سائنس کی اساس قرآن کریم ہے ۔۔قاضی محمد حارث

قرآن کریم وہ عظیم و بر تر و مبسوط کتاب ہے جو علم کا خزانہ اور منبع ہے اور انسان کی راہنماِئی کرتی ہےاور یہ ہر قسم کے علم کی اساس ہے۔اس مضمون میں اسی نقطے کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ علم کی زیادتی کے لئے دعا کرتے رہو اور دعا سکھائی ہے کہ”اے پروردگارمیرے علم میں اضافہ فرما :”۔ {115:20}قرآن کریم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں علم کو بڑھانے کی دعاسکھائی گئی ہے۔

علم ایک جامع لفظ ہے، جس میں ہر قسم کا علم آتا ہے اس میں دین اور دنیا کی تخصیص نہیں۔ اس کو انسان نے اپنے مفاد کی خاطر بانٹا ہے اور اسے دینی یا دنیاوی بنا دیا ،حالانکہ علم دینی اور دنیاوی نہیں۔ یہ تو بس علم ہے اوراس کی اساس دین ہی ہے اس لئے ہر قسم کا علم دینی ہے۔دونوں کا اصل ایک ہی ہے اور وہ ہے قرآن کریم۔مظاہرکائنات کا مطالعہ یا ان کی کھوج لگانا دنیاوی نہیں دینی ہے بلکہ اصل دین تو ہے ہی یہ کہ اس کائنات کی کھوج لگا کر بنی نوع انسان کی زندگی کو آسان بنایا جائے ،لیکن انسان اپنے مخصوص اغراض و مقاصد کے حصول کی خاطر علم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے،اور اسے 1۔ علم الادیان اور 2۔ علم الابدان کا نام دیتا ہے ۔{ بعض لوگ اس کو صرف میڈیکل کی حد تک محدود کردیتے ہیں جبکہ اس سے مراد مادی دنیا کے تمام مروجہ علوم و فنون ہیں}۔

عوام الناس کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ علم الادیان کا حصول اجر و ثواب کا موجب ہے جبکہ علم الابدان{علم الامادیت} مذہب اور روحانیت سے دور لے جاتا ہے ۔ ان سب حضرات سے کاش کوئی یہ پوچھے کہ وہ جو رسول پاک ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی کہ ” علم حاصل کرو خواہ تمہیں سمندر کی گہرائیوں میں جانا پڑے۔ بحارلانوار 71/277 { امام جعفر صادق } اور ” علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ” { 220 سنن ابن ماجہ }یہ احادیث مبارکہ ظاہر کر رہی ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم علم کو صرف علم سمجھتے تھے اور اس میں تخصیص نہ کرتے تھے۔یہ بھی مشہور واقعہ  ہے کہ غزوہ بدر کے بعد قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ آیا تو قیدیوں سے کہا گیا کہ کہ جو مسلمان بچوں کو علم سکھا دے وہ آزاد ہے ۔ کیا کفار نے مسلمان بچوں کو دین سکھانا تھا ؟یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے پیارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم علم کو تقسیم نہیں کرتے تھے اور اس سے ان کی مراد صرف علم تھی نہ کہ دینی یا دنیاوی۔

یہ دینی یا دنیاوی علم کی تقسیم بعد کی بات ہے جس کی بناپر اسلام کے تمام مکاتب فکر یا فرقوں نے جتنے بھی مدارس یا جامعات قائم کیے ان میں ہر مکتبہ فکر یا فرقہ اپنے نظریات اور خیالات کے مطابق تعلیم دینے لگا اور اس کو دینی تعلیم کا نام دیا اور کسی بھی مدرسہ یا جامعہ کے طالب علم نے کوئی ایجادنہیں کی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب کوئی سائِنسی ایجاد ہوئی ہے مثلاً ذراِئع نقل و حمل ، رسل و رسائل یا آمدورفت کی جدت تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ قرآن کریم میں اس کی پہلے سے خبردے دی گئی تھی ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تم کو علم تھا کہ قرآن کریم میں یہ خبر ہے اور ایساہونا ہی ہونا ہے کیونکہ قرآن کریم کی خبر تو بر حق ہے تو کسی دینی مدرسہ یا جامعہ سے فاغ التحصیل عالم یا فاضل نے اسے پورا کرنے کی کوشش کیوں نہ کی۔یہ ان لوگوں کے ذریعہ کیوں پوری ہوئیں جن کو مسلمان مردود اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔ لا دین کہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام کی حقانیت اللہ تعالی ان کے ذریعہ ثابت کر رہا ہے۔ یاد رہے یہ بھی اللہ تعالیُ کا ہی وعدہ ہے ” من جد اوجدا” جس نے کوشش کی اس نے پا لیااور ” لیس للانسان الا ما سعی” ۔۔۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ { 40:53 }یہاں لفظ انسان آیا ہے مسلم نہیں ۔ خدا تعالی کی سب مخلوق ہیں اور اس کا وعدہ سب کے لئے ہے اور وہ اپنے وعدہ کے مطابق ہر اس شخص کو نوازتا ہے جواس کے فرمان پر شعوری یا غیر شعوری طور پر عمل کرتا ہے۔اور اسلام کے علم بر دار دوسروں کی محنت و کاوش پر اکڑ تے ہیں کہ اسلام نے یہ چودہ،پندرہ سو سال پہلے خبر دے دی تھی۔قرآن پاک کی تفسیر تو سائنس کر رہی ہے بلکہ سائنس ہی قرآن پاک کی عملی تفسیر ہے۔

مفسرین نے اپنے اپنے انداز میں قرآن مجید کی تشریح کی ہے اور سب کا نکتہ نگاہ الگ الگ ہے کیونکہ ہر مفسر اپنے مکتبہ فکر یا دائرے میں ر ہ کرقرآن کریم کی تشریح کرتا ہے اسی کو کہتے ہیں خود تو بدلتے نہیں قرآن کریم کو بدل دیتے ہیں۔کوئی مفسر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اس کی تفسیر الہامی ہے،جب الہامی نہیں تو ظاہر ہے کہ اس کا ذاتی یا اس کے مکتبہ فکر یا فرقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے کا نظریہ ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور وہ غلط ہو سکتا ہے۔

اب انتہائی مختصر طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ کیسےسائنس قرآن پاک کی تفسیر کر رہی ہے۔بے شمار پیشن گوئیاں  قرآن کریم میں موجود ہیں جن میں سےمضمون کی طوالت کی وجہ سے چند ایک کا ذکر ہی ہو سکتا ہے۔سورۃ تکویر آیت 5 { 5:81} میں ہے کہ ” دس ماہ کی گابھن یا حاملہ اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی”، مراد یہ کہ ان کہ قدر کم ہو جائے گی ۔ اونٹ کو صحرا کا جہاز کہتے ہیں کہ صحرا میں یہ باقی تمام جانوروں کی نسبت باربرداری اور سواری کے لئے تیز رفتار ہے اسی لئے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے لیکن قرآن کریم اعلان کر رہا ہے کہ اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی ۔ مفسرین نے اس بات پر غور نہیں کیا اور نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھایا کہ کیسے اور کیوں اونٹ کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔اب تشریح کر رہے ہیں کہ اس آیت میں ریل گاڑی، موٹر اور جہاز کا ذکر ہے۔ ٹھیک ہے تو پھر مانو نا کہ قرآن کریم سائنس ہی ہے۔پھر دینی مدارس اور جامعات میں سائنسی علوم کیوں نہیں پڑھائے جاتے ؟ کیا نہیں چاہتے کہ قرآنی پیشنگوئیاں   پوری ہوں۔قرآن پاک کی سائنسی پیشنگوئیاں  تو اٹل حقیقت ہیں ، جو پوری ہونی ہی ہیں۔ یہ دین کے عَلم بردار بیشک سائنسی علوم کا داخلہ اپنے مدارس اور جامعات میں ممنوع قرار دے دیں اور ان کو اپنے شاگردوں کو نہ پڑھائیں ۔ بے شمار پیشنگوئیاں   قرآن کریم میں موجود ہیں ۔

سورۃ تکویر آیت6{6:81} میں پیشنگوئی   ہے کہ ” اور جب وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں گے” جو موجود دور میں چڑیا گھر کی شکل میں پوری ہوئی اور ہر ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بچے بوڑھے ، عورت مرد چڑیا گھر وں میں سیر کے لئے جاتے ہیں اور جنگلی ،وحشی اور خونخوار جانوروں کے قرب سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور وہ ان کے لئے تفریح کا سامان مہیا کرتے ہیں۔

سورۃتکویر میں ہی آیت 7 {7:81}میں ہے ” جب دریاؤں کے پانیوں کو نکال کر دوسرے دریاؤں یا نہروں میں ملا دیا جائے گا “۔ جو ہمیں نہر زبیدہ کی شکل میں اور دنیا کے مختلف ممالک میں نہری نظام کی شکل میں نظر آتا ہے۔ سورۃ تکویر آیت 11 {7:81}میں ہے ” جب کتابیں پھیلا دی جائیں گی “۔جس کا آغاز پریس کی ایجاد سے ہوا اور اپنے عروج پر ہے۔آسمان کی کھال اتارنا یعنی فضا میں دوسرے سیاروں تک رسائی حاصل کرنا ، جیسے چاند کی تسخیر ، فضائی اسٹیشن قائم کرنا وغیرہ۔جس کا ذکر سورۃ الرحمن  آیت 34 {34:55}میں ہے ” اے جن و انس کے گروہ ، اگر تم طاقت رکھتے ہو تو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگو تو نکل کر دکھاؤ،تو زور کے بغیر ہر گز نہِیں نکل سکتے”۔

اللہ تعالیٰ  قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ سورج اور چاند سے دن رات اور سال کا حساب ہوتا ہے ۔ حساب سائنس ہی کی ایک شاخ ہے اس کی تعلیم بھی قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کی روشنی میں کلینڈر بنایا جاتاہے ، نمازوں کے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں اور روزوں اور حج کا تعین ہوتا ہے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کا ذکر ہے سورۃ رحمن آیت 36 “{36:55} تم پر آگ کا شعلہ گرایا جائے گا اور تانبا بھی گرایا جائے گا اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہ ہو گا “۔پھر قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں جن میں خاص طور پر سورۃ النجم ، المرسلت ، عبس ، الطارق ، الحج اور ا الاحقاف شامل ہیں ان میں انسان کی پیدائش کی مکمل تفصیل دی گئی ہے جو موجودہ سا ئنس نے حرف بحرف سچ ثابت کر دی ہے۔

یہ ہمارا کا م اور فرض تھا کہ نوع انسانی کے آرام اور سہولت کے لئے ایجادات کرتے۔ لیکن ان مدرسوں اور جامعات کے فارغ التحصیل علماء حضرات نے سائنسی علوم کو امت مسلمہ پر حرام کر دیا اور جدید علوم سے بے بہرہ رہ گئے ، الٹا ان مدرسوں اور جامعات نے مسلمانوں کو فرقہ فرقہ اور پارہ پارہ کر دیا اور قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ   کے واضح  حکم سورۃ آل عمران آیت 104:3}104 ” خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ” کو صریحاً نظر انداز کر دیا اور ہر کوئی اپنے تئیں بہترین بن بیٹھا ،جیسا سورۃ روم آیت 33 میں ہے “دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور ہر کوئی اپنے ٹکڑے کو بہترین کہتا ہے”۔

سو تمام سائنسی علوم قرآن عظیم کے تابع ہیں اوران علوم کے حصول کے بغیر قرآن کریم کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ یہ علوم قرآن کریم کی تفسیر کر رہے ہیں اور ان علوم جن کو سائنسی علوم یا دنیاوی علوم کہہ کر مسلمان شجر ممنوعہ قرار دیتے ہیں اور اپنے مدرسوں اور جامعات کو ان سے پاک رکھتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ تمام دینی مدارس اور جامعات میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم بھی پڑھائےجائیں تاکہ وہاں سے فارغ التحصیل علوم حاضر میں ماہر ہوں اور دنیا کی رہنمائی کر سکیں اور بتاسکیں کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اس میں تمام قسم کی ہدایت اور راہنمائی موجود ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے اور قرآن کریم واحد ایک الہامی کتاب ہے جو انسان کی زندگی کے دینی ، معاشرتی، مالی اور سانئسی پہلو پر چلنے اور آگے سے آگے بڑھنے کی راہنمائی کرتی ہے۔