جب سورج ڈھلا ۔ سلطنتِ عثمانیہ (7)۔۔وہاراامباکر

بیسویں صدی کا ابتدائی دور وہ وقت تھا جب دنیا سے بادشاہتوں کا سورج غروب ہو رہا تھا۔ 1905 میں روسی انقلاب نے زار نکولس دوئم کو ہلا دیا تھا۔ یہ انقلاب دھیرے تبدیلی کے حق والے لبرلز کے لئے بھی دھچکا تھا۔ ایران میں قاجار حکمرانوں کو 1905 اور 1906 کے تہران انقلاب کے بعد پہلا تحریری آئین اور منتخب اسمبلی دینا پڑی تھی۔

انہی برسوں میں عثمانی حکومت سے غیرمطمئن لوگوں کی بغاوت عثمانی سلطنت کے دل اناطولیہ میں پھوٹ پڑی۔ یمن میں ایک غیرمقبول جنگ لڑنے کے لئے کی جانے والی جبری بھرتیاں اس کی وجہ رہی۔ یمن جنگ عثمانی خزانے پر بھی بوجھ تھی۔ اس جنگ کو سپورٹ کرنے کے لئے بڑھنے والے ٹیکس بھی غیرمقبولیت کا باعث تھے۔ 1905 سے 1907 تک یہ شورش جاری رہی۔ اس سے اپوزیشن گروپ کو سلطنت میں پہلی بار قدم جمانے کا موقع مل گیا۔

اپوزیشن گروپ کی طرف سے 23 جولائی 1908 کو الٹی میٹم دیا گیا کہ آئین بحال کیا جائے ورنہ استنبول پر چڑھائی کر دی جائے گی۔ سلطان عبدالحمید نے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ کو برطرف کر دیا اور ایک فرمان کے تحت 24 جولائی کو آئین بحال کر کے انتخابات کا اعلان کر دیا۔ سلطنت کے طول و عرض میں یہ خبر جوش و خروش کے مناظر کا باعث بنی۔ اور یوں ترکی کا دوسرا آئینی دور شروع ہوا۔

اکتوبر 1908 کو عثمانی سلطنت کو مزید علاقے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بلغاریہ کے عثمانی علاقے نے اعلانِ آزادی کر دیا۔ آسٹریا ہنگری سلطنت نے بوسنیا ہرزیگووینا کو ضم کر لیا اور کریٹ نے گریس کے ساتھ اپنے الحاق کا اعلان کر دیا۔

دسمبر 1908 میں انتخابات ہوئے۔ اپوزیشن کی سی یو پی نے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور حکومت بنائی۔ مسائل ویسے ہی رہے (وہ بس ایسے ہی تو کبھی بھی حل نہیں ہوا کرتے)۔ پارلیمنٹ میں لبرل اپوزیشن نے سی یو پی حکومت پر نااہلی اور عوام کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ جبکہ دوسری طرف قدامت پرست مسلم یونین کا اخبار مسلمانوں کو سی یو پی حکومت کے خلاف اکساتا رہا۔ حکومت بننے کے تین ماہ بعد فوج میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ 31 مارچ 1909 کو فرسٹ آرمی اور تھرڈ آرمی کے جوان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ بغاوت کرنے والے فوجی جوانوں کا مطالبہ اسلامی نظام کی واپسی تھا۔ 13 اپریل کو یہ معاملہ طے ہو گیا۔ حکومت مستعفی ہو گئی۔ باغیوں کو معافی دے دی گئی۔ سلطان نے شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ سلطان عبدالحمید کو واپس تمام اختیارات مل گئے۔

اقتدار کی اس جنگ میں اگلا موڑ چند روز بعد ہی آ گیا۔ 27 اپریل کو فوجی سنگینیں لئے شاہی محل میں داخل ہو چکے تھے۔ عارف حکمت پاشا، اسد پاشا اور کراسو آفندی نے اعلان کیا کہ سلطان کو عوام نے برطرف کر دیا ہے۔ آئین میں سلطان کی برطرفی کا طریقہ نہیں تھا۔ اس برطرفی کو قانونی جواز دینے کے لئے شیخ الاسلام سے مدد لی گئی۔ جنہوں نے فتویٰ دیا کہ سلطان اپنے عہدے کے اہل نہیں رہے۔ اگلا سلطان عبدالحمید کے بھائی رشید کو بنا دیا گیا۔

نئے سلطان نے اپنے اختیارات میں کمی کا وعدہ کیا۔ پارلیمنٹ کی بحالی ہوئی لیکن بحالی سے پہلے ہی اس کو دھچکا لگا۔ آرمی کے سربراہ محمود شوکت پاشا نے مارشل لاء لگا دیا۔

اگلے سال طاقت کی رسہ کشی کے تھے۔ آرمی چیف محمود شوکت پاشا کا کہنا تھا کہ ان سیاسی تبدیلیوں سے آرمی کو الگ رکھا جائے اور آرمی آئین کے یا سول حکومت کے زیرِ نگیں نہیں آئے گی۔ محمود شوکت پاشا کو وزیرِ دفاع بنا دیا گیا۔ جب 1910 کا بجٹ بنانے کا وقت آیا تو مالیاتی مصائب کا سامنا تھا۔ محمود پاشا نے عسکری بجٹ پر کسی بھی قسم کی کٹوتی کو ماننے سے انکار کر دیا۔ جب زور دیا گیا کہ آرمی کے سینیئر عہدیداران پر سرکاری عہدوں کی وجہ سے دولتمند ہونے کے الزامات ہیں۔ کم از کم فوج اپنے اخراجات کی پڑتال تو کروائے۔ محمود پاشا نے اس تجویز کو بھی بلاک کر دیا۔

سی یو پی نہ ہی فوج کو اور نہ ہی سیاست کو کنٹرول کر پا رہی تھی۔ ان پر عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے، لبرل اور قدامت پرست حکومت مخالف صحافیوں کو قتل کروانے، آہنی ہاتھوں سے لوگوں کو نمٹنے کے الزامات تھے۔ جولائی 1912 میں سلطان نے فوج کے مشورے پر اسمبلی پھر تحلیل کر دی اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے ہی بلقان میں جنگ چھڑ گئی اور انتخابات اگلے ایک برس بعد منعقد ہوئے۔

اندرونی طور پر عثمانیوں کو البانیہ میں مسئلہ تھا جہاں کیپٹین احمد نیازی کی قیادت میں خودمختاری کی تحریک جاری تھی۔ البانوی زبان کو لاطینی رسم الخط میں لکھنے سے روکے جانا ان کے لئے اہم مسئلہ تھا۔ عرب صوبوں میں عرب شناخت پر فخر ابھر رہا تھا۔ عثمانیوں کی مرکزیت کی پالیسی عربوں کو قابلِ قبول نہیں رہی تھی۔ عربوں کے لئے فلاحین کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا جو تضحیک آمیز تھا۔

اٹلی ایک متحد ملک بن چکا تھا اور فرانس کے ساتھ اس کی لڑائی لیبیا میں چھلک آئی تھی۔ 1912 میں لیبیا عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل کر اٹلی کے پاس چلا گیا۔ یمن کی جنگ بمشکل سمٹی ہی تھی کہ بلقان کے تنازعے نے آن لیا۔ پہلی بلقان جنگ اکتوبر 1912 میں چھڑ گئی۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے امن معاہدے کی شرائط ذلت آمیز تھیں۔ ان کو تسلیم کرنے کے غصے میں 23 جنوری 1913 کو فوجی دستوں کی قیادت میں انور پاشا نے کابینہ چیمبر میں آ کر جنگ کے وزیر کو قتل کر دیا اور وزیرِ اعظم سے جبری استعفیٰ لے لیا۔اس کے بعد سلطان کے پاس گئے اور آرمی کے سربراہ شوکت پاشا کو وزیرِاعظم بنوا دیا۔ امن معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔ جنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ مارچ میں انہی شرائط پر معاہدہ کرنا پڑا اور اردنہ کا علاقہ بلغاریہ کے حوالے کرنا پڑا۔

شوکت محمود پاشا کو جون میں قتل کر دیا گیا۔ ان کو قتل کرنے والے بارہ لوگوں کو پھانسی دے دی گئی۔ دوسری بلقان جنگ میں انور پاشا کی قیادت میں اردنہ کا شہر واپس لے لیا گیا اور یہ آج کے ترکی کی مغربی سرحد ہے۔ ان جنگوں میں البانیہ، مقدونیہ اور تھریس کے علاقوں کا نقصان عثمانیوں کے لئے بڑا نقصان تھا۔ یہ علاقے ان کے پاس چودہویں صدی سے تھے۔

عرب علیحدگی پسندوں کا مسئلہ سنگین ہو رہا تھا۔ اس کے لئے استبول حکومت نے عرب مطالبات تسلیم کئے۔ عربی کو عرب صوبوں میں سرکاری زبان کے طور پر استعمال کی اجازت مل گئی۔ اس سے پہلے ملک کو یکجا کرنے کی ایک کوشش پوری سلطنت میں صرف ترکی زبان کا نفاذ تھا۔ اس حکم کو واپس لے لیا گیا۔ ایک اور تجویز یہ آئی کہ ملک کا دارالحکومت استبول سے عرب علاقوں کی طرف لے جایا جائے۔ بغداد یا حلب میں منتقل کر دیا جائے۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ لیبیا کی اٹلی سے حفاظت نہ کر سکنے کی اہلیت نے عربوں کے ترکوں کی اہلیت پر سوال اٹھائے تھے۔

سلطان عبدالحمید کو اپنے آخری دن گزارنے کے لئے باسفورس کے محل لے جایا گیا۔ یہ الگ تھلگ قیدِ تنہائی نہیں تھی۔ اپنے محل سے وہ اپنے سامنے تیزی سے بدلتی دنیا کو دیکھ سکتے تھے۔

اور یہ دنیا بہت تیزی سے بدلنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر میں حج کے سالانہ موقعے پر ہونے والے تہوار کی۔ یہ رسم 1870 سے شروع ہوئی اور 1919 تک جاری رہی۔ حاجیوں کے پہلے قافلے کے ساتھ تحائف بھی ساتھ بھیجے جاتے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *