئے ؟ یا پھر چھوڑ کر سو گئے ؟ اے خاندانِ ایاد! کہاں ہیں آبا واجداد کدھر ؟ کہاں ہیں ظالم فراعنہ ؟ (ان لوگوں کا حشر کیا ہوا؟) کیا مال ودولت میں وہ تم سے بڑھ چڑھ کر نہ تھے ؟ کیا ان کی عمریں تمہاری عمروں سے زیادہ لمبی نہیں ہوتی تھیں ؟ زمانے نے سب کو حوادث کی چکی میں پیس ڈالا اور ان کی عظمت کو پارہ پارہ کردیا۔

جس وقت قس بن ساعدہ اپنا وہ مشہور خطبہ دے رہا تھا وہاں محمد بن عبداللہ بھی موجود تھے اور سن رہے تھے، بعد از نبوت انہیں وہ خطبہ یاد رہا تھا اور ایک بار انہوں نے اس کا ذکر یوں کیا کہ :
’’ اللہ قس پر رحم فرمائے ، مجھے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنی ذات میں ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا۔‘‘

“اللہ کا جو دین ہے وہ قس نے اختیار کیا اور اللہ اس سے راضی ہو گیا تھا الحمد للہ کہ تم بھی اسی دین پر چل رہے ہو جس پر قس بن ساعدہ ایادی تھا”
حوالہ :
تاریخ ابن کثیر جلد دوم،  صفحہ 147

اگر عرب کی معلوم تاریخ کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ عالم عرب کا پہلا خطیب قس بن ساعدہ ہے تو غلط نہ ہوگا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے 250 سال قبل تک کے عربوں کا سرمایۂ شعر وسخن ایامِ جاہلیت کی شاعری کہلاتا ہے۔ اس سے پہلے کا لٹریچر میسر نہیں ، تو اس دور میں اہلِ عرب علمی اور فکری اعتبار سے دنیا کی پس ماندہ قوم تصور ہوتے ، وہ علوم وفنون اور تمدن سے بے بہرہ تھے ،لیکن سُخن وری کے میدان میں دنیا کی کوئی قوم ان کی ہم پلّہ نہ تھی ۔ اُنہیں خود بھی اپنی فصیح اللسانی پر بڑا ناز تھا ۔ چنانچہ وہ اپنے مقابلے میں دوسروں کو ژولیدہ بیان سمجھتے اور ’’عجمی‘‘ یعنی گونگا کہتے ۔عربوں کا چونکہ بیرون دنیا سے بہت زیادہ رابطہ نہ تھا ،مخصوص تجارتی اسفار کے علاوہ، اپنے اپنے علاقے اورخطے سے باہر نہ جاتے ،مقامی معاشرت میں ان کے مقامی میلوں کو بڑی اہمیت حاصل تھی ، جن میں ’’مجنہ‘‘ اور ’’ ذوالمجاز‘‘ شہرت کے حامل، جبکہ’’ عُکاظ ‘‘ بین الاقوامی سطح پر معتبر تھا۔

قس بن ساعدہ عرب  قبل از اسلام خطیبانہ روایات میں سے بہت سے امور کا بانی بھی تھا ،جسے بعد از اسلام بھی جاری رکھا گیا ،یہ روایات اسی قُس بن ساعدہ کے عطا کردہ ہیں، جن میں خطیب کے لیے ضروری تھا کہ وہ مؤثر شخصیت ، بلند آواز ، سلیقہ مند ، باوقار اورخوبصورت وضع قطع کا حامل ہو، خطیب سر پر عمامہ اورہاتھ میں لاٹھی ، عصا یا کمان رکھے ، دوران خطبہ تلوار کا سہارا بھی پہکی بار اس نے ہی لیا تھا، اور کسی بلند جگہ یا ٹیلے پر کھڑا ہونا بھی اسی کا طریقہ تھا، تاکہ اس کی آواز دوردراز تک جائے اور لوگ اس کو دیکھ بھی سکیں۔ خطیب کے حُسن کلام کا معیار اس وقت بڑا کڑا تھا، دورانِ کلام کھانسنا ، کھنکارنا ، ادھر اُدھر دیکھنا ، کوئی تکیہ کلام استعمال کرنا ( استعانت اور مدد کامفہوم رکھتا تھا ) جوکہ باعث شرم سمجھا جاتا تھا۔ اسی نے سب سے پہلے اپنے خطبے کے آغاز   میں “اما بعد ” کہنے کی روایت بھی انہوں نے ہی ڈالی۔جنہیں بعد میں اسلام میں بھی تسلسل ملا۔

قس بن ساعدہ کی عکاظ میں کی گئی تقریر کا ایک ٹکڑا، جسے اسد فاطمی نے خط کوفی و حجازی سے متاثر خط میں خشک حیوانی جلد پر کندہ کیا۔

غالباً عہد جاہلیہ کے سب سے بڑے قبایلی حنیف قُس ابن ساعدہ آیادی ہی تھے، ان کا طویل ذکرِ خیر ملتا ہے، ابن قتیبہ نے ان کو آیات اللہ پر ایمان رکھنے والا عرب کا حکم قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کو بعثت سے قبل عکاظ میں ایک سرخ اونٹ پر خطبہ دیتے دیکھا تھا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ان کے قصے بیان کرتے اور اشعار سناتے تھے۔

حوالہ : ( ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، 2/234 )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار فرمائشِ نبوی پر ان کے اشعار سنائے تھے جو عکاظ میں خود ان سے سنے تھے ۔ ” ( کان مقنا بآیات اللہ )، وکان حکم العرب و ذکر رسول اللہ ﷺ انہ راہ یخطب بعکاظ ۔

حوالہ :
ابن قتیبہ، 61
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
ذکر قس بن ساعدہ: وفد بکر بن وائل، بلوغ الارب، 2/244-246)

حافظ ابن کثیر کے مطابق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے قس بن ساعدہ الایادی سے اپنی ملاقات کا ذکر خیر اس وقت کیا تھا جب قوم آیاد کا وفد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تھا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ایک شخص سے پوچھا تھا اور ان کی وفات کی خبر سن کر ارشاد فرمایا تھا اور ان کے کلامِ معجز کا حوالہ دیا تھا۔

حوالہ :  حافظ ابو بکر محمد بن جعفر خرائطی،
کتاب ” ہواتف الجان “۔

ایک اور روایت کے مطابق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عبد القیس کا وفد آیا تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ قس بن ساعدہ ایادی کو کون جانتا ہے؟ سب نے کہا کہ وہ جانتے تھے اور ان کی وفات کی خبر سن کر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے خطبہ کے الفاظ نقل فرمائے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کو یاد ہوگئے تھے، ان میں دین کے لحاظ سے ایک جملہ یہ ہے کہ اللہ کا ایک دین ہے جو تمہارے دین سے زیادہ پسندیدہ ہے”۔ ۔ ۔ ان للہ دینا ھو احب الیہ من دینکم الذی انتم علیہ “۔
ارکان وفد سے اللہ کے رسول نے فرمائش کرکے قس بن ساعدہ کے اشعار بھی سنے تھے۔

حوالہ :
امام طبرانی کی کتاب ” المعجم الکبیر ”
حافظ ابن کثیر
بیہقی کی ” دلائل النبوۃ ”
ابن درستویہ کی ” اخبار قس

ایک روایت میں ہےکہ حضرت جارود بن المعلی العبدی کے وفد میں یہ مکالمہ نبوی ہوا تھا، حضرت جارود نے بتایا تھا کہ وہ اسباطِ عرب میں سے ایک سبط تھے، چھ سو سال کی طویل عمر پائی، فقیری و درویشی میں بسر کی ۔ ۔ ۔ وہ اولین عرب تھے جو توحید الہی کے قائل تھے، عبادت الہی کرتے تھے، آخرت و حساب پر ایمان رکھتے تھے، کفر سے بے زار تھے، حنیفیت کی طرف مائل تھے،
” ۔ ۔ ۔ ۔ وھو اول رجل تالہ من العرب و وحدہ و اقرو تعبدو و ایقن بالبعث و الحساب۔ ۔۔ ۔ وجنب الکفر و شوق الی الحنیفیہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” حضرت جارود عبدی کی تقریر کافی طویل ہے اور عربی ادب کا ایک شاہکار ۔ ۔ ۔ اس پر اسلامی اقدار و تعبیرات کا رنگ پایا جاتا ہے۔

حوالہ:  ابن کثیر، البدایہ النہایہ، صفحات 2/230-237 (بالخصوص حنیفیت کے حوالے کے لیے صفحہ 233)
مولانا شبلی : 1/126 ومابعد، حجۃ اللہ البالغہ، صفحہ 1/277۔

قس بن ساعدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا ، لیکن روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے ان کا انتقال ہوگیا تھا، مگر ان کے مصاحبین اور قبیلے نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔محمد عربی  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے قریبی زمانے میں قس بن ساعدہ الایادی، امیہ بن ابی الصلت، سوید بن عمرو،  ورقہ بن نوفل  اور زید بن عمرو بن نفیل ایسے کئی نام ہیں تاریخ نے جن کے حالات محفوظ رکھے ہیں ان کو حنفاء کہا جاتا تھا۔اور یہ سب حضرات بعثت نبوی سے پہلے دین حنیف پر سچائی سے کاربند تھے ۔

قس بن ساعدہ کا اس سے زیادہ ذکر نہیں ملتا ، مگر معلوم دنیا انہیں عرب کا پہلا خطیب مانتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *