اسلامی خلافت ۔ سلطنتِ عثمانیہ (6)۔۔وہاراامباکر

سلطان عبدالحمید دوئم آخری بااختیار سلطان تھے۔ تاریخ نے انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا۔ جس طرح سلطان سلیمان کو مغربی مورخین نے بہترین سلطان کہا ہے اور magnificent کہہ کر یاد کیا ہے، وہاں عبدالحمید کا معاملہ برعکس ہے۔ ان کے لئے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ damned کا ہے۔ یا پھر سرخ سلطان کا۔ ایسی سلطنت کا ظالم اور خبطی سربراہ جس کے دن تھوڑے رہ گئے تھے۔ 1876 سے 1909 تک سلطان رہنے والے عبدالحمید دوئم جدید ترکی میں ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ کسی کمالسٹ سے پوچھا جائے کہ عثمانی سلطنت کی تمام خرابیوں کو ایک لفظ میں بیان کریں تو وہ لفظ عبدالمحمید ہو گا جن کے شرمناک برسوں کو صاف کرنا مصطفٰے کمال کی سب سے بڑی کامیابی تھی جبکہ دائیں بازو کی جنونیوں میں ایسے مداح بھی ملیں گے جن کے لئے عبدالمجید بڑے ہیرو ہوں گے، جنہوں نے اصلاحات جیسے جنجھٹ اور نئے تجربات کو ختم کیا اور اسلامی تشخص قائم کیا۔عثمانی سلطنت کیا تھی؟ بہت سے لوگوں کے لئے اس کا تاثر صرف سلطان عبدالحمید کے دور کا ہے۔

ناقدین میں ایک طرف عبدالحمید کے سیکولر مخالف یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مذہبی جنونیت کو پھیلایا۔ دوسری طرف ترک سائنس مخالف مصنف ہارون یحییٰ (عدنان اوکتار ) لکھتے ہیں کہ “سلطان عبدالحمید نے ڈارون کے نظریہ ارتقا کی تعلیم کو سلطنت میں پھیلا کر اسلام کو کمزور کیا اور ان کی پھیلائی مادہ پرست سوچ نے سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا”۔ ایک طرف انکو اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف باہیا فرحت لکھتے ہیں کہ “عبدالحمید نے فلسطین پر صیہونی تسلط قائم کروانے کردار ادا کیا”۔ سلطان عبدالحمید دوئم کون تھے؟ انکو سمجھنے کے لئے ان کے وقت کو سمجھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ عبدالمجید کی مثال ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کو پرکھنے کے لئے اس وقت کے تناظر سے واقفیت ضروری ہے نہ کہ کسی بھی خاص ماڈرن ایجنڈا کو سپورٹ کرنے کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین برِاعظموں پر پھیلی صدیوں پرانی طاقتور سپرپاور انحطاط کا شکار تھی۔ یورپی علاقے چھن جانے کا مطلب یہ تھا کہ سلطنت میں غیرمسلم آبادیوں کی اکثریت سلطنت کا حصہ نہیں رہی تھی۔ ماسوائے آرمینیا اور گریس کے، تمام علاقے مسلم اکثریت والے تھے۔ سلطان کی اپنی طاقت زوال کا شکار تھی۔ یکے بعد دیگرے دو سلطانوں کو عہدے سے ہٹایا جا چکا تھا۔ یہ سب تبدیلی بہت جلد آئی تھی۔ ایک نئے تشخص اور فارمیٹ کی ضرورت تھی۔ یہاں پر انہوں نے اسلام کو سیمنٹ کے طور پر استعمال کیا۔

عبدالحمید کو ڈرامہ اور یورپی موسیقی پسند تھی۔ انہوں نے یلدیز میں اپنے محل میں تھیٹر بنوایا تھا کہ اس سے لطف الدوز ہو سکیں۔ یہاں اطالوی موسیقار پرفارم کرتے تھے۔ شرلاک ہومز کا کردار پسند تھا اور سونے سے پہلے ان کی کہانیوں کو پڑھا کرتے تھے۔ جوڑ توڑ کے ماہر ایک زیرک اور موقع شناس سیاستدان تھے۔ جب وہ سلطان نہیں تھے تو انہوں نے درِپردہ اسٹیبلشمنٹ کو عندیہ دیا تھا کہ سلطان بن کر وہ جلد آئین بنانے کی حمایت کریں گے۔ سلطان مراد پنجم کو برطرف کر کے ان کے سلطان بنائے جانے کی یہ ایک بڑی وجہ تھی۔ سلطان بننے کے تین ماہ بعد، انہوں نے عثمانی آئین کا اعلان کر دیا اور پہلی عثمانی پارلیمنٹ قائم کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی دور کے ایک کردار مدحت پاشا ہیں جو برسوں تک آئین بنانے کی تحریک میں سرگرم رہے۔ وہ جس علاقے کے گورنر رہے، وہاں پر مخالفت اور تنقید کے باوجود اصلاحات نافذ کیں۔ پچھلے دو سلطانوں کو ہٹانے میں ان کا اہم کردار رہا تھا۔ عبدالحمید نے سلطان بننے کے چار روز بعد مدحت پاشا کو وزیرِ اعظم بنا دیا۔ چھ ہفتے بعد مدحت معزول کئے جا چکے تھے اور جلا وطن ہو گئے تھے۔ آئین کو 14 فروری 1878 کو معطل کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کو بننے کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ اسے تحلیل کر دیا گیا۔ عبدالحمید کی ترجیح باقی ماندہ عثمانی سلطنت کو ہر قیمت پر یکجا رکھنا تھا۔

ان کے اقدامات کے بعد ان کے بھائی اور چراغاں محل میں گرفتار مراد پنجم کو واپس تخت پر لانے کی کوشش کی گئی۔ 20 مئی 1878 کو مراد پنجم منصوبے سے واقف اور خلیفہ بننے کے لئے لباس پہنے انتظار میں بیٹھے تھے لیکن اس بار کوشش ناکام رہی۔ اس منصوبے میں شامل لوگوں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ مراد پنجم کو سخت قیدِ تنہائی دے دی گئی۔ ویسی ہی جیسے مراد کے اپنے دور میں اس سے پچھلے سلطان عبدالعزیز کو دی گئی تھی ۔ اس میں گزارے گئے ہفتوں میں سوائے موت کے انتظار کے اور کچھ بھی کرنے کو نہیں تھا۔ یہاں تک کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی بھی نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان عبدالحمید نے روس کے ساتھ امن معاہدے کو اسلام اور عثمانیوں کے خلاف سازش قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت سلطنت کا آٹھ فیصد علاقہ اور بیس فیصد آبادی الگ ہو گئی تھی۔ ان کے خیال میں ملک کو یکجہتی اور مضبوط لیڈر کی ضرورت تھی اور تنظیمات (اصلاح پسندی) والی عثمانیت اس کا حل نہیں تھی۔ نئی یورپی فکر مقامی سطح پر علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہی تھی۔ عالمی نمائشوں میں حصہ لینے جیسے اقدامات سے عظیم سلطنت کا مذاق اڑنے کا اندیشہ تھا۔

عثمانی سلطان اپنے لئے خلیفہ کا لقب سولہویں صدی میں سلیم اول کے دور میں عباسی خلیفہ کی گرفتاری کے بعد سے استعمال کرتے آ رہے تھے لیکن عبدالحمید سے پہلے اس لقب کے بارے میں زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی گئی تھی۔ عبدالحمید کے لئے خلیفہ کی پوزیشن سلطان سے زیادہ اہم تھی۔

عبدالحمید کو ایک اور خدشہ بھی تھا اور وہ عرب تھے۔ نہ صرف عرب علیحدگی پسند تحریک اٹھ سکتی تھی بلکہ وہ خلافت کے دعوے کو بھی چیلنج کر سکتے تھے۔ مصر میں 1881 میں عوامی حمایت سے ہونے والی عسکری بغاوت اس کی مثال تھی۔ برطانوی ایسی تحریک کی پشت پناہی کر سکتے تھے۔ عبدالحمید کا خوف بے جا نہیں تھا۔ حجاز میں ان کے نمائندے شریف حسین نے ان کے اقتدار کے آغاز میں برطانویوں سے رابطے کئے تھے۔ انیسویں صدی میں مکہ اور مدینہ کو وہابی قبضے سے چھڑوانے میں مہمت علی نے مدد کی تھی۔ حجاز پر قبضہ رکھنا ضروری تھا۔ اگر یہ ہاتھ سے نکل جاتا تو استنبول کے سلطان کو خلافت کا ٹائٹل استعمال کرنے پر سوال کھڑے ہو سکتے تھے۔ عربوں کی حالت عثمانی دور میں پسماندہ رہی تھی۔ بدو قبائل سلطنت کے وفادار نہیں سمجھے جاتے تھے۔

حجاز میں گورنر عثمان نوری پاشا نے انفراسٹرکچر کی طرف 1880 کی دہائی میں توجہ دینا شروع کی۔ ترقیاتی کام، مکہ میں پانی کے نظام کی تعمیر اور مرمت، صوبائی کیلنڈروں کی چھپوائی۔ عرب صوبوں کے گورنروں کی تنخواہیں بڑھائی گئیں۔ سرکاری رجسٹروں میں عرب صوبوں کا نام بلقان اور اناطولیہ سے آگے کر دیا گیا۔ 1900 سے 1908 کے درمیان دمشق سے مدینہ تک حجاز ریلوے بچھائی گئی، جس سے عمرہ و حج کا سفر پہلے سے بہت آسان ہو گیا۔

شاہی محل میں پہلی بار عربوں کو جگہ دی گئی۔ شام میں عرب نیشنلزم اور پین عرب ازم ابھر رہا تھا۔ اس سے نمٹنے کے لئے شام کے پریس سے نکلنے والی کسی بھی تحریر کی سنسرشپ سے کلئیرنس استبول سے کروانا لازمی قرار پایا۔ “نہ شامی، نہ عرب، صرف مسلم”۔ اس موثر نعرے اور پالیسی کے لئے ابو الہدیٰ السیدی جیسے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔

عبدالحمید نے سلطان کے لوگوں سے رابطے کی پالیسی بھی بدل دی۔ ان کو اپنے ہٹائے جانے کا خوف رہا اور یہ بھی بے جا نہ تھا۔ ان کے خلاف 1895، 1896 اور 1902 میں ہٹائے جانے کی کوشش ہوئی۔ اور ان کو قتل کئے جانے کے منصوبے 1899 اور 1905 میں پکڑے گئے۔

غیرعثمانی مسلمانوں کو خلافت کو تسلیم کرنے کی اپیل کی جاتی رہی۔ مسلمان آبادیوں کے کئی بڑے مراکز کبھی عثمانی سطنت کا حصہ نہیں رہے۔ سابقہ سلطان خلافت کے ٹائٹل کو باقی دنیا پر اپنے سیاسی اثر اور مفاد کے لئے استعمال کرتے رہے۔ مثلاً، جب ہندستان میں 1857 کی جنگِ آزادی ہوئی تو برطانویوں نے اس وقت کے خلیفہ عبدالمجید کو کہا تھا کہ وہ ان کی مدد کریں۔ عبدالمجید نے برٹش سرکار سے تعاون کرتے ہوئے ہندوستانیوں کے نام خط لکھا تھا جو ہندستان کی مساجد میں پڑھا گیا کہ ہندستانی مسلمان برطانوی راج سے بغاوت کا راستہ ترک کر دیں۔ عبدالحمید نے “سلطان پہلے” کی اس پالیسی کو تبدیل کرکے “خلیفہ پہلے” میں تبدیل کیا۔

عثمانی سلطنت نے 1903 میں پلان کیا کہ خلافت کے 400 سال مکمل ہونے پر دنیا بھر سے مسلمان لیڈروں کو بلا کر کانفرنس کی جائے گی۔ اس میں آسٹریلیا، چین، روس تک کے راہنماوٗں کو شامل کیا جائے۔ ایسی کوئی تقریب پہلے نہیں ہوئی تھی۔ اس کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں لیکن پہلی جنگِ عظیم چھڑ جانے کی وجہ سے یہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی سلطنت کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت تھا۔ سلطان عبدالحمید کے دور میں حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ بجٹ کا 60 فیصد سے زیادہ فوج اور بیوروکریسی پر نکل جاتا تھا۔ 30 فیصد سے زیادہ قرض اتارنے پر جبکہ کُل صرف پانچ فیصد تھا جو تعلیم، صحت، زراعت، تجارت اور ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوتا تھا۔

وزیرِ اعظم کا عہدہ غیرمستحکم رہا۔ عبدالحمید نے اپنے پہلے چھ برسوں میں 16 وزیرِ اعظم بدلے۔ اس کے بعد نسبتاً ٹھہراوٗ آ گیا۔ مہمت سید پاشا، مہمت کامل پاشا، احمد سوات پاشا، حلیل رفعت پاشا اور مہمت فرید پاشا زیادہ دیر وزیرِ اعظم رہے۔ اگرچہ سلطان سے بحث کی اجازت تھی لیکن سلطان کے آخری فیصلے سے اتفاق نہ کرنے کا مطلب عہدے سے برخواستگی تھا۔ سلطان کے ساتھ بغیر سوال کئے شخصی وفاداری کسی بھی سرکاری عہدیدار کے لئے لازم تھی اور سر کو گردن پر سلامت رکھنے کے لئے ضروری بھی۔

عبدالحمید کا خیال تھا کہ بلقان صوبوں کے الگ ہونے کی وجہ طاقت کا مرکز میں اکٹھا نہ رکھنے کی پالیسی تھی۔ بغاوت کی کسی بھی علامت کو سختی سے نمٹ لینے اور کوئی رعایت نہ دینے کی پالیسی البانیہ میں کامیاب رہی۔ حریت پسند البانیہ لیگ کو سلطان کی آرمی نے 1881 میں کچل دیا۔ کُردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے غیررسمی “حمیدی” فوج استعمال کی۔ حمیدی اور آرمینا کے درمیان 1895 میں جھڑپیں ہوئی اور اگلے برس میں آرمینن، کرد اور ترک ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ 1897 میں گریس کے شاہ جارج نے جب کریٹ لینے کے لئے حملہ کیا تو جرمنی سے اتحاد کر کے گریس کو شکستِ فاش دی اور امن کے بدلے بھاری معاوضہ حاصل کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی انٹلکچوئل عبدالحمید کے مقاصد کے حق میں تھے لیکن طریقوں کے حق میں بالکل نہیں۔ شخصی آمریت کا یہ طریقہ کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ رومانٹک لبرل، مذہبی علماء، آئین پسند، سرکاری آفیشل ۔۔۔ سبھی اس سے خائف تھے۔ 1889 میں ایک ملٹری میڈیکل کالج میں ایک خفیہ تنظیم بنی جس کا مقصد پارلیمنٹ اور آئین کی بحالی تھا۔ یہ سوسائٹی پکڑی گئی اور اس کے ممبران کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ عبدالحمید کی حکومت کے خلاف اس تنظیم سے تعلق رکھنے والوں مختلف دھڑوں نے ملکر 1894 میں تنظیم بنائی جو “اتحاد اور ترقی کی کمیٹی” تھی۔ سی یو پی کہلانے والی یہ تنظیم “نوجوان ترک” سے مشہور ہوئی۔ اس میں ہر طرح کے مذہبی اور نسلی پس منظر کے لوگ شامل تھے۔سلطان عبدالحمید بڑی حد تک سی یو پی کی کاروائیاں روکنے میں کامیاب رہے۔ 1902 میں نوجوان ترکوں کی پیرس میں کانفرنس سلطان کے اختیارات کے خلاف اٹھنے والی پہلی منظم سیاسی تحریک تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *