• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • حسن اور فن (فلم اداکارہ محترمہ ریما خان کی نذر )۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

حسن اور فن (فلم اداکارہ محترمہ ریما خان کی نذر )۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کردار ایک :
حسن تابندہ ہےروشن ہے ، ستارہ ہے کہ جو
خود بھی روشن ہے ، جہاں کو بھی خیرہ کرتا ہے
حسن سادہ ہو کہ ہو وضع میں تزئین آرا
حسن تو حسن ہے، اس کا کوئی ثانی ہی نہیں!

کردار دو :
آپ نے ٹھیک کہا، بات تو برحق ہے کہ حسن
خود میں دلکش ہے ،طرحدار ہے، شائستہ ہے
تتلیاں، پھول، کنول، کسم ، چنبیلی، سوسن
حسن رعنائی میں، زیبائی میں کیف آگیں ہے
بات برحق ہے، کہا میں نے، مگر غور کریں
تا بکے وضع، تناسب، یہ سندرتا، شوبھا؟
صبح سے شام تلک؟ بس یہی، دو چار ہی دن؟
کم بقا، عارضی۔۔ہے حسن شہاب ِ ثاقب!

کردار ایک :
پھر، بھلا، اس کے مقابل ہے کوئی چیز، جناب؟
جو کہ دلکش بھی ہو، شائستہ بھی ، آراستہ بھی
اور کافور صفت بھی نہ ہو کہ آئے، جائے
جس طرح کوئی حسیں چہرہ ، قلو پطرہ سا
جیسے اک حسن ِ مثالی ہو۔۔کوئی نور جہاں؟

کردار دو:
ہے یقیناً ۔۔ اسے پہچاننا لاز م ہو گا
کیا کبھی آپ نے وینس کا مجسمہ دیکھا؟
کیا کبھی آپ اجنتا میں ، ایلورہ میں گئے؟
بت تراشی کے جہاں رکھے ہیں نادرشہکار
یہ فریسکو، یہ ارژنگ، منقش پنڈول
خوبصورت بھی ہیں اور ما بقا، پائندہ بھی!

کردار ایک
حسن زندہ ہے اگر آج تو فن کل تک ہے
کم بقا ، عارضی اور دیر پا گر مل جائیں
صدیوں تک پھیلا ہوا حسن اور فن کا یہ ملاپ
تا قیامت رہے یہ قائم و دائم، مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی تنظیم “سول” S.O.U.L
کی ماہانہ نشست مورخہ 29 ستمبر 2019 میں معروف فلم اداکارہ
ریما خان صاحبہ کو پیش کی گئی نظم ۔۔ اس حوالے سے کہ وہ حسن اور فن کے امتزاج کی ایک مثال ہیں!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *